جناح نے رتی کا رشتہ ان کے باپ سے مانگا جسے ناگواری کے ساتھ مسترد کر دیا گیا۔ مگر۔۔۔۔

قسط نمبر jinnah n ratti2:
شیلا ریڈی
وہ رتی کو اپنے انگلینڈ پہنچنے اور وہاں کے نامانوس کلچر میں خود کو اجنبی محسوس کرنے کے واقعات سناتے ، جو اس سے پہلے اُنہوں نے کبھی کسی کو نہیں سنائے تھے ۔ رتی بڑے شوق سے ان کی یہ ساری باتیں سنتیں کہ کبھی کبھار وہ اپنی تنہائی سے کس قدر خوف زدہ ہوجایا کرتے تھے اور بورڈنگ ہاؤس کے کمرے میں پہلی رات وہ اس وقت کیسے ڈرگئے تھے جب ان کا پاؤں اچانک بستر میں رکھی ہوئی گرم پانی کی بوتل ٹکرا گیاتھا۔ اس وقت وہ اچھل کر بستر سے بھاگے تھے ۔ جو لوگ محمد علی جناح کو جانتے تھے ، اس بات سے واقف تھے کہ کس طرح اپنی گفتگو سے اپنے پسندیدہ افراد کومسحور کر لیا کرتے تھے ۔ دھیمی آواز، دلکش مسکراہٹ اور متاثر کن لہجے میں ان کی زبانی دلچسپ واقعات سن کر رتی پہلے سے زیادہ ان سے متاثر ہو جاتیں ۔
یہ بتانا البتہ ذرا مشکل ہے کہ رتی نے ان پر کیا جادو کیا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ دلکش تھیں ، زندہ دل اور پُر جوش تھیں ، تا ہم وہ محمدعلی جناح ؒ کے مزاج کی نہیں تھیں اور محمد علی جناح ؒ کامزاج یہ تھا کہ وہ مخلوط پارٹیوں کے دوران بھی اپنا وقت مردوں کے ساتھ سیاست پر گفتگو کر کے گزارنے کو ترجیح دیتے تھے ۔ تاہم اس کایہ مطلب نہیں کہ وہ خواتین کو نظر انداز کرتے تھے بلکہ وہ اُنہیں احترام دیا کرتے تھے ۔ بالخصوص عمر رسیدہ خواتین کے ساتھ وہ انتہائی عزت سے پیش آتے ۔ لیکن اپنی مقبولیت اور وجاہت کے باوجود وہ خواتین کی کمپنی سے زیادہ مردوں کی رفاقت میں خوش رہتے تھے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی تھی جہاں مردوزَن اس وقت تک آپس میں بے تکلف نہیں ہوتے تھے جب تک ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے نہ ہوتا ۔ اس پر رہی سہی کسر ان کی فطری سنجیدگی اور محتاط روی نے پوری کردی تھی جس کے باعث ان کے جونئیر چھاگلہ جیسے مرد بھی ان سے محتاط انداز میں بات چیت کرتے تھے ۔
لیکن رتی کا معاملہ الگ تھا ۔ اپنے لیے ان کی وارفتگی کو محسوس کرکے جناحؒ ہمیشہ اپنی احتیاط پسندی کو ایک جانب رکھ دیا کرتے تھے ۔ رتی کے علاوہ شاید ان کی زندگی میں کوئی ایسا نہ تھا جو کبھی اُنہیں بہلا کر اور کبھی اُکسا کر باتیں کر نے اور ہنسنے پر مجبور کرسکتا ۔ ان کے بارے میں ان کی بیشتر ذاتی با تیں جو سروجنی نائیڈ نے مختصر سوانح عمری کے تعارف میں لکھیں ، وہ اُ نہیں رتی سے معلوم ہوئی تھیں ۔ جیسے کہ خوشحالی کی گود میں پرورش پانا ، کراچی میں اپنی فیملی کا لاڈلا ہونا، ایک مضحکہ خیز زرد رنگ کے کوٹ میں ملبوس ہوکر انگلینڈ روانہ ہونا۔ فیملی کا مالی مشکلات میں مبتلا ہونا، یونیورسٹی کی تعلیم سے محرومی اور پھر دنیا کو اپنی نوجوانی کے عزم و ہمت سے فتح کر نا ، وغیرہ وغیرہ ۔
تاہم ان سے کچھ باتوں کی تاریخیں اور مقامات خلط ملط ہوگئے ہیں ۔ یہ درست ہے محمد علی جناحؒ نے سر ڈنشاسے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تھااور اُ نہیں بے رُخی کے ساتھ مستردکردیا گیا تھا۔ لیکن یہ 1916ء کے موسم گرما میں پیش نہیں آیا تھااور جس مقام پر پیش آیا تھا وہ دار جلنگ نہیں تھا۔1916ء کے موسم گرما میں رتی اپنے والدین کے ہمراہ ایک ہل اسٹیشن پر ضرورتھیں لیکن وہ جگہ دار جلنگ نہیں بلکہ مہا بالیشور تھی جبکہ محمد علی جناح ؒ نے بھی یہ موسم گرماان کے قریب وجوار میں گزراتھالیکن رتی یا ان کے والدین سے ملنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس کی بجائے وہ پونا میں ایک کیس کے سلسلے میں مصروف ہوگئے تھے ۔اور اس دوران گرمیوں کی تعطیلات کا زیادہ تر وقت اُنہوں نے عدالتوں کے چکر کاٹتے گزارا تھا۔ وہ ہتک عزت کا کیس لڑنے میں مصروف تھے جو ان کے قریبی دوست بنجمن گائے ہر نیمن نے دائر کیا تھا۔ بنجمن ، ممبئی کرونیکل کے ایڈیٹر تھے ۔ وہ محمد علی جناح ؒ کے قریبی سیاسی دوست تھے اور لندن میں طالب علمی کے زمانے سے ان کے دوست تھے ۔ ایک بار ان دونوں نے ڈراما طائف کیلئے ایک ساتھ کام کیا تھا۔ ایسے دوست کے لئے محمد علی جناح بخوشی اپنی تعطیلا ت کی قربانی دینے کو تیار تھے تاکہ پونا کی عدالت میں ان کا دفاع کرسکیں۔ تاہم اس دوران اُنہوں نے اس بات کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی کہ مہا بالیشور کے قریب ہونے کے سبب رتی یا ان کے والدین سے ملیں ، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ سر ڈنشا سے کی ان کی قریبی دوستی ایک سال پہلے اس وقت بُری طرح متاثر ہوئی تھی جب رتی سے ان کے رومانس کا آغاز ہوا تھا۔
یہ رومانس درحقیقت 1914ء میں کرسمس کی چھٹیوں کے دوران پروان چڑھا تھاجب محمد علی جناح اپنے قریبی دوست اور وکیل سرفروز شاہ مہتا کے ہمراہ تھے جن کا پونا میں بھی ایک گھر تھا۔ان سردیوں میں پیٹٹ فیملی بھی کرسمس کی چھٹیاں ، اپنے پونا میں واقع گھر میں گزاررہی تھی ، جسے رتی ’’مون سون ریزورٹ ‘‘ کا نام دیا کرتی تھیں ۔ یہ گھر ان کے پہلے گھر کی مانند طویل وعریض تو نہیں تھالیکن یہاں آرام و آسائش کے تمام تر لوازمات موجود تھے اور محمد علی جناح ؒ کے رتی کے ساتھ وقت گزارنے کے خاصے مواقع میسر تھے ۔ اس وقت رتی کی عمر بمشکل پندرہ سال تھی اور وہ اسکول کی تعلیم سے فارغ ہی ہوئی تھیں ۔والدین کے قریبی حلقوں میں ان کی بہت پذیرائی ہوا کرتی تھی ۔ نہ جانے کیا بات تھی کہ اپنے بہت سے نوجوان پرستاروں کو نظراندازکر کے وہ محمدعلی جناحؒ کی طرف متوجہ ہوئی تھیں اور ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھیں ۔ اپنے فیشن ایبل پارسی حلقے کی دیگر لڑکیوں کے برعکس رتی کا مطالعہ وسیع تھا، مزاج شاعرانہ تھا اور وہ سیاست میں بھی خاص دلچسپی رکھتی تھیں اور محمد علی جناح ؒ بلا شبہ ایک منفرد انسان تھے جن سے رتی کو ان کی چھٹیوں میں ملنے کا اتفاق ہواتھا۔ اُ نہوں نے بڑی خوش خلقی سے رتی کو قریب سے اپنا مطالعہ کرنے کا موقع دیا تھا اور ان کے لیے انتہائی پُرکشش ثابت ہوئے تھے ۔ پیٹٹ فیملی شوقیہ ڈراموں کی شیدائی تھی اور ان میں پرفارم بھی کرتی تھیں ۔ وہ اپنی پرفامنسز میں محمد علی جناح ؒ کو ضرور شریک کرتے ، جو ڈراما بہت اچھا پڑھتے تھے اور خوشی خوشی ان کے ساتھ شریک ہوا کرتے تھے ۔ ایسے میں رتی کو ان کا ایک مختلف روپ دیکھنے کا موقع ملتا تھا جو کم لوگوں نے ہی دیکھا تھا۔
پیٹٹ فیملی کو گھڑ سواری کا بھی بہت شوق تھا۔ چھٹیوں کے دوران وہ اپنے گھوڑوں کو لے جایا کرتے تھے ۔ گھڑ سواری میں محمدعلی جناح ؒ خاصے ماہر تھے ۔ یہ واحد مشغلہ تھا جس سے وہ بے حد وہ لطف اندوز ہوتے اور بلےئرڈ کے علاوہ یہ واحد کھیل تھا جس میں وہ دلچسپی رکھتے تھے ۔ تعطیلات کے دوران یہ مشاغل ایسے تھے جن کے باعث اُنہیں گھر کے اندر اور باہر وقت گزارنے کا خاصا موقع مل جاتا تھا اور اس پر رتی کے والدین کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ عین ممکن ہے کہ محمد علی جناح ؒ کے عمر رسیدہ پارسی دوست سر فیروز شاہ جو خاصے آزاد خیال واقع ہوئے تھے ، قومیت اور عمر کے فرق کو اہمیت نہ دیتے ہوں ۔ اُنہوں نے خود بھی خاصی دیر سے شادی کی تھی ، جس کے صرف چھ برس بعد وہ دنیا سے چل بسے تھے ۔اُنہوں نے ممکنہ طور پر محمد علی جناح ؒ کی حوصلہ افزائی کی ہوگی کہ وہ سر ڈنشا کے پاس اپنا پر وپوزل لے کر جائیں کیونکہ محمد علی جناح ؒ اپنے تمام تر اعتماد کے باوجود اس باوجود اس قدر بے باک واقع ہوئے تھے کہ از خود سر ڈنشا کے پاس پہنچ جاتے اور ان سے اپنا حالِ دل بیان کردیتے ۔
محمدعلی جناح ؒ ، رتی کو ان کے بچپن سے جانتے تھے بلکہ اس وقت سے جب 20ء اپریل 1900ء کو وہ پیدا ہوئیں ۔ اس وقت وہ ممبئی پریذیڈنسی میں مجسٹریٹ مقرر ہوئے تھے اور تب ہی ان کی واقفیت پیٹٹ فیملی سے ہوئی تھی لیکن وہ رتی سے بالکل دوستانہ انداز میں پیش آتے ۔ اس طرح وہ اپنی فطری کشش کے باعث اس نو عمر لڑکی کے دل میں اپنے لیے ایک بری جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔ وہ جب ان سے بات کرتے تو اپنی بڑائی جتائے بغیر اس طرح کا طرز عمل اختیار کرتے کہ جیسے وہ ان کے برابر ہوں ۔پھر جب بطور قانون داں اور سیاست دان ، ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تو وہ رتی سے سیاست اور قومی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے جن پر بات کر نے کی وہ بے حد شوقین تھیں اور بلاشبہ محمد علی جناح ؒ سے بے حد متا ثر بھی تھیں ۔
رتی اپنی آنٹی ہما بائی پیٹٹ کے ساتھ رہنا پسند کرتی تھیں جو ایک معروف فلاحی کا رکن اور ارب پتی خاتون تھیں ۔ وہ رتی کے والد کی اکلوتی بہن تھیں ۔ ان کے ہمراہ رتی ،محمد علی جناحؒ کے طویل پبلک لیکچرز بڑے تحمل کے ساتھ سنا کر تیں جن سے ان کے ہم عمر نوجوان دور بھاگتے تھے ۔ یہی وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے رتی کو دوسری لڑکی سے منفرد کردیا تھا ۔ انہیں خود نمائی کا شوق تھا اور نہ اپنے پرستاروں سے فلرٹ کر نے کی عادت ۔۔۔ وہ اپنے امیدواروں کی لمبی قطار میں کسی سے متا ثر نہیں تھیں بلکہ وہ ان پر ہنستی تھیں ۔ ان پر توجہ دینے کی بجائے سیاست اور قومی ترقی جیسے مسائل پر توجہ دیتی تھیں ، وہ بڑی باریک بینی سے اخبارت کا مطالعہ کرتیں اور اپنی عمر سے کہیں بڑے افراد کے مقابلے میں دنیا کے بارے میں زیاد ہ علم رکھتی تھیں ۔ ملکی سیاست میں وہ ذاتی دلچسپی رکھتی تھیں ۔
ان کے تا عمر پرستار کا نجی دوار کا داس کا ان کے بارے میں کہنا تھا کہ رتی انتہائی ذہین اور متوازن شخصیت کی مالک تھیں ، جن کا علم اور مطالعہ وسیع تھا، یہی نہیں بلکہ وہ قیافہ شناس بھی تھیں اور اُنہیں ہر بات جانے لینے کی جستجو تھی ۔ محمد علی جناح ؒ ہمیشہ ایسے نوجوان کو پسند کرتے تھے جو ان کے سامنے سر اُٹھا کر بات کرسکیں اور رتی میں اُنہوں نے وہ بے خوفی دیکھی تھی جو وہ خود ان کی اپنی شخصیت کا خا صہ تھا اوروہ جراتمندی پائی تھی جو خود رتی کا خاصہ تھی اور اُنہیں بڑی بڑی شہزادیوں اور نواب زادیوں کے مقابلے میں ممتاز کر تی تھیں ۔
دو سال تک دنیا والوں کو تجسس میں مبتلا رکھنے کے بعد بالآخر قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپریل 1918ء کی ایک گرم شام کو رتی پیٹٹ سے شادی کرلی ، جو امیر کبیر پارسی نواب کی اکلوتی بیٹی تھیں ۔ محمد علی جناح ؒ اس وقت تقریباََ بیالیس سال کے تھے اور ملک کے بہترین قانون دانوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ایک نمایاں مسلم سیاست دان بھی تھے اور کانگریس کے اہم ترین لیڈر بھی مانے جاتے تھے ۔ گو کہ اس سے پہلے انہوں نے شادی کے بارے میں سوچابھی نہیں تھابالخصوص ایک امیر اور ماڈرن لڑکی کے ساتھ جو عمر میں ان سے نصف سے بھی کم تھی ، تا ہم جب انہوں نے ایک بار طے کرلیا کہ رتی سے شادی کریں گے تو پھر مستقل مزاجی کے ساتھ اس پر قائم رہے ۔ اپنے اس فیصلے پر عمل کرنے کیلئے انہوں نے بڑ ی خوش اسلوبی کے ساتھ راستے میں آنے ولی مشکلات کو عبور کیا اور ہر قدم کو اپنے انداز سے طے کیا۔
( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *