وہابی بازار، بریلوی ورکشاپ ، دیوبندی قبرستان

hafiz yousuf saraj
وہ نیا نیا پاکستان آیا تھا یاشاید کیا تھا، پامال سے لہجے میں کہنےلگا:
" میری گاڑی خراب ہے، تین دن ہوگئے ورکشاپ ڈھونڈتے مگر مجھے ایک بھی ورکشاپ نہیں ملی۔ "
مجھے اس کی بے چارگی اور لا علمی پر افسوس ہوا۔ اتنی شاندار گاڑی کا مالک اور شکل و شباہت سے جہاندیدہ لگتا تھا، مگر وہ شہر کی کسی ورکشاپ کا پتا بھی  نہ جانتا تھا۔
مجھے اس پر ترس آیا ، خیر میں نے اسے شہر کی چند مشہور ورکشاپس کا پتا بتا دیا۔
"یہ تو میرے علم میں ہیں مگر ۔۔"
مگر کیا؟
میں نے حیرت سے اسے ٹوکتے ہوئے پوچھاکہ اگر اسے پتا تھا تو تین دن سے اسے کیا نہ ملا تھا؟
"دراصل میں کوئی بریلوی ورکشاپ ڈھونڈ رہا ہوں۔"
بریلوی ورکشاپ؟ یہ کسی خاص ورکشاپ کا نام ہے؟ میں نے پوچھا
"نام نہیں،میں بریلوی مسلک کی ورکشاپ ڈھونڈ رہا ہوں!"
اس نے بتایا۔
نہیں معلوم وہ خود الجھا تھایا مجھے الجھا رہا تھا۔ خیر میں نے پوچھا
بریلوی مسلک کی ورکشاپ ہی کیوں؟ آپ کو گاڑی ٹھیک کروانا ہے تو وہ کسی بھی ورکشاپ سے ہوجائے گی۔ پھر ہمارے ہاں مسلکوں کے حساب سے ورکشاپس ہوتی بھی نہیں۔
 میں نے اسے بتایا تو وہ کہنے لگا۔
"نہیں، دراصل جہاں سے میں آیا ہوں، وہاں کی ورکشاپ ایک بریلوی بھائی کی تھی، وہ اچھا کام کرتا تھا، میں اس کے کام سے متاثر ہوا ۔ چنانچہ میں یہاں بھی کسی بریلوی مسلک کی ورکشاپ سے ہی کام کروانا چاہتا ہوں۔اور ہاں تم مجھے معقول آدمی ملے ہو، میں نے آپ سے پہلے کئی لوگوں سے بات کی مگر سبھی نے ہنس کے مجھے اگنور کر دیا، دراصل میں وہابی بازار سے چند چیزیں بھی خریدنا چاہتا ہوں، اور ہاں میں دیو بندی قبرستان بھی جانا چاہتا ہوں، میرا ایک پاکستانی دوست دیو بندی تھا، بڑا اچھا تھا، پچھلے دنوں پتا چلا وہ فوت ہوگیا، اب میں یہاں آیا ہوں تو چاہتا ہوں کہ اس کیلیے prayer بھی کرتا جاؤں۔"
اب میری ہنسنے کی باری تھی، عجیب شخص تھا اور عجیب اس کی تلاش تھی۔ خیر میں نے اسے بتایا:
بریلوی ورکشاپ، وہابی بازار اور دیوبندی قبرستان۔۔۔۔
ایسا آپ کو کہیں بھی کچھ نہیں ملے گا، بہتر ہوگا کہ آپ کسی بھی ورکشاپ سے گاڑی ٹھیک کروا لیں اور کسی بھی بازار سے سودا سلف خرید لیں اور شہر کے واحد قبرستان جاکے اپنے دوست کی قبر پر دعا کر لیں۔
" تو کیا تمھارا معاشرہ مسلکوں میں منقسم ہو کر الگ الگ نہیں رہتا؟ اس نے تجسس اور حیرت سے پوچھا۔
میں نے اسے بتایا
 ہم اگرچہ بریلوی، وہابی اور دیوبندی ہوتے ہیں پر اکٹھے ہی رہتے ہیں، ہم اکٹھے ایک دفتر میں کام کر لیتے ہیں، ہم ایک سکول کالج اور یونیورسٹی سے اکٹھے تعلیم بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ ہم ایک ہی ورکشاپ سے کام کرواتے اور ایک ہی جنرل سٹور سے سودا سلف خرید لیتے ہیں، ہم ایک ہی پارک میں سیر کو جاتے اور ایک ہی میدان میں کھیل بھی لیتے ہیں۔ ہم ایک ہی بازار سے شاپنگ کرتے ،ایک ہی ہسپتال سے علاج کراتے اور ایک ہی ہوٹل سے کھانا بھی کھا لیتے ہیں۔ ہم ایک ہی محلے گلی ٹاؤن سوسائٹی میں رہ لیتے اور ایک ہی جگہ سب دوست اکٹھے ہو کر گپ شب کر لیتے ہیں۔ ہم ایک جگہ اکٹھے ہو کر ایک دوسرے کے جنازے پڑھ لیتے اور ایک ہی قبرستان میں اپنی میتیں دفن کر آتے ہیں۔ ہاں ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ہمارے کسی مولوی صاحب کا موڈ ہو تو وہ کہہ دیتا  ہے، جنازہ پڑھنے والے جو لوگ میت کے ہم مسلک نہیں تھے ، ان سب کا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔
" مگر میت کا جنازہ گھر بیٹھی بیوی کے نکاح پر کیسے اثر ڈال جاتا ہے؟ اسے شاید حیرت ہوئی تھی۔
نکاح اورجنازے میں کنکشن کا تو پتا نہیں کہ کیا ہے، پر کبھی مولوی صاحب کا موڈ نہ ہو تو وہ نکاح ٹوٹنے والی بات نہ کرکے رعایت بھی کر دیتا ہے، لیکن یہ اس کے موڈ پر منحصر ہے۔
"اچھا اگر تمھارا سب کچھ اکٹھا ہے تو پھر تمھارا الگ الگ کیا ہے؟"
 اس نے پوچھا۔
"ہماری صرف مسجدیں الگ ہیں۔"
 میں نے اسےبتایا۔
 اور اب وہ ہنستا جاتا تھا، ہنستا جاتا تھا، بالکل بھی رکتا نہ تھا، بلکہ پاگلوں کی طرح ہنستا ہی جاتا تھا، شاید وہ پاگل ہی تھا۔ یا شاید ہم ہی پاگل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *