اوئے لاہوریو! ووٹ کیوں نہیں دیا؟

afifa virk

چند سالوں بعد جب 2013 اور 2018 کے عام انتخابات کے اسباق مطالعہ پاکستان کی کتابوں کا حصہ بنیں گے یا چند نامی گرامی سیاستدان یا صحافی اپنی آپ بیتیاں لکھنے بیٹھیں گے تووہ ضرور اعتراف کریں گے کہ ان چند سالوں کے دوران ملک میں چند نام نہاد قومی لیڈران کی جانب سے جس قدر نفرت کی پیوندکاری اور پرچار کیا گیا اس کی نظیر ماضی میں ملنا نا ممکن ہے۔وہ ضرور ذکر کریں گے کہ 2013 کے عام انتخابات میں ایک سیاسی نابلد جماعت کے ہاتھ چند سیٹیں کیا لگیں وہ خود کو سیاہ و سفید کا ملک سمجھ بیٹھی۔ایک جماعت کے آمرانہ رویے کے مالک بظاہر من چاہی جمہوریت کے لیے کوشاں ایک جماعت کے سربراہ کی نظر جس منصب پر تھی‘ اس تک رسائی کے لیے وہ کیا اپنے کیا پرائے‘ سب کو یہ کہہ کر روندتاچلا گیا کہ وہ کسی کام کے نہیں تھے۔فی الحال موصوف کے وزارت عظمی تک رسائی کے لیے اٹھائے جانیوالے بے مایا اقدامات پر روشنی ڈالنا مقصود نہیں بلکہ میں لاہورکے NA120 میں ہونیولے ضمنی انتخابات پر بات کرنا چاہتی ہوں اور اس سے بھی پہلے یہ ذکر مناسب سمجھتی ہوں کہ جب مجھ پر میڈیکل پس پشت ڈال کر سیاست پڑھنے کا شوق طاری ہوا تھا تو سوکس کی پہلی کلاس میں جو سبق میں نے پڑھا اس پر ایمان لے آئی میرے استاد نے بتایا جمہوریت عوام کی حکمرانی کا نام ہے ۔بات دل کو لگی تو انٹر میڈیٹ سے ایم اے تک میں نے بیسیوں بار امتحانات میں ابراہم لنکن کا ایک جملہ دھرایا ’’عوام کی حکومت ،عوام کے لیے ،عوام کے ذریعے‘‘۔اگر ہم سب کا اعتقاد ہے کہ ملک میں لولی لنگڑی سہی مگر جمہوریت کام کر رہی ہے تو سب سے پہلے یہ پوچھوں گی عوام کے درجے پر فائز ہونے کا کیا میرٹ ہے؟ کیا لاہور کے باسی عوام کے درجے پر فائز ہیں؟ کیا بھارت میں اچھوت برادری کی طرح لاہوری یہاں شودر ہیں؟کیا 40 امیدواروں میں کسی ایک فرشتہ صفت جماعت کی نامزد امیدوار کو چھوڑ کر من پسند امیدوار کو ووٹ دینے والے ذہنی پستی،غلامی،جہالت کے طعنے کے مستحق ہیں؟کیا لاہور کسی بھارتی صوبے کا دارلحکومت ہے جس کے لیے اس قدر نفرت بھری کمپین کی جارہی تھی؟

imran

کیا ہمارے ہاں جمہوریت صرف خود کی پسندیدہ جماعت کو ووٹ کاسٹ کرنے اور دوسروں سے زبردستی ووٹ کاسٹ کروانے کا نام ہے؟ اپنے ہر ٹویٹ کو خدانخواستہ حدیث مان کر ہر بونگی اور یو ٹرن کا جی جان سے دفاع کرنیوالے ذہنی آزادی جبکہ مخالف جماعت کو ووٹ دینے والے ذہنی غلام ہیں؟کیا ہر وہ بندہ گالی کا مستحق ہے جو ہماری پسندیدہ جماعت کا ووٹر اور سپورٹر نہیں؟ 13 حلقوں پر مشتمل لاہور کو کسی ایک حلقے میں ہارنے کے بعد مجموعی طور پر گالی دینے والے اخلاق کی کس معراج پر براجمان ہیں؟تحریک انصاف والوں کو ایک ہفتہ پہلے ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ NA120 ان کو ایک بار پھر مسترد کرنے جا رہا ہے تو انہوں نے لاہور اور لاہوریوں کو سوشل میڈیا پر ایسے ایسے القابات سے نوازنا شروع کر دیا کہ خدا کی پناہ۔لاہور کی بے عزتی پر احتجاج کرنیوالا ہر بندہ پٹواری،ذہنی غلام ،جاہل،کھوتا خور کہلایا اور اس سعادت سے بہرہ ور کروانیوالے پی ایچ ڈی سکالرز کی تعلیم میں اور اضافہ ہوتا گیاجنہیں یہ تو الہام ہو گیا تھا کہ وہ پھر ہارنے والے ہیں مگر وہ معصوم اور فرشتہ سیرت لوگ یہ پرکھنے سے قاصر رہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عمران خان بیس اکیس سالوں کی خودساختہ بھاگ دوڑاور گزشتہ پانچ سالوں میں روزانہ 4 سے 5 بجے سہ پہر میڈیا ٹاک کر کے بھی لاہورریوں کو قائل کیوں نہیں کر پائے؟لاہور کے ہر ترقی یافتہ منصوبے کی مخالفت کرنیوالے جن انقلاب اور ترقی کی بات کر کے عوام کو متاثر کرنا چاہ رہے تھے ‘ لوگوں کو کھوکھلے نہ لگتے ہوں گے؟لاہور میٹرو پالیٹن سٹی ہے ۔وقت کیساتھ یہاں کا معیار زندگی بدل رہا ہے۔یہاں کے لوگوں کا رہن سہن ناقدین کے صوبوں سے کہیں بہتر ہے۔لاہوری ن لیگ سے مطمئن ہیں یا نہیں اس سے قطع نظر ایک مسلم حقیقت ہے کہ جس حلقے پر اب ہار کے ایک جماعت نتائج رکوانے کی استدعا کر رہی ہے مشرف کے آمرانہ دور حکومت میں بھی اس حلقے نے ن لیگ کے حق میں فیصلہ دیا۔ایک چھوٹی سی مثال ہے ان کے لیے جو سمجھنا چاہتے ہیں جس میٹرو کو مخالفین جنگلا بس کہہ کہ ہدف تنقید بناتے رہے وہ ایک پراجیکٹ لاہوریوں کے لئے لازم و ملزوم ہے۔صرف ایک میٹرو کی بندش پورے شہر کو متاثر کرتی ہے۔لاہور ہر شعبے ہر لحاظ سے بہت تیزی کیساتھ ابھر رہا ہے۔کسی کو شک ہے یا کوئی بھرم ہے تو گالیاں ایک طرف رکھ کر آئے بیٹھے اور بھرپور تقابلی جائزے کے بعد ہم پر ثابت کرے کہ لاہور یوں کا معیار زندگی باقی شہروں سے بہتر ہے کہ نہیں؟ایک لاہوری کی حیثیت سے ووٹنگ سے ایک ہفتہ قبل شروع ہونیوالی سوشل میڈیا پر مخصوص جماعت کی جانب سے اینٹی لاہور مہم میں مجھے بارہا حسرت،یاس اور حسد کی بو آئی۔مجھے رہ رہ کر ایک اور محاورہ یاد آتا رہا جو میں نے انٹرمیڈیٹ سے بھی بہت پہلے کہیں پنجم ہشتم میں پڑھا تھا کہ’’ انگور کھٹے ہیں‘‘۔خود کو قومی لیڈر کہنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں نہ کہ ساری عمر کرکٹ کھیل کر بھی سپورٹس مین سپرٹ سے نابلد نظر آئیں۔قومی سطح کے لیڈر کا کام عوام کے منفی جوش کو ٹھنڈا کرنا ہوتا ہے جبکہ خودساختہ قومی لیڈران جلتی پر تیل ڈال کر ذاتی مفادات سمیٹنے کے در پر ہوتے ہیں۔اصل مسلہ تحریک انصاف کی ہار نہیں بلکہ وہ اخلاقی گراوٹ ہے جس کے ٹیکے لگا کر نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔مجھے تو اب ہر سیاستدان معصوم لگنے لگا ہے۔ اگر ایک کھلاڑی میں ہار قبول کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو باقیوں سے کیا امید رکھنا؟ میری خواہش ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک بار کبھی نہ کبھی تحریک انصاف کو عوام کا فیصلہ خندہ پیشانی سے قبول کر کے دھاندلی دھاندلی کا واویلا کرتے نہ دیکھوں مگر مجھے خدشہ ہے میں تو کیا میری آنیوالی نسل بھی اس سعادت سے محروم ہی رہے گی ۔تو سب چھوڑ کر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ عمران خان کی ممکنہ میڈیا ٹاک پر بات کر لیتے ہیں۔۔اوئے لاہوریو۔۔میری بات سنو ۔۔ہمیں ووٹ کیوں نہیں ڈالا۔تم سب کرپٹ ہو ،اوہ ہاں ہمیں تو آج خیال آیا بہت بڑے لیول پر ووٹیں ڈال کر دھاندلی ہوئی ہے۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *