موازنہ کرلیجئے

ڈاکٹر سعید اقبال سعدی
Dr. saeed iqbal sadi
گوالمنڈی  چوک سے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی طرف جائیں تو چند قدم چلنے کے بعد دائیں طرف رفیق شیر فروش کی دکان ہے، یہ وہی دکان ہے جس کی پیڑے والی لسی پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ یہاں کا دہی اتنا میٹھا کہ جیسے شہد ملا ہو، اتنا سخت جما ہوا کہ جیسے آئس کریم ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا دہی نیسلے والے بھی آج تک نہ بنا سکے۔
 یہ دکان شروع کرنے والا رفیق مرحوم، جسے ساری گوالمنڈی چاچا کہا کرتی تھی، ہاتھ کی مدھانی سے لسی بنایا کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک گڑوی ہوا کرتی تھی جو اس کے والد صاحب نے 1932 میں امرتسر سے خریدی تھی اور پھر اسی گڑوی میں اگلے 60 سال تک چاچا رفیق لسی بناتا رہا اور لوگوں کو حیران کرتا رہا۔
آجکل غالباً چاچے رفیق کا بھتیجا یہ دکان چلاتا ہے اور کافی بیمار شیمار بھی رہنے لگا ہے،
چاچے رفیق کی دکان کے سامنے ایک کلچے کی دکان ہوا کرتی تھی جس کے پاس کوئلے کا تندور تھا اور وہ شام کو خستہ باقر خانیاں لگا کر پورے گوالمنڈی کی گلیوں میں سحر انگیز خوشبو پھیلا دیا کرتا تھا۔ اس کے تندور سے گرما گرم کلچہ لے کر چاچے رفیق کے ساتھ والے مرغ چنے کے کھوکھے سے لوگ چنے کے ساتھ کھاتے تھے۔ کلچہ خرید کر سڑک پار کرتے کرتے آدھا کلچہ ویسے ہی ختم ہوجایا کرتا تھا کیونکہ وہ اتنا خستہ، اتنا تازہ ہوتا تھا کہ کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔
وہ تندور والا بھی چند سال قبل فوت ہوگیا اور اب اس کی جگہ اس کا بیٹا تندور چلاتا ہے۔ مشقت سے بچنے کیلئے اب اس نے کوئلوں کی بجائے گیس والا تندور لگا لیا ہے، کلچے پہلے جیسے خستہ نہیں رہے، لیکن کوالٹی میں دوسروں سے بہتر ہیں۔ باقر خانی لگانے کا سلسلہ اس کے والد صاحب کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔
تھوڑا مزید آگے ریلوے روڈ کالج کی طرف چلیں، بائیں طرف ایک مسجد آتی ہے، اس کے بازو میں ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان ہوا کرتی تھی۔ یہ دکان 1940 میں بنی تھی اور پڑدادا سے سے ہوتی ہوئی اب پڑپوتے کے پاس ہے۔ دکان والے کے پڑدادا، دادا اور والد صاحب کی ایک عادت تھی کہ کوئی بھی بچہ اگر سودا سلف لینے آتا تو اسے ' چُونگا ' ضرور دیتے، چاھے ایک پیسے کی گولی ہی کیوں نہ ہو۔ اگر وہ گولیاں ختم ہوچکی ہوتیں تو تھوڑی سی چینی یا گڑ دے دیا کرتے۔ جب بھی دال یا کھلا گھی خریدنا ہوتا تو مائیں اپنے بچوں کو ہی بھیجتیں، کیونکہ یہ پرچون فروش بچوں کو وزن سے زیادہ دیتا تھا اور ساتھ انہیں چونگا بھی ملتا۔ پرچون والے کو بھی پتہ تھا کہ عورتیں اپنے بچوں کو کس وجہ سے اس کے پاس بھیجتی ہیں، لیکن وہ پھر بھی بچوں کے ساتھ خصوصی شفقت کرتا۔
اب اس سٹور کا نقشہ بدل چکا ہے، اب اس میں فرنٹ کے کاؤنٹر کی بجائے سیلف سروس کی طرح کی آئلز آچکیں، اب ہر چیز پہلے سے پیکٹوں میں بند ہیں، اب نہ تو بچوں کو چونگا ملتا ہے اور نہ ہی وزن سے زیادہ تول کر دالیں ملتی ہیں۔
گوالمنڈی والوں نے 1985 میں پہلی مرتبہ نوازشریف کو اسمبلی میں پہنچایا اور چاچے رفیق فروش، اس کے سامنے تندور والا، بازو میں مرغ چنے بیچنے والا اور آگے یہ پرچون فروش، ان سب لوگوں نے ہر الیکشن میں نوازشریف کے پوسٹرز لگائے اور اس کے انتخابی دفتر کیلئے اپنی دکان کے سامنے کرسیاں لگوائیں۔
آج 2017 آگیا، پچھلے 32 سال میں ان کی حالت بس اتنی ہی بدلی کہ چاچے رفیق کی دکان پر اب بجلی کی مدھانی ہے، سامنے کلچے والے کے پاس گیس کا تندور آگیا، ساتھ مرغ چنے والا میز کی بجائے ریڑھی پر آگیا اور اس پرچون فروش نے اب تول کر چیزیں دینا بند کردیں۔
آج بھی گوالمنڈی کے نلکوں میں پانی قطرہ قطرہ آتا ہے، آج بھی بارش کی پھوار پڑے تو وہاں گلیاں جوہڑ بن جاتی ہیں، آج بھی وہاں کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، آج بھی وہ لوگ آدھے کلومیٹر دور میو ہاسپٹل میں جاتے ہیں تو کئی کئی گھنٹے خوار ہوتے ہیں۔ آج بھی ان کے بچوں کے پاس نہ تو تعلیم کی سہولیات آسکیں اور نہ ہی انہیں بغیر رشوت کے سرکاری سروس میسر ہوسکی۔
گوالمنڈی والوں کی دو نسلیں قبر میں پہنچ گئیں لیکن نوازشریف ابھی بھی سیاست کررہا ہے، آج بھی اس کی بیٹی گوالمنڈی والوں کو ان کی تقدیر بدلنے کے وعدے کرکے ووٹ مانگ رہی ہے، 1985 میں نوازشریف کو ووٹ دینے والے اگر زندہ ہیں تو وہ اپنی حالت دیکھ لیں اور اس کا موازنہ نوازشریف اور اس کی فیملی سے کرلیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *