جنرل اسمبلی کا اجلاس، وزیرِ اعظم سے درخواست

khalid zahid

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس امریکہ کے شہر نیویارک میں جاری ہے ۔ اس اجلاس میں لگ بھگ ۲۰۰ ممالک کے سربراہ شرکت کر رہے ہیں۔ گزشتہ روزامریکہ کے صدر نے اس اجلاس سے خطاب کیا اور حسب معمول دہشت زدہ کرنے والی تقریر سے اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے سربراہانِ مملکت پر رعب ڈالنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس تقریر میں خصوصی طور پر شمالی کوریا کو انتہائی سخت الفاظ میں تنبیہ کی اور تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ فوجی کاروائی کی دھمکی بھی دے ڈالی دوسری طرف ایران کو مشرق وسطی میں کی جانے والی کاروائیوں سے باز رہنے کو بھی کہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کی دو باتیں اور بھی اہم ہیں جن میں پہلی تو سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ دہرایا اس نعرے کی بنیاد پر ہی وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں اپنے اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں پر نظر ثانی اور دوسری سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان پر کسی قسم کی کوئی تنقید نہیں کی، جبکہ کچھ دن پہلے ہی وہ پاکستان کو دھمکی آمیز پیغام دے چکے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کی جانب سے امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں آنے والے بیانات نے امریکی دفتر خارجہ کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی ہو اور انہیں وہ سب نظر آگیا ہو جو پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے امریکہ کے ایما پر کئے جا رہا ہے ۔
بدقسمتی سے یاپھر خارجہ امور کی ناکامی کی مرہون منت پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جن کے نام ممالک کے سربراہوں کو یاد رہتے ہیں یا پھر رکھوائے جاتے ہیں جس کی اہم ترین وجہ دنیا میں ہونے والی دہشت گردی ہے کیونکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی کوئی واردات ہوتی ہے تو دنیا کے ذہن میں پہلے مسلمان اور پھر پاکستان کا نام ضرورجگمگاتا ہے ، یہ انتہائی دکھ اور رنج کی بات ہے ۔ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا اہم ترین رکن رہا ہے ۔ ایسا رکن ہے جس نے امریکہ کی خاطر اپنے ہی ملک کو دہشت گردوں کے حوالے کردیا اب پاکستان میں پاکستانی افواج اپنے ہی علاقے ان دہشت گردوں سے صاف کرواتے پھر رہے ہیں۔ جس کی مد میں جانی و مالی نقصان کا تخمینہ لگانا بہت مشکل ہے ۔
وزیر اعظم صاحب آپ اس ملک کے ایک ہونہار سپوت ہیں بلکہ آج آپ کی حیثیت ایک سپاہی یا سپاہ سالار کی جیسی ہے آپکو دنیا کے سامنے ایسے کھڑے ہونا چاہئے کہ انہیں پتہ لگ جائے کہ آپ ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے وزیر اعظم ہیں آپ دنیا کی سب سے بہترین فوج رکھنے والے ملک کے وزیر اعظم ہیں، آپ ایک ایسی نظریاتی مملکت کے وزیر اعظم ہیں جس کا نظریہ لاالہ الاا اللہ محمد رسول اللہ ہے ، ہم آپ سے کسی جذباتی تقریر کا تکازہ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم جزباتیت کے محتمل ہو ہی نہیں سکتے مگر آپ سے یہ استدعا ضرور ہے کہ آپ دنیا کو وہ تمام حقائق بتائیں جو ہمارے پڑوسی ہماری سرحدیں عبور کر کے کر رہے ہیں اور الزام بھی ہمارے ہی سر پر ڈالا جا رہا ہے ۔ آپ کو کلبھوشن کا ذکر بھی کرنا ہے اور بہت زور سے کرنا ہے ۔ ہمیں یقین ہے آپ میانمار میں ڈھائے جانے والے ہوش ربا مظالم کا تذکرہ ضرور کرینگے۔ وزیر اعظم صاحب اللہ رب العزت نے آپ کو بہت پر اثر شخصیت سے نوازا ہے آپ اپنی شخصیت سے ساری دنیا کو مرعوب کئے بغیر نہیں چھوڑ سکتے ۔ دنیا بھر کے مسلمان محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین کو یاد کر رہی ہے ، آپ اپنے الفاظ سے ثابت کردیں کے آج کے بعد کسی کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آپ دنیا کو بتائیں کہ اگر مسلمانوں کیخلاف نفرت کا پروپیگینڈہ ختم نہیں کیا گیا تومسلمان ممالک مل کر مسلم اقوام متحدہ کی بنیاد رکھنے پر مجبور ہوجائینگے۔ خصوصی طور پر امریکی صدر کو اور باقی دنیا کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ مسلم دہشت گردی جیسے الفاظ سے گریز کریں اگر دہشت گردی کو کسی بھی مذہب سے منسلک کیا جائے گا تو سفارتی تعلقات میں دراڑیں پڑنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی کو دہشت گردی ہی رہنے دیا جائے ورنہ امریکی دہشت گردی کے بھی باب کھلنا شروع ہوجائنگے۔ وزیر اعظم صاحب آپ اس اجلاس سے خطاب میں یہ بھی واضح کردیں کے پاکستان وہ ملک ہے جو بیک وقت بین الاقوامی سطح پر بھی دہشت گردی سے جنگ میں برسر پیکار ہے اور داخلی سطح پر بھی دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہا ہے ۔
پاکستان کو جہاں خارجی خطرات گہرے میں لئے ہوئے ہیں تو اندرونی طور پر بھی مستحکم نہیں ہونے دیا جا رہا جس کی وجہ مسلسل سیاسی بحران ہے ۔ آج پاکستان کی حیثیت کسی سپر پاور ملک سے کم نہیں ہے جو محدود وسائل کے باوجود اتنے بڑے بڑے مسائل سے نبردآزما ہے ۔ دنیا کو پتہ چلنا چاہئے کہ پاکستان کی فوج ہی نہیں بلکہ پاکستان بھی دنیا کا سب سے مضبوط ترین ملک ہے اور آپ جناب شاہد خاقان عباسی صاحب ایک خاموش مگر پر اثر سپر پاور مملکت کے وزیر اعظم ہیں۔بے شک اللہ بہادروں کی مدد کرتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *