مریم نواز اور ن لیگ کے انکلز

ایف ایس اعجاز الدین

fs ejaz ul din

این اے 120 کا الیکشن ایک ڈاکٹر اور مریض کے بیچ مقابلہ تھا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جو گائناکالوجسٹ ہیں پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہی تھیں جب کہ کلثوم نواز جو لندن میں زیر علاج ہیں ن لیگ کی نمائندہ تھیں۔ صرف پاکستان ایسا ملک ہے جہاں نتائج سے پہلے دھاندلی کی شکایات سامنے آنے لگتی ہیں۔ این اے 120میں 3 لاکھ سے زیادہ ووٹرز ہیں جن میں سے اس بار صرف 39 فیصد نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ اصولی طور پر چونکہ زیادہ تر ووٹر خواتین تھیں اورہر ایک کے پاس شناختی کارڈ موجود ہونا چاہیےتھا اس لیے یہاں دھاندلی کا شور موزوں نہیں تھا لیکن پھر بھی ایسا ممکن بنا لیا گیا۔ اس الیکشن کے نتیجے کو ن لیگ کی عینک سے ایک دوسرے نظریہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کیا مریم نواز نے اس مہم سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے والدین کی جگہ لینے کےلیے تیار ہو چکی ہیں یا ان کا ووٹر اس بار کم ہونے سے کچھ دوسری طرف اشارہ ملتا ہے؟

مریم نواز ایک بڑی سیاستدان بن چکی ہیں یہ ایک حقیقت ہے۔ پریس کے لیے وہ پاکستانی سیاست میں ایوانکا ٹرمپ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ن لیگ میں انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا مریم اور بے نظیر میں کوئی مماثلت ہے؟ ایک مماثلت ہے۔ مریم نواز بے نظیر اور اندرا گاندھی کی طرح اپنے انکلز کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ بے نظیر کا مقابلہ اپنے چچا ممتاز بھٹو، مولانا کوثر نیازی، غلام مصطفی جتوئی، جام صادق علی، اور عبدالحفیظ پیرزادہ تھے۔ اندرا گاندھی کے مخالفوں میں کے سماراج، سنجیوا ریڈی، ایس نجالیناگپا، ایس کے پاٹل اور اتولیا گوش شامل تھے۔

مریم نواز کے انکلز انہیں پہلے سے ہی تربیت دینے لگے ہیں۔ سعد رفیق جو وزیر ریلوے کے واحد حقدار ٹھہرتے ہیں، نے سر عام انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تقاریر میں تھوڑا احتیاط سے کام لیا کریں۔ چوہدری نثار جو 33 سال سے ن لیگ میں رہے ہیں اس وقت سے نواز شریف کے قریبی دوست ہیں جب مریم صرف 11 سال کی تھیں۔ چوہدری نثار جو اب وزیر داخلہ نہیں ہیں نے مریم نواز کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مریم نواز کا بے نظیر سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم اپنے آپ کو تبھی لیڈر مانے جب وہ بے نظیر کی طرح جیلوں کی ہوا کھانے کا تجربہ رکھتی ہوں۔انہوں نے مریم نواز کو نواز شریف کی بیٹی قرار دے کر ان پر طنز کیا لیکن یہ بھول گئے کہ بے نظیر بھی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں، سری لنکا کی چیندریکا کماراٹنگا سولومان کی بیٹی تھیں اور آن سانگ سوچی بھی آن سانگ کی بیٹی ہیں جو سب سیاستدان تھے۔ این اے 120 کے نتائج نے ایک بار پھر ظاہر کیا کہ اس ملک کے لیے بہترین طرز حکومت جمہوری حکومت ہونا چاہیے۔ کیا ایسا کوئی معیار ہے جس کی بنیاد پر الیکشن جیتنےوالی پارٹی کو نوازا جائے اور کم مارجن سے ہارنے والی پارٹی کو سزا دی جائے؟ کیا ہمیں ایسا صرف اس لیے کرنا چاہیے کہ ہم ایک دور میں برطانوی کالونی رہ چکے ہیں؟

ہم ہمیشہ مغربی نظام کو کیوں اپنانا چاہتے ہیں؟ ہمارے سپیکر کی آواز کوئی نہیں سنتا اور ایسا اپوزیشن لیڈر ہے جس کے ساتھ حزب اختلاف کی چھوتی پارٹیاں کھڑی ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہمارے ملک کا بیشتر خزانہ بیرون ملک بینکوں میں پڑا ہے اور قانونی اداروں کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ ایک نمائندہ حکومت بنانے کی تجویز بھی دی جا رہی ہے تاکہ تما م قوم کو فیصلوں میں حصہ مل سکے۔

جنرل باجوہ نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے روابط میں دلچسپی رکھتے ہیں۔وہ ایک نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کی بات کہتے کہتے رک گئے۔ 1978 سے جب سے وہ بالغ ہوئے ہیں، انہوں نے تقریبا ہر الیکشن میں ووٹ دیا ہو گا۔ ہم سب کی طرح ان کا یہ بھی یہی خیال ہو گا کہ آپسی اختلافات مٹانے کےلیے تمام اداروں کو پارلیمنٹ سے رابطہ جوڑے رکھنا چاہیے۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1359061/alternative-cure

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *