مسافروں کی اقسام

razia syed

ارے یہ کیا آپ تو شروع میں ہی گبھرا گئے کہ جیسے ہمارا ارادہ آپ کو لاہور میں چلنے والی ’’خستہ حال ‘‘ ویگینوں میں بٹھانے کا ہے ہرگز نہیں ہم کس طرح اپنے معزز قارئین پر یہ بوجھ لاد سکتے ہیں کیونکہ ان پر تو پہلے ہی ہماری بےسر وپا تحریروں کا بار ہے ۔

خیر زیادہ وقت لینے کا ہمارا کوئی ارادہ ہر مرتبہ نہیں ہوتا لیکن کیا کریں جب ذکر ہو وین کا وہ بھی ایسی وین کا جس میں بے تحاشا مسافر ہوں تو ہمار انگ انگ بھی پھڑکنے لگتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح پاپ میوزک والے فل پاور کے ساتھ یعنی ’’بجلی بھری ہے میرے تن من میں ‘‘گا گا کر ہمیں خوش کرتے ہیں ہمارا ماننا ہے کہ ہم بھی معاشرے کی خدمت اپنی مزاحیہ تحریروں سے کر رہے ہیں اور لوگوں کو ڈیپریشن ، شیزوفریننا اور دیگر ذہنی بیماریوں سے بچا رہے ہیں

چلیں آج ہم آپ کو پبلک وین اور اسکے مسافروں کے بارے میں بتاتے ہیں ۔

جگہ گھیرنے والے مسافر

اب ان میں آپ یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ یہ سب لوگ موٹے ہوتے ہیں بالکل نہیں کہیں دفعہ یہ سنگل پسلی بھی ہوتے ہیں لیکن یہ خود کو ’اسمارٹ ‘‘ سمجھتے ہوئے کہیں نہ کہیں ’’نظریہ ضرورت ‘‘ کی طرح ’’ایڈجسٹ ‘ہوجاتے ہیں اب اس میں کنڈیکٹر کا بھی سو فیصد نہیں تو اسی فیصد ہاتھ ہوتا ہے کہ وہ ان کو ایڈجسٹ کرنے کے چکر میں دوسرے مسافروں سے چپکا دیتے ہیں اب یہ الگ الجھن ہے کہ ان بانس نما افراد کی ہڈیاں موٹے لوگوں کے گوشت میں اس طرح پیوست ہو جاتی ہیں کہ جس طرح باربی کیو سلاخوں پر لگایا جاتا ہے چاہے آپ درد سے تڑپ  رہے ہوں لیکن یہ سنگل پسلی آپ کی جان نہیں چھوڑیں گے جب وہ وین سے اتریں گے تو آپ کلمہ شکر پڑھتے ہوئے اپنے بدن کو سہلائیں گے ضرور ۔

لائو لشکر مسافر

women-harassment-pakistan-1

یہ ایسے مسافر ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ میں لاؤ لشکر لے کر سفر کرتے ہیں اب چاہے وہ آٹھ آٹھ بچے ہوں یا مرغیاں اور بکریاں ، انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ انڈے ٹوٹیں گے یا بچے بس رہے نام اللہ کا چل سوچل لگے رہو منا بھائی کی طرح انھوں نے اپنے سٹاپ پر ہی اترنا ہے اور پھر یہ وین کو سات آٹھ منٹ رکواتے بھی ہیں کہ ٹھہرو بھائی ہم نے تو اپنا سامان بھی اتارنا ہے ۔

بھولے بسرے مسافر

ان میں زیادہ تر مسافر ایسے ہوتے ہیں جن کو اپنے اسٹیشن کا پتہ نہیں ہوتا صرف زبانی یاد ہوتا ہے کہ یہاں تو چنے والے کی ریڑھی تھی وہ زیادہ تر دوسروں کے آسرے پر رہتے ہیں کہ وہی ان کے لئے مشعل راہ بنیں گے اور ان کے سٹاپ  کے لئے اٹین شن رہیں گے ویسے ان میں کئی غیر تعلیم یافتہ اور بزرگ افراد بھی شامل ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ کئ دفعہ زیادتی بھی ہوتی ہے کہ کئی سٹاپ آگے نکل آتے ہیں  ، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ان کو کرایہ نامہ زبانی یاد ہوتا ہے ۔

متحرک مسافر

جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ مسافر متحرک ہوتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وین میں ہلتے ہی رہیں لیکن اسکے ساتھ ہی جب زور کی بریک لگتی ہے تو یہ  سامنے والی سیٹ پر ٹھاہ کر کے گرتے ہیں کیونکہ انھوں نے وین کے بیچ میں لگا ہوا ڈنڈا نہیں سنبھالا ہوتا اسی طرح یہ باقی مسافروں کو بھی تنگ کرتے ہیں اصل میں ہوتا یہ بھی ہے کہ یہ تنگ جگہ پر بھی ہل ہل کر اپنے لئے جگہ بنا لیتے ہیں اور آپ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں ۔

کنسلٹنٹ مسافر

یہ ایسے مسافر ہیں کہ جن کے مشورے ہمیشہ سے زیادہ تر ڈرائیور کے لئے ہوتے ہیں کہ یہاں سے گاڑی کیوں موڑی اور یہاں پر بریک کیوں لگائی ؟ یہ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ بس جی استاد جی آپ یہاں سے آتے تو زیادہ اچھا تھا یا کیا بے وقوف ڈرائیور ہے اس سے اچھا تو ہم چلا لیتے گاڑی ، تو اتر گاڑی سے ہم آپ چلا لیں گے یعنی کہ بھئی حد ہی ہو گئی کہ ان کے مشورے ہی ختم نہیں ہوتے

کان پکائو مسافر

یہ ایسے مسافر ہیں جن کے موبائل عین سفر کے دوران بجیں گے اور تین چار بیلوں کے بعد فون اٹھائیں گے تاکہ پتہ چل سکے کہ ہمیں فون آیا ہے اور بس پھر لمبی گپیں شروع جس میں کھانے پکانے سے لے کر ماسی خیراں کے بیٹے کی شادی کا قصہ ہو گا کئی ایسے بھی ہوں گے جو بیل دے کر کہیں گے کہ یار بیل ماری ہے تو کال ہی کر لے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ بس اب بس یہ خواتین کا لحاظ نہ ہوتا تو ایسی سناتے ناں کہ تم کو پتہ لگ جاتا بچو ، ابھی ہم بتا نہیں سکتے کہ ہم کہاں بیٹھے ہیں بھئی کہاں بیٹھے ہو بتا دو ہمیں صرف یہی اختلاف ہے ان کان پکائومسافروں سے  ۔

بے ہودہ اور بدتمیز مسافر

یہ سب سے خطرناک قسم ہے کیونکہ یہ مسافر اپنے ہاتھوں کو ہر وقت حرکت دئیے رکھتے ہیں جی بالکل لیکن خواتین کے دست درازی کے لئے یقینا ان کی گھر سے ہی اچھی تربیت نہیں ہوئی ہوتی ، کھڑے ہوئے ہوں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح خواتین کے کندھے سے کندھا ملا لیں اور کسی طرح گلے ہی مل لیں اور اگر بیٹھے ہوئے ہوں تو یہ خواتین کی فرنٹ سیٹ کے نیچے جو خالی جگہ ہوتی ہے وہاں سے اپنی انگلیاں نکال کر تماشے کرتے رہتے ہیں ۔اس میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر حضرات بھی شامل ہٰیں ، اس کالم کا سب سے دردناک پہلو یہی ہے کہ اس وجہ سے ہی خواتین کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اوروہ ان گھٹیا حضرات کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتیں ، نہ ہی روز روز چیخ و پکار کر کے گاڑی میں ہنگامہ کر سکتی ہیں اگرچہ کہ ہمارے ملک میں خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا ضرور جاتا ہے لیکن یہ چند غور طلب معاملات ایسے ہیں جو گندی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں ، ہم اور آپ سب ان وینوں میں سفر کرتے ہیں کیا ہم محفوظ اور آرام دہ سفر کے حق دار نہیں ۔ ؟۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *