جناح کے رتی کا رشتہ مانگنے کی کہانی ایک لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر گئی اور نصف صدی تک یہ قصّہ سنایا جاتا رہا۔۔

قسط نمبر jinnah n ratti4
محمد علی جناحؒ بیس سا ل کی عمر میں جب ممبئی پہنچے تو سرڈنشا اس وقت چیف جسٹس آف پیس تھے ، تا ہم اب ان کی سماجی حیثیت کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔1916ء میں کانگریس اور مسلم لیگ کے مشترکہ مشہور اجلاس میں جو لکھئنو میں منعقد ہوا، یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ ہی تھے جو مسلمانوں کے ناقابل اختلاف لیڈر کی حیثیت سے سامنے آئے ۔ ان دنوں اخبارات میں روز ہی ان کا نام نظر آتا تھا، خواہ وہ کانگریس کی جانب سے کچھ کہتے یا مسلم لیگ کی طرف سے کوئی بیان دیتے لیکن ان کی آواز اور لہجہ دونوں جماعتوں میں منفرد اور الگ ہوتا تھا۔جبکہ سرڈنشا،جن کا سماجی مقام اور سر گرمیاں ایک ہی مرحلے پر ٹھہری ہوئی تھیں کہ وہ گاہے بگاہے شاندار تقریبات کا انعقاد کیا کرتے تھے ، تاہم یہ تقریبات وہ اپنی خوشی منانے کیلئے نہیں بلکہ دیگر ایسے افراد کی خوشیاں منعقد کیا کرتے تھے جنہیں کوئی نمایاں سرکاری عہدہ ملتاتھا۔ لہٰذا ان کیلئے جناح کو اپنے ہاں بطور مہمان ٹھہرانا ایک اعزاز کی بات تھی جو ایک با اثر سیاسی رہنما کی حیثیت سے ابھرتے اور اپنا مقام کو بناتے نظر آرہے تھے ۔ اس طرح وہ اپنے آزاد خیال اور ترقی پسند ہونے کا اظہار بھی کرنا چاہتے تھے کہ انہیں ایک قدامت پسند پارسی تصور نہ کیا جائے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بظاہر وہ ایک ماڈرن شخص تھے اور گو کہ انہوں نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل نہیں کی تھی ، لیکن ان کی تعلیم وتربیت ایسے خطوط پر ہوئی تھی کہ و ہ انہی پارسیوں کی طر دکھائی دیتے تھے جو انگلینڈ سے پڑھ کر آئے تھے ۔ ان کی اہلیہ کا تعلق بھی ایک فیشن ایبل اور دولت مند پارسی فیملی سے تھا۔ انہوں نے اپنے چاروں بچوں کی مکمل پرورش ، تربیت یافت یورپین اسٹاف کو سونپی ہوئی تھی جیسا کہ اس وقت تمام دولتمندوں میں رواج تھا۔ رتی اپنے تینوں بھائیوں کی مانند انگریز آیاؤں ، نرسز، گورنس اور فرانسیسی خادماؤں کے درمیان پروان چڑھیں ۔انہیں ایک چھوٹی سے عمر سے ہی گھڑ سواری کی تربیت دی گئی اور بھائیوں کے ساتھ انھیں بھی انگریزی اسکول بھیجا گیا۔ ان چاروں بچوں کو تھوڑی بہت گجراتی آتی تھی اور کبھی کبھار وہ اپنی نانی سے اس زبان میں بات بھی کر لیا کرتے تھے ، وہ ان کے خاندان کی واحد بزرگ تھیں جو اس وقت تک حیات تھیں ۔اس وقت پیٹٹ ہال میں جو زبانیں بولی جاتی تھی وہ صرف اور صروف انگریزی تھی ۔رتی کو تیرہ ، چودہ سال کی عمر میں اپنے اور والدین کے سماجی حلقے میں میل جول رکھنے کی آزادی تھی ۔ یہی نہیں بلکہ وہ بڑی بڑی دکانوں سے خو د شاپبگ کرتی تھیں جہاں وہ اپنے دستخط سے کوئی بھی چیز خرید سکتی تھیں ۔اپنے دوستون کو گھر پر مدعو کرسکتی تھیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی کمیونٹی سے ہوتا ۔ انہیں دوستوں کے گھر یا کلب میں ڈانس کیلئے جانے کی اجازت تھی اور گارڈن پارٹیاں منعقد کرنے یا ان میں شرکت کرنے کی بھی اجازت تھی ۔ رتی اپنے والد ہ کے حلقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ رفاہی کاموں میں حصہ لیتی تھیں اوران کے ہمراہ دوسرے شہروں کے سفر پر بھی جایا کرتی تھیں ۔
ایسی ہی سیروتفریح اور چھٹیوں کے دوران رتی اور محمدعلی جناح ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے ۔ اس کے بعد یہ سوچ کر کہ اب رواج بدل گئے ہیں ، محمد علی جناحؒ شادی کا پیغام لے سر ڈنشا کے پاس پہنچ گئے لیکن اس کے نتیجے میں ان کی دوستی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی ۔ سر ڈنشا نے اس بار ے میں کبھی سوچاتک نہیں تھا۔ گو کہ ان کی خوبصورت بیٹی نے پوری تعطیلات محمدعلی جناحؒ کی کمپنی میں گزاریں اور اس دوران انہوں نے جناح کے ساتھ گھڑسواری کی اور کتابیں پڑھیں اور ساتھ کھانا بھی کھایا، یہی نہیں بلکہ سیاست پر بھی ان دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی ۔ لیکن رتی کی عمر چونکہ اس وقت سولہ سال بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ اپنی شادی کے بارے میں سوچنے لگتیں ۔
دوسری جانب گوکہ سر ڈنشا کے طبقے میں انگریزی طور طریقے رائج تھے خواہ وہ لباس کا معاملہ ہو، کھانے کا یا بات چیت اور آداب نشست و برخاست کا ۔۔۔تاہم جب شادی کی بات آتی تھی تو اس معاملے میں کمیونٹی سے باہر جانے کا تصور موجود نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا طے شدہ اصول تھا کہ جو کہیں تحریر نہیں تھا اور نہ ہی اس پر کوئی بات کی جاتی تھی لیکن اس پر عمل کرنا گویا کمیونٹی کے ہر فرد پر لازم تھا ۔ پُرانی نسل اس عمل سے خوب واقف تھی اور ان پر عمل بھی کرتی آئی تھی تاہم نئی نسل نے اب روایات کو چیلنج کرنا شروع کردیا تھا۔ سر ڈنشا جو اب تک خود کو ہر معاملے میں آزاد خیال ثابت کرتے آئے تھے ، اس معاملے میں روایت پسند ثابت ہوئے ۔ ان کے مطابق جناح ان کی بیٹی سے کم وبیش 24سال بڑے تھے اور رتی کیلئے ان کا جوڑکسی اعتبار سے بھی موزوں نہیں تھا ۔
قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے لئے بھی براہ راست یہ بات سرڈنشا تک پہنچانی آسان نہیں تھی تا ہم وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھے ۔اس مقصد کیلئے انہوں نے انہی صلاحیتوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا جنہیں وہ بطور قانون داں، کورٹ روم میں استعمال کرتے تھے ۔ انہوں نے بڑے سادہ سے انداز میں بات کا آغاز کیااور سرڈنشا سے پوچھا کہ کمیونٹی سے باہر شادیوں کے بارے میں ان کا کیا نظریہ ہے ۔سر ڈنشا جو اصل معاملے سے لاعلم تھے ، توقع کے مطابق یہی جواب دیا کہ انہیں ایسا نظر آتا ہے کہ تمام ماڈرن ہندوستانی جلد ہی کمیونٹی سے باہر شادیاں کرنے کو ترجیح دینے لگیں گے ۔ انہوں نے بڑی روانی سے کہا کہ ایسی شادیوں کے نتیجے میں نہ صرف اتحادو اتفاق پیدا ہوگا بلکہ آپس کے اختلافات کا خاتمہ بھی ممکن ہوجائے گا۔ سرڈنشا کے اس جواب کے بعد محمدعلی جناح نے بڑی متانت کے ساتھ ان سے کہا کہ وہ ان کی بیٹی سے شادی کرنے کے خواہشمند ہیں ۔
یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ سرڈنشا کو محمدعلی جناح کی بات سن کر ایک جھٹکا لگا تھا کیونکہ یہ سوال ان کیلئے قطعی غیر متوقع تھا ۔ ایم سی چھاگلہ کے مطابق جو انڈیا کے سابق چیف جسٹس تھے اور قائداعظمؒ کے ماتحت بھی کام کرچکے تھے ، سر ڈنشا سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ ان پر ہی لوٹ آئیں گے ۔ بہر حال وہ محمدعلی جناح کی بات پر خاصہ برگشتہ ہوئے اور اس خیال کو قطعی کردیا جو ان کے نزدیک بالکل نامناسب تھا۔ تاہم اس وقت ان دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی ، اس کا علم کسی کو نہ ہوسکا۔ قائد اعظم محمدعلی جناحؒ نے اس بارے میں کسی کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی سرڈنشا نے اس موضوع پر کسی سے کبھی بات کی ۔ لیکن ان کے اس پروپوزل کی کہانی بہر طور چاروں طرف پھیل گئی ۔ اس کے بعد وہ ممبئی واپس لوٹ آئے اور ان کے سا تھ ساتھ یہ کہانی بھی وہاں چلی آئی اور یہ خبر گویا جنگل کی آگ کی مانند پھیل گئی ۔ تب سے یہ قصہ اتنی با ر بیان کیا جاتا رہا کہ یہ ایک لیجنڈری یا روایت کی شکل اختیار کرگیا ۔ اس واقعے کو جب بھی دُہرایا گیا ، ایک قسم کی ستائش اور مسر ت کا امتزاج ہمیشہ شامل رہا ۔تقریباََ نصف صدی تک تو یہ واقع زبانی طور سے گردش میں رہا، پھر بالآخر اس وقت باقاعدہ ایک تحریر کی صورت میں سامنے آیا جب یہ مسٹر چھاگلہ کی یادداشت Roses in Decemberمیں شامل ہوا یہ کہانی گو کہ خوشگوار نہیں تھی ، اس کے باوجود جس نے بھی اسے سنا اس کے ذہن سے محو نہیں ہوپائی ۔ خواہ اسے سننے والا ذاتی طور سے سر ڈنشا یا محمد علی جناح ؒ سے واقف بھی نہیں تھا ۔ سننے والے کے ذہن میں ان دونوں افراد کے خاکے مرتب ہوجاتے جو آپس میں اچھے دوست تھے لیکن پھر اختلاف کا شکار ہوگئے ۔
یہ ایک ایسا واقعہ تھا کہ جو سب کے لئے دلچسپ ہونے کے علاوہ تعجب خیز تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسے طبقے کی کہانی ہے کہ جو خود کو ماڈرن گردانتا تھااور اپنے برٹش اندازواطوار پر فخر کرتا تھا لیکن ان کے دل وہی قدامت پرست ہندوستانیوں کے سے تھے ۔ یہ آزاد خیالی کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن اپنے ترقی پسند ، ماڈرن نظریات کی زندگی کے تمام معاملات سے ہم آہنگ نہیں کر پائے تھے ۔ (جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *