ایک خطرناک کھیل

abbas nasir

اس سکیورٹی سٹیٹ کی ویژنری لیڈر شپ ایک متوازن پولیٹیکل سسٹم کے ساتھ کیسے تجربات کرتی ہے اس بات پر مغز ماری کرنا بے کار اور پریشان کن عمل ہے۔ پچھلی تین دھائیوں سے بہت سے ایسے اقدامات کیے گئے جن سے ہمیں خود نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ یہ تھی کہ بڑے ریاستی ادارے اقتدار اور طاقت کی بھوک میں آئین کو نظر انداز کرتے رہے۔ مشرف اور ضیا نے اپنی طاقت میں آڑے آتے آئین کو اپنی مرضی سے تبدیل کروا لیا تا کہ ان کی طاقت کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ اعلی عدلیہ کی تاریخ بھی اچھی نہیں رہی کیونکہ عدلیہ بھی قوم کے خلاف ان جرائم میں خاموش حصہ دار بنی رہی ۔

جی ہاں پاکستان میں سویلین سیاستدانوں کی خامیوں اور ان کے جرائم کی مذمت کرنا ایک عادت سی بن گئی ہے۔ میں کسی سیاستدان کی حمایت نہیں کر رہا لیکن پورے ملک کے مسائل کی ذمہ دار صرف سیاست دانوں کو قرار دینا حقیقت کے بر عکس ہے کیونکہ پچھلی تین دہائیوں میں سیاستدانوں کو پر کاٹ کر اقتدار کی کرسی دی گئی ہے۔ فوجی بغاوت اور عدالتی مداخلت کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی سیاسی نظام کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ ضیا الحق مثبت نتائج کے حصول کے لیے ایسے کوششوں کی وکالت کیا کرتے تھے۔ 1970 اور 1977 کے جنرل الیکشنز کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ الیکٹورل انجینیر حضرات نے پی پی پی کو شکست دینے کے لیے عجیب و غریب طریقے اختیار کیے۔

اسی مقصد کےلیے آئی جے آئی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے سربراہ اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کو بنایا گیا جنہوں نے بعد میں اعتراف کیا گیا کہ اس اتحاد کا مقصد پیپلز پارٹی کو کمزور کرنا تھا کیونکہ آرمی بی بی کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کے باجود 1988 میں پیپلز پارٹی ہی پورے ملک میں مضبوط جماعت ثابت ہوئی اور الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کے بعد ایسی مہم چلائی گئی جس سے بہت جلد پیروکیلزم کے ذریعے عوام کی توجہ آئی جے آئی کی طرف مبذول کر لی گئی۔ آج تک آرمی کی پیپلز پارٹی سے نفرت کی کوئی خاص وجہ سامنے نہیں آئی ہے سوائے اس کے کہ ذوالفقار علی بھٹو اداروں کو مضبوط کر کے آرمی کو سیاست سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ بھٹو نے 1971 کے بعد اپنی پارٹی کا امیج بہتر کیا اور 5 سال کے دوران ہی اتنے مقبول ہو گئے کہ انہیں طاقت سے ہٹانے کےلیے ان کے خلاف جعلی مقدمات بنا کر انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا۔

ضیا دور میں دو طرح کے طبقوں کو مضبوط کیا گیا۔ ایک طبقہ ان سیاسی جماعتوں پر مشتمل تھا جو پیپلز پارٹی کی مخالف تھیں اور دوسرا مذہبی علما کا گروپ تھا۔ یہ مذہبی گروپ اسلامائزیشن پروگرام ا ور سوویت جنگ میں آرمی کا ساتھ دینے کےلیے بنایا گیا تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان جنگ کم خرچ میں زیادہ فائدہ اور کچھ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی مقاصد کے حصول کے لیے لڑی گئی تھی۔ بدلتے ہوئےعالمی ماحول میں جب نان سٹیٹ ایکٹرز سے نمٹنا مشکل تر ہو چکا ہے وہاں ملکی سیاست میں بھی ایک پریشان کن ماحول ملک کی صورتحال کو کوفناک بنا رہا ہے۔

شاید اس کے پیچھے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا خیال یہ ہو کہ یہ طاقتیں اپنے تشدد پسند نظریات ترک کر دیں گی لیکن کون جانتا ہے کہ اس کے پیچھے دوسرے کیا محرکات پوشیدہ ہوں۔ سول ملٹری ریلیشن کے حوالے سے دیکھا جائے تو نواز شریف کو پی پی کے خلاف کھڑا کرنے کے بعد یہ معاملہ ایک مکمل مرحلہ طے کر چکا ہے۔ آج سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کی جماعت کے خلاف وہی طریقہ اختیار کرر ہی ہے۔

اس لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جس میں آئی جے آئی گروپ کو توڑ کر ملی ٹینٹ اہل حیث اور دیو بندی گروپوں کو مین سٹریم جماعتوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ این اے 120 کے حالات سے واقف سیاسی پنڈتوں کے مطابق ن لیگ کے ووٹ میں 11 فیصد کمی کوئی خاص فرق نہیں ہے کیونکہ عام طور پر ضمنی الیکشن میں اتنا فرق دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن میرے لیے ن لیگ کے ووٹ کم ہونے کی بجائے زیادہ پریشانی اہل حدیث اور بریلوی جماعتوں کی بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرنا ہے۔ آپ جاننا چاہیں گے کہ مجھے ان مذہبی گروپوں کی کامیابی سے کیا تشویش ہے ۔ اگر وہ شدت پسندی ترک کرنے ، اور اپنے ہتھیاروں سے نجات پا کر ملک کے الیکٹورل کوڈ کے مطابق چلنے پر راضی ہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہےلیکن کیا وہ ایسا کریں گے؟ ابھی تک تو ان کے گروپ کے ایک شخص نے بھی ہتھیار نہیں پھینکے۔ بریلوی طبقہ جس نے سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو شہید کا درجہ دے دیا ان کا بیانیہ بھی بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر مین سٹریم پراجیکٹ کا مقصد شدت پسندوں کو ڈیموکریٹ بنانا ہے تو یہ قابل تعریف عمل ہے لیکن اس کا مقصد اگر نفرت،فرقہ واریت اور عدم برداشت کو ہوا دینا ہے تو یہ چیز پاکستان کو ایک بہت بڑے نقصان تک لے جا سکتی ہے۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1359389/disaster-in-the-making

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *