نواز شریف کا مستقبل

asghar nadeem syed.

یہ ایسا وقت ہے کہ بے شمارسوالات کالم نویسوں اور تجزیہ نگاروں کے پیٹ کی غذا کے لیے کھلے عام سر اٹھا رہے ہیں۔ہر ایک اپنے شعور اور لاشعور کو بروئے کار لاکرانوکھے سے انوکھے قلابے ملا رہا ہے۔کل کلاں کو جس کا’’ٹیوا‘‘ درست نکلا اُس نے دُہائی دینی ہے کہ ’’دیکھا میں نہ کہتا تھا‘‘۔پنجابی میں لفظ’’ٹیوا‘‘ کا اور کوئی بدل نہیں ہے‘ اُردو میں ہم اسے ’’اندازہ‘‘ کہہ سکتے ہیں مگر ’’ٹیوا‘‘ کا جواب نہیں۔ہمارا ملک مسلسل ’’ٹیووں‘‘ پر چل رہا ہے۔آج ہم بھی ’’ٹیووں‘ ‘ کا سہارا لیتے ہیں۔سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ نواز شریف کا مستقبل کیا ہے؟ لیکن ٹھہریں اُس سے پہلے ایک سوال ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مستقبل کیا ہے؟موصوف اتنے مہنگے ہوٹل میں پورے لاؤ لشکر کے ساتھ کس حساب میں براجمان ہوگئے ہیں جبکہ امریکہ کے صدر نے ملنے سے منع کر دیا ہے۔اور پھر اُن کی کون سن رہا ہے؟جو ذرا سا بولنا چاہتا تھا اس کے منہ میں وزارت کی لالی پاپ دے دی ہے۔کیا ایسے میں وہ ملک کے بڑے بڑے فیصلے کرنے کے اہل ہیں یا نہیں؟اُنہیں عوام کا نہیں صرف نواز شریف کا اعتماد حاصل ہے۔مان لیا کہ وہ شریف آدمی ہیں‘ لیکن کیا شریف آدمی کی شرافت کا فائدہ دوسرے نہیں اٹھائیں گے؟جب کوئی بھی وزیرا عظم اچانک ایسے تخت نشین ہوجاتا ہے تو جیسے’’انہے ہتھ بٹیرا‘‘ آجاتا ہے تو پھر بٹیرے کا کیا حال ہوتاہے یہ بٹیرا ہی جانتا ہے۔

Related imageپہلے بھی ’’انہے ہتھ بٹیرا‘‘ کئی لوگوں کے ہاتھ آیا ہے۔۔۔محمد خان جونیجو‘ ظفر اللہ جمالی‘معین قریشی‘ شوکت عزیز اور راجہ پرویز اشرف کی مثالیں سامنے ہیں۔اُن سب کی جو حیثیت تھی وہ سب کو معلوم ہے۔تو کیا شاہد خاقان عباسی کی حیثیت مختلف ہوگی ‘ اور اگر ہوگی تو کیسے ہوگی؟دوسرا سوال یہ ہے کہ بیگم کلثوم نواز کا جیتنا تو برحق ہے‘ کیا وہ حلف اُٹھا سکیں گی؟اللہ کرے وہ جلد صحت یاب ہوکر حلف اٹھا لیں۔تو کیا وہ وزارت عظمیٰ کا حلف بھی اُٹھا پائیں گی؟اللہ کرے ایسا ہوجائے تو کیا پھر وہ بہار کے چیف منسٹر لالو پرشاد کی بیوی رابڑی دیوی کی طرح کامیاب ہوپائیں گی ؟ کیونکہ رابڑی دیوی نے بھینس پالنے کے بعد وزیر اعلیٰ کے طور پر بہت شہرت کمائی تھی۔کیا ہمیں بھی یہ تجربہ کرلینا چاہیے؟اس کے لیے ہم بیگم کلثوم نواز کی صحت کے لیے دعا گو ہیں۔
اب ایک اور سوال بھی سر اُٹھا رہا ہے کہ کیااب مسلم لیگ ن کی قیادت کا ہُما مریم نواز کے کندھے پر بیٹھے گا یا میاں شہباز شریف کی منڈیر پر آئے گا؟یہ ٹیڑھا سوال ہے اور اس کا’’ٹیوے‘‘ قسم کا جواب تو یہ ہے کہ دونوں میں سے کون اس قابل ہے کہ پارٹی کو ٹوٹنے سے بچا سکے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ مریم نواز کو اس کے ’’انکلز‘‘ گود لینے کے لیے بے تاب ہورہے ہیں۔اُن میں ایک بھولا بسرا انکل پیش پیش ہے جس کا نام جاوید ہاشمی ہے اور وہ بہت خوش ہے کہ انکل چوہدری نثار نے ایسے بیان دے ڈالے ہیں کہ مریم نواز شاید اِس انکل کی گود میں نہ آئے اور شائد جاوید ہاشمی مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کے وارثوں میں شامل ہوجائیں۔
یہ جو ’’ٹیوے‘‘ ہوتے ہیں یہ کبھی کبھی ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں۔ مریم نواز اگر خود بچ گئیں تو دیگر انکلز کی مدد سے شہباز شریف کو ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔انکل شہباز شریف میں مینوفیکچرنگ فالٹ ہے‘ وہ ون مین شو کے ماہر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان سے بہتر کوئی نہیں سوچتا۔وہ ٹیلنٹ سے زیادہ بیوروکریٹس پر اعتبار کر تے ہیں۔اس طبیعت کے باعث ان پر تنقید ہوتی ہے لیکن وہ ان تھک اور حد درجہ محنتی ہونے کے ساتھ ساتھMan of all seasons بننے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں۔ کیا وہ اپنے ہونہار بیٹے کے ساتھ پارٹی ممبروں کے دل جیت سکتے ہیں؟یہ اہم سوال ہے‘ اس کے لیے اُنہیں ابھی سے مشق کرنے کی ضرورت ہے۔

Related imageمریم نواز سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو کا واسطہ بھی انکلز سے ہی پڑا تھا۔ انہوں نے بہت ذہانت سے انکلز کے ساتھ نہ صرف ڈیل کیا بلکہ انہیں طریقے طریقے سے سمجھا بھی دیا کہ اب وہ بچی نہیں رہیں۔اول تو محترمہ بے نظیر بھٹو اور مریم نواز کا موازنہ ہوہی نہیں سکتا‘ زمین آسمان کا فرق ہے کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو زمین پر رہتی تھیں اور مریم صاحبہ آسمان کو چھونا چاہتی ہیں۔پھر انکلز انکلز میں بھی فرق ہے‘ محترمہ بے نظیر کے انکلز میں نظریاتی انکلز زیادہ تھے اور مریم نواز کے سارے انکلز تاجر ہیں‘ مالدار ہیں‘ دھندوں پر دھندے کرتے ہیں‘ بزنس ٹائیکون ہیں۔۔۔تو ایسے انکلز کو صرف بزنس دے کر ہی ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔خیر اگر وہ سیاست میں رہیں تو پھر انکلز اُن کے اور وہ انکلز کے کام آسکتی ہیں۔
اب آخری سوال کہ نواز شریف کا مستقبل کیا ہے؟کیا اُنہیں چپ کرادیا گیا ہے؟ یا وہ ماضی کی طرح خود کو Man of crisis سمجھ رہے ہیں؟ یا وہ جاوید ہاشمی ٹائپ بغاوت کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں؟کیا واقعی وہ مشکل حالات میں واپس آنے کا حوصلہ اور رِسک لینے کو تیار ہوں گے کہ سیاسی پنڈت کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ جلدی پاکستان واپس نہ آئے تو پھر قیادت کے قابل نہیں رہیں گے کیونکہ ان کی بہادری کی ’’مِتھ‘‘ دم توڑ جائے گی۔ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ اگر وہ پرویز مشرف کے چُنگل سے آسانی سے پھسل کر سعودی عرب چلے گئے تھے تو اب بھی اس نااہلی کے بحران سے نکل کر واپس آجائیں گے اور پھر سے پارٹی اور اپنے ووٹ بینک کی مدد سے تختِ لاہور اورجاتی اُمراء کی گدی پربراجمان ہوجائیں گے۔ اس کے لیے ان کے پاس اپنی ذاتی نوعیت کی دلیلیں موجود ہیں۔یہ وہ دلیلیں ہیں جو نو من تیل اور رادھا کے ناچنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاًانہیں ماضی کا تجربہ معلوم ہے کہ پرویز مشرف سے یا بے نظیر بھٹو سے این آر او نے اِنہیں اِس قابل کر دیا تھا کہ وہ سعودیہ جانے والا معاہدہ ایک طرف رکھ کر واپس آگئے تھے اور بے نظیر صاحبہ کی شہادت کے بعد ان کے لیے اکثریت سے جیتنے کا موقع سامنے آگیا تھا۔اب کی بار کیا اتنے اتفاقات ہوسکتے ہیں؟

nawaz

مگر صاحبو! نواز شریف سمجھتے ہیں کہ یہ اتفاقات ممکن ہیں۔۔۔ اور وہ کیا ہیں۔۔۔وہ یہ ہیں کہ ان کی پارٹی کے متعلق جو شکوک و شبہات مقتدر حلقوں یا آرمی کو ہیں وہ دور کرلیے جائیں گے‘ اس کام کے لیے کچھ ڈیوٹیاں بھی لگا دی گئی ہیں۔اس کے بعد وقت مقررہ پر جب الیکشن کرالیے جائیں گے تونواز شریف کی پارٹی پھر اکثریت لے لے گی اورپارلیمنٹ سے ایسا قانون منظور کرا لیا جائے گا جس سے شریف فیملی پر لگے داغ دھل جائیں گے اور نواز شریف صاحب پھر سے اقتدار میں آسکیں گے۔اس دوران مریم نواز اگر محفوظ رہیں تووہ پارٹی کوقابو رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گی ۔نواز شریف صاحب جی ٹی روڈ کے مظاہرے کے بعد اس امید پر لندن میں موجود ہیں۔ مگر یہ سب میرے ’’ٹیوے‘‘ ہیں ۔ اُن کی اِس سوچ میں اتنے مفروضے ہیں کہ نومن تیل رادھا کے ناچنے کے لیے کافی نہیں ہے۔۔۔یہ تیل نو سو من میں بدل چکا ہے۔
اب نواز شریف کا مستقبل کیااُن کی خواہشوں پرمنحصر ہے؟اُن کے ووٹ بینک کے سنہری خواب سے جڑا ہے یامستقبل وہ ہوگا جو اُس سازش سے جڑا ہے جس کا بار بار وہ اور اُن کے لوگ ذکر کررہے ہیں؟لیکن پہلے تو نواز شریف کے اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟میں تو یہ جواب ڈھونڈنے سے قاصر ہوں۔۔۔تو پھر کیا اُن کا مستقبل لندن کے ایک اپارٹمنٹ میں ہے یادوبئی کے ساحلوں پر؟اس پر بھی ’’ٹیوہ‘‘ لگایا جاسکتا ہے کہ فی الحال تو’’ٹیووں‘‘ پردنیا بھی قائم ہے اور خواب بھی۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *