لاہوریوں کا گناہ کبیرہ

بشکریہ : اشعر رحمان

ashir rehman

ایسا لگتا ہے جیسے لاہور کے عوام نے بہت بڑا گناہ کبیرہ کا ارتکاب کر دیا ہو جس کے لیے وہ اس بات کے حقدار ہیں کہ سچائی کی راہ پر چلنے والے ان کی خبر لیں۔ ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے ایک بیمار سیاستدان خاتون کو ووٹ کے ذریعے منتخب کیا ہے جن کی الیکشن مہم ان کی بیٹی چلا رہی تھی جسے سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دے رکھا ہے۔

کلثوم نواز کو ووٹ کے ذریعے منتخب کرنے والوں کو ہر قسم کے طعن تشنیع کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تمام ن لیگی ووٹرز کو اپنے دماغی معائنہ کے مشورے دیے جا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک ایسے امیدوار کو منتخب کیا جنہوں نے اپنی الیکشن مہم میں بھی شرکت نہیں کی اور ہسپتال میں خود زیر علاج ہیں۔

اس اتوار کے روز ہونے والی ووٹنگ کے بعد لاہور کے حلقہ این اے 120 کے عوام کو ان کے ساتھی اور دوسرے شہروں کے عوام طعنے دے رہے ہیں کہ انہوں نے شریفوں کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا موقع گنوا دیا اور اپنے ہاتھ سے ایک صحیح چوائس کو چھوڑ کر غلط کو منتخب کیا۔

یہ ایک اچھا اور عادلانہ تجزیہ ہے خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو وزیر اعظم کی نا اہلیت کے فیصلے کے بعد اصلاحات کی امید رکھتے ہیں۔ ہمیں اس گفتگو پر نظر ڈالنی ہو گی جو اس حلقے کے عوام کے بارے میں الیکشن سے قبل کی جا رہی تھی۔

لاہور جوپاکستان کا سب سےبہترین اور خوبصورت شہرہے اس میں ہرطرح کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جن میں اچھی سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی سہولت، اور دوسری ہر چیز دیستیاب ہے جس سے انتظامیہ کی ترقی میں دلچسپی واضح ہوتی ہے۔ یہاں دودھ کی نہریں نہیں بہتیں لیکن یہاں کا انفرا سٹرکچر واقعی قابل تعریف ہے ۔

جو لوگ یہاں کے رہائشی ہیں ان کے مطابق شہرمیں ترقی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے تنقید بھی کی ہے اور دعوی کیاہے کہ الیکشن کے بعد سیاستدان ان علاقوں کا رخ تک نہیں کرتے۔

اندازہ لگائیں کہ لاہور کی ترقی کا ذمہ دار کون ہے؟ یقینا یہ ترقی نواز شریف کی جماعت کی وجہ سے ہے۔ یہ آزاد اور خود مختار مبصرین کے لیے کیوں فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ عوام نے ن لیگ کو ووٹ کیوں دیا۔ یہ سچ ہے کہ لاہوریوں کے لیے ن لیگ ایک عادت بن گئی ہےجوآسانی سے نہیں چھوٹےگی۔ اس کے لیے چاہے آپ ان کوکتنےہی طعنے نہ دے دیں۔ لیکن اس عادت کیوجہ یہ بھی ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ن لیگ واحد ایسی جماعت ہے جو مثبت کام کرتی رہی ہے۔ لوگ اس وقت کے بارے میں سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں جب وہ نوازشریف کے بغیر ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے بھی غیر جانبدار سپورٹر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس بات بھی الیکشن کی وہی صورتحال تھی جو 2013 کے جنرل الیکشن میں دیکھی گئی۔ جس طرح 2013 میں نتائج نے پی ٹی آئی کو حیران کیا اسی طرح اس بار بھی ہوا لیکن 2013 میں ووٹ کا فرق 90000 اور 50000 تھا۔

اس الیکشن میں بالآخر پی ٹی آئی کو یہ امید حاصل ہوئی کہ کوہ ن لیگ کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ 2018 کے جنرل الیکشن بہت سے معاملات کو نئی توجیہ دیں گے۔ یہ چیلنجرز کی صوابدید ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کیسے لاہور میں فتح کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ کیا وہ شہر کو نواز شریف سے بہتر پیکج دے سکتے ہیں یا پھر وہ قربانی اور مساوات کے نام سے ووٹ کا مطالبہ کرتے نظر آئیں گے۔


courtesy:https://www.dawn.com/news/1359284/where-logic-fails

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *