سیدنا عمر فاروقؓ کا استثنیٰ

شاہد یوسف خان

shahid yousuf khan

ہمارے ملک میں انصاف تو سب مانگتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو عدالتوں میں لانے ، سڑکوں پر گھسیٹنے اور سزائیں دینے کے نعرے اور دعوے بلند و بانگ  جوش سے کرتے ہیں  لیکن جب  ان مہان ہستیوں کو عدالتیں بلاتی ہیں تو کوئی بیماری کے خوف سے تو کوئی اپنے تکبر سے عدالتی فیصلوں کو روندنے میں ہی  اپنی بڑائی سمجھتا ہے۔ ہمارے ہاں عدالتوں کو اہمیت ویسی دی جاتی ہے جیسے یہ ایک بادشاہ کا غلام ادارہ ہو۔ آج کل میاں نواز شریف صاحب عدالتوں کو  جانبدار اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں جبکہ ماضی میں دوسرے حکمران بھی ایسا سمجھتے رہے۔ ٹھیک ہے جب عہدہ اختیارات چھین لیے جاتے ہیں تو بندہ ایک دم جذباتی بھی ہوسکتا ہے اور ہوش بھی کچھ لمحوں کے لیے کھو سکتا ہے لیکن اس بادشاہی کو اپنا یا اپنے خاندان کی وراثت سمجھنا تو کسی بے وقوفی  سے کم نہیں ہے۔

  ایک طرف سیدنا عمرؓ کی مثالیں دی جاتی ہیں تو دوسری طرف اپنے آپ کو قانون سے مبرا  و مستثنیٰ سمجھا جاتا ہے۔نیب کی طرف سے میاں نوازشریف کو   عدالت پیش ہونے کا حکم دیا ہے تو محترمہ مریم نواز صاحبہ  نے کُلی انکار اس لیے کر دیا کہ  میاں صاحب  ہرگز  پیش نہیں ہوں گے  کیونکہ ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے جبکہ آج اسحق ڈار کے وارنٹ اور انہیں بھی  نیب میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

امُّ المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روائت ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے ایک عورت (جس نے چوری کی تھی )کی سفارش کی ۔تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسلئے ہلاک ہوگئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد(سزائ) قائم کرتے تھے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہؓ نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیتا.

حضرت عمرؓ کے صاحبزادے روزگار کی تلاش میں عراق گئے اور ایک سال بعد واپس آئے تومال سے لدے اونٹ ان کے ہمراہ تھے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا” بیٹا اتناما ل کہاں سے ملا“
بیٹے نے جواب دیا ” تجارت کی“
حضرت عمرؓ نے پوچھا” تجارت کیلئے پیسہ کہاں سے آیا؟“
بیٹے نے جواب دیا ” چچا نے قرض دیا“ ۔ چچا سے مراد کوفہ کاگورنر تھا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً گورنر کو مدینہ طلب کیا، جو صحابی رسول پاک بھی تھے۔ ان سے حضرت عمرؓ نے پوچھا ”کیا وہاں بیت المال میں اتنی دولت آگئی ہے کہ شہری کو قرضہ دے سکتے ہو؟“
گورنر نے جواب دیا : ”نہیں ، ایسا تو نہیں“ ۔
حضرت عمر ؓ نے پوچھا ”پھر تم نے میرے بیٹے کو قرض کیوں دیا، اس لئے کہ وہ میرا بیٹا ہے؟ میں تمہیں معزول کرتا ہوں کیونکہ تم امانت داری کے اہل نہیں ہو۔“
پھر حضرت عمر ؓ نے اپنے بیٹے کو حکم دیا ”سارا مال بیت المال میں جمع کرادو، اس پر تمہارا کوئی حق نہیں“۔

ایک اور واقعہ  جب سیدنا عمرؓ  ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا؟

تو عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے،

عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہؓ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔

  شریف خاندان کا الیکشن جیتنا کوئی بہت برا معرکہ نہیں ہے بلکہ یہ چند دن کے لیے اختیارات اور ذمہ داریوں کا بوجھ پڑنا ہے، کاش کہ سمجھ جاتے کہ الگزینڈر جیسے فاتح دنیا کو فتح کرنے بعد بھی نہیں رہے تو کیسے بچنا ہے تم یا تمہارا اقتدار ۔

انصاف تو یہ  ہے کہ میاں صاحب  سے  لے کر خان صاحب عدالتوں  کا سامنا  کریں ۔یہ تو  چار فٹ کی بادشاہی پر اتنا نازاں   ایک طرف چوبیس لاکھ مربع میل کے بادشاہ سیدنا عمرؓ کی  بادشاہی بھی تھی وہ دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی مثالیں دنیا بھر کے عدالتی نظاموں میں سلیبس بن چکی ہیں باقی  اقوام عالم کے بھی چند بادشاہوں  کے نام  تاریخ میں ملتے ہیں    ۔ورنہ تاریخ سب کو نِگل کر ہضم بھی کر چکی ہے۔ تو کون رہے گا ، یقیناً کوئی نہیں ۔ رہین گے اور اگر یاد رکھے جائیں گے تو کارنامے اعمال اور کردار۔ ورنہ حکمرانی بھی کان ہوجائے گی ، استثنیٰ بھی مٹی ہوجائے گا   اور کود بھی صفحہ تاریخ سے مسخ۔۔۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *