انتہا پسندی! اور کتنے چراغ گل کرنا باقی ہیں؟

muhammad ali naqi

مشعال خان کو مذہبی انتہا پسندی کی نذر ہوئے ابھی عرصہ بھی نہیں ہوا کہ چند روز قبل عارف والا میں مسیح برادری سے تعلق رکھنے والا نویں جماعت کا طالب علم کمرہِ جماعت میں طلبہ تشدد کی نذر ہوگیا...!!
مشعال کی ماں نے یہ کہہ کر دل کو رنج والم میں گرفتار کردیا کہ "جب میں نے بیٹے کے ہاتھ چومے تو اس کی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں"
اور شیرون کی ماں کے پُر درد الفاظ عرش و فرش کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں
" اس نے صرف میرے بیٹے کو ہی قتل نہیں کیا بلکہ ہم سب کو مار دیا ہے۔ ہم اپنا پیٹ کاٹ کر اسے پڑھا رہے تھے تاکہ وہ وکیل بننے کا خواب پورا کرسکے، اپنی بہنوں کی شادی کروا سکے"
دیکھو ناں! خوابوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی طبقہ، نہ یہ دولت سے خریدے جاسکتے ہیں اور نہ ہی غربت انہیں آپ سے چھین سکتی ہے...!!
ہاں مگر تعصب خوابوں کا لحاظ نہیں رکھتا اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا، یہ دماغ کو سوچ کی صلاحیت سے محروم کردیتا ہے یہ انسان کو درندہ بنا دیتا ہے...!!

Image result for sheron masih murderکسی کو یاد ہوگا رمشا مسیح کیس جس میں 14سالہ بچی پر قرآن جلانے کا الزام لگایا گیا تھا بعد ازاں معلوم ہوا کہ قرآنی اوراق مسیحی بچی نے نہیں مسلمان مفتی نے خود نذرِ آتش کئے تاکہ مسیحی برادری کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ ملک سے نکل جائیں۔
پھر جوزف کالونی کو آگ لگا کر بعض انتہا پسندوں نے اپنے ایمان کو تسکین پہنچائی
ایک ہجوم نے جنبش لی اور مسیحی جوڑے کو زندہ ہی جلتے ہوئے بھٹے میں ڈال کر ٹھنڈی آہ بھری..
سانحے تو سارے ہی دلخراش ہوتے ہیں لیکن مشعال خان کے قتل نے انسانیت کو شرمسار کردیا اس دفعہ مذہبی جنون کی نذر ہونے والا کوئی اقلیتی برادری سے نہیں بلکہ پاکستان کی اکثریتی کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا سنا ہے مرتے ہوئے مشعال خان کلمہ بھی پڑھ کر سناتا رہا تھا لیکن ہجوم کے کان بہرے ہوچکے تھے اور تعلیمی درسگاہ یہ سب دیکھ کر خاموشی سے روتی رہی۔۔
کاش! تین ستمبر کو شیرون سکول نہ جاتا یہ شیرون بھی کس قدر بدنصیب تھا پہلے روز یونیفارم نہ ہونے کی بنا پر سکول سے نکال دیا گیا دوسرے روزخود چھٹی کرلی کہ لڑکے میرا مذاق اڑاتے ہیں اور تیسرے روز وہ سکول تو گیا لیکن اسی روز اسے ایسا یونیفارم پہنایا گیا کہ نہ تو اب اس کے سامنے لڑکے اس کا مذاق اڑائیں گے اور نہ ہی وہ اپنی مستقل آرام گاہ سے نکال دیا جائے گا-
شیرون! تم وکیل بننا چاہتے تھے لیکن ایک بات سن لو اس ملک میں وکیل اقلیتوں کا کیس لڑنے سے گھبراتے ہیں۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *