رتی کے والد انتہائی امیر شخص تھے اور اُن کی اسٹیٹ بادشاہِ بیلجیم کے برابر تھی۔

قسط نمبر jinnah n ratti3:
اس سلسے میں انہوں نے براہ راست قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اپنی شادی کا پیغام لے کر خود رتی کے والد کے پاس گئے ۔ رتی کے والد سر ڈنشا پیٹٹ ، درمیانہ قامت اور بھاری بھر کم شخص تھے جن کی عمر محمد علی جناح سے چند سال زیادہ تھی ۔ ان کا شمار ایسے افرا د میں ہوتا تھا جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں ۔وہ اکثر اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں منانے لندن یا فرانس جایا کرتے تھے جہاں فرنچ ریوریا پر ان کی اپنی اسٹیٹ تھی ۔ سر ڈنشا کی یہ اسٹیٹ کم و بیش پر نس آف منا کو یا کنگ آف بلجیم کی ا سٹیٹ کے برابر تھی ۔ لیکن جب سے جنگ شروع ہوئی تھی ، پیٹٹ فیملی ملک سے باہر نہیں جا سکتی تھی ۔ لہذا اب جب بھی انہیں چھٹیاں منانے کی ضرورت پیش آتی ۔وہ رتی اور تینوں بیٹو ں کے علاوہ خانساماؤں ، گورنس ، ٹیوٹر ز ، پالتو جانوروں گھوڑوں اور دیگر ملازمین کی فوج سمیت ملک کے پہاڑی علاقو ں کی طرف روانہ ہو جاتے ۔ سر ڈنشا بہت اچھے میزبان تھے اور ہمہ وقت اپنے مزاج کے لوگوں کو جمع ر کھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ سفر پر جاتے وقت بھی ان کے مہمان ان کے ہمراہ ہوتے تھے ۔ خواہ وہ مالا بار ہل پر ساحلِ سمندر کے ساتھ واقع ان کا آبائی منشن ہو یا پونا اور متھرا کے پہاڑی اسٹیٹس میں واقع ان کے عالیشان گھر ۔۔۔ مہمانوں کی کمی کہیں نہیں ہوتی تھی ۔ محمد علی جنا حؒ سے ان کی واقفیت اور دوستی اس وقت سے تھی ، جب رتی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں ۔سر ڈنشا اور ان کی بیگم دونوں محمد علی جناحؒ کے مداح تھے لہٰذا وہ متواتر انہیں اپنے ہاں مدعو کرتے رہتے تھے ، تا ہم یہ پہلا موقع تھا کہ جب جناح نے پیٹٹ فیملی کے ساتھ ان کے ہاں ٹھہرنے کی دعوت قبول کی تھی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ آخری موقع بھی تھا ۔

سرڈنشا محمد علی جناحؒ کو بہت پسند کرتے تھے جو اپنے ہم عصروں میں اپنی متاثر کن شخصیت ، خود اعتمادی اور قوم پروری کے سبب انتہائی مقبول تھے ۔ جبکہ سر ڈنشا کا تعلق پادری تاجروں کے خاندان سے تھاجو اپنے کاروباری اور فلاحی کاموں کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے ۔ ان کے دادا ممبئی کلاتھ انڈسٹری کے بانیوں میں سے تھے اور اپنے کام میں انتہائی ماہر تصور کیے جاتے تھے ۔یہی نہیں وہ پارسی کمیونٹی کیلئے رفاہی کاموں میں بھی پیش پیش رہتے تھے ۔سر ڈنشا کے والد ایک بڑی بزنس ایمپائرکے مالک تھے جو انہیں ورثے میں ملی تھی اور جس میں ایک درجن کپڑے کی ملیں بھی شامل تھیں ۔ ابھی سر ڈنشا محض بائیس سال کے تھے کہ ان کے والد انہیں سب کچھ سونپ کر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے ۔اس کے چھ سال بعد انہیں وراثت میں اپنے دادا کا خطاب بھی مل گیا تھا۔
سر ڈنشا نے مالا با ر ہل پر واقع اپنے گھر ’’ پیٹٹ ہال ‘‘ کی تزئین و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کئے ۔ مالا بار ہل کے دامن میں ساحل سمندر کے سامنے ، سنگ مر مر سے بنا ہوا یہ منشن انہیں اپنے دادا سے ورثے میں ملا تھا ۔ پیٹٹ ہال جسے ان کے دادا نے امپورٹیڈ ماربل سے تعمیر کرایا تھا، کسی عالیشان محل سے کم نہیں تھا۔ لیکن جب اس کا انتظام و انصرام سر ڈنشا کے ہاتھ میں آیا تو انہوں نے نئے سرے سے اس کی آرائش و زیبائش کی ۔ انہوں نے یہاں جدید طرز کے بیڈروم سویٹس تعمیر کرائے جن کا رخ سمندر کی جانب تھا۔ اونچے اونچے درختوں سے گھرے خوشنما لان بنوائے جو تقریباََ سمندر کی لہروں کو چھوتے تھے ۔ جبکہ کیاریاں فرانس سے منگوائے گئے پھولوں سے بھری ہوئی تھیں ۔ گھر کے اندر جابجا کرسٹل کے بیش قیمت فانوس ، فرانسیسی طرز کی میز ، کرسیاں ، قدیم چینی آرٹ کے شاہکار گلدان اور ایرانی قالین سجے ہوئے تھے ۔ ان سب چیزوں سے بلاشبہ ایسے اعلیٰ ذوق کا اظہار ہو تا تھاکہ انہیں دیکھنے والا ان کی قیمت پر غور کرنے کی بجائے ان کی خوبصورتی میں گم ہوکر رہ جاتا تھا۔ جیسے کہ معروف شاعرہ اور مقررہ سروجنی نائیڈو جو باقاعدگی سے پیٹٹ ہا ل کی مہمان ہوا کرتی تھیں ، اس گھر کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ’’ وہ ڈائنگ روم جہاں عام ملا قاتیوں کو بٹھایا جاتا تھا ، اس کی آرائش پر بھی 80ہزار روپے صرف کئے گئے تھے ۔ یہاں تک کہ جس منقش کور سے اس کمرے میں رکھی گئی آٹھ کرسیوں کو ڈھانپا جاتا تھا ، صرف اس کی قیمت بیس ہزار روپے تھی ‘‘
سر ڈنشا کی دی ہوئی ضیافتیں بھی بڑی شاہانہ قسم کی ہوا کرتی تھیں ۔ ان کے شیف چار مختلف cusinesبنانے میں ماہر تھے ۔ ان کی گارڈن پارٹیاں اپنی نوعیت کے اعتبار سے ممبئی کی ہائی سوسائٹی کی شان ہوا کرتی تھیں ۔ ان کے دادا جو اس خاندان کے پہلے نواب تھے ، سر ڈنشا پیٹٹ ہی واقع ہوئے تھے اور انگریز حاکموں کے اعزاز میں اکثربیشتر تقریبات منعقد کرتے رہتے تھے ۔ وہ ممبئی ایسوسی ایشن کے چےئر مین بھی تھے جس کے تحت پارسی کمیونٹی کے مختلف مسائل طے کئے جاتے تھے ، یہی نہیں بلکہ وہ پارسی پنچایت فنڈز کے پانچ ٹرسٹیز میں سے ایک تھے اور پبلک فنڈز کے علاوہ رفاہی کا موں کے انچارج تھے جو ایک بڑا اعزاز تصور کیا جاتا تھا۔ان کے والد یعنی رتی کے والد گو کہ اپنے داد ا کے نام و مقام کو برقرار رکھنے کیلئے زیادہ محنت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنا مقام پبلک میں اوسط درجے سے زیادہ نہیں بنا پائے ۔
اگر سر ڈنشا اور محمد علی جناح ؒ کا جائزہ لیا جائے تو یہ یہ ابتداء ہی سے برابری کی بنیاد پر بہر حال نہیں تھی ۔ سرڈنشا گو کہ ایک درجن کپڑے کی ملیں اور فیملی چیڑیٹی کا پورا انظام چلاتے تھے جس میں اسپتال ، اسکول اور لائبریریاں شامل تھیں ، تاہم اس کے باوجود ان میں اعتماد کی کم تھی ۔ وہ اپنی کمیونٹی کیلء کے پورے فرائض انجام دیتے تھے لیکن دیگر طاقتور پارسی لیڈر ز کے مقابلے میں معاشر ے میں کو ئی نمایاں مقام نہیں قائم کر سکے ، یہی وجہ تھی کہ وہ قدرتی طور پر ایسے افراد کی جانب مائل ہوتے تھے جو پُراعتماد اور مضبوط قسم کی شخصیت کے مالک ہوتے تھے ۔ دوسری جانب قائد اعظم محمد علی جناحؒ جو کہ اس وقت بھی جب وہ ممبئی میں ایک نوجواں قانون داں کی حیثیت سے جدوجہد میں مصروف تھے، بے روزگار تھے اور ایک ہوٹل کے چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے ، اعتماد کی دولت سے مالا مال تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ محمد علی جناحؒ جو دولت وثروت کے لحاظ سے سر ڈنشا سے کہیں پیچھے تھے اور عمر میں ان سے کئی سا ل چھوٹے تھے ، ہمیشہ بڑوں کی مانند ان کی رہنمائی کیا کرتے تھے ۔
1896سے لے کر 1900ء تک جب ان چند سالوں کے دوران محمد علی جناح ؒ اپنا کیرےئر بنانے کیلئے جدوجہد کررہے تھے اور انہیں کام کی ضرورت تھی ، تب سر ڈنشا اس پوزیشن میں تھے کہ کام فراہم کرنے میں ان کی مدد کرسکتے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ممبئی کے بیشتر لائرز کے نزدیک سر ڈنشا سونے کی کان سے کم نہیں تھے ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے ہر قانونی تنازع کو عدالت تک لے جانے کے عادی تھے ، خواہ اس کیلئے انہیں کتنا ہی روپیہ کیوں نہ خرچ کرنا پڑے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک کیس سے سرڈنشا محمد علی جناحؒ کو پہلی بار ہائی کورٹ تک لے جانے کا سبب بنے تھے لیکن بالواسطہ طور پر ۔ یہ ایک ایسا کیس تھا جس میں سر ڈنشا نے کئی اہم افراد کے خلاف بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا تھا اور محمدعلی جناح مدعا علیہان کی جانب سے وکلا ء کے گروپ میں شامل تھے ۔ یہ کیس جو اکتوبر 1898ء میں ممبئی ہائی کورٹ میں پیش ہوا ، محمد علی جناح ؒ کی شہرت کا سبب بنا ۔ اس کے بعد یکم مئی 1900ء کو جناح، پریذیڈنسی مقرر ہوگئے ۔ یوں صور ت حا ل بدل گئی اور پہلے کی برعکس کام خود ان کی تلاش میں رہنے لگا۔اب وہ وقت گزرچکا تھا کہ جب جناح کو سرڈنشا کی مدد کی ضرورت تھی ۔ یوں بھی محمد علی جناحؒ ایسے باکردار اور خوددار انسان سے یہ بعید تھا کہ وہ کسی سے مالی فائد ہ اُٹھاتے خواہ دوسرا شخص خود اس کے لئے آمادہ کیوں نہ ہوتا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *