کمبل سے ایک پیر نکال کر سونے والے افراد کے لیے بڑی خبر!

انسان جب بہت زیادہ تھکا ہوا ہوتا ہےتو اسے نیند مشکل سےآتی ہے ؛فوٹوفائل

اکثرافراد نیند کی کمی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں اور نیند نہ آنے پر مختلف ادویہ کا استعمال کرتے ہیں جب کہ کچھ افراد اپنا ایک پیر کمبل سے باہر نکال کر سوتے ہیں لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ یہ عمل کام کرجاتا ہے اور انسان نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔

انسان جب بہت زیادہ تھکا ہو تو اسے نیند مشکل سےآتی ہے، جب کہ نیند نہ آنے کی اور بھی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔ عام طور پر نوجوان یا وہ لوگ جو دیر رات تک موبائل فون استعمال کرتے ہیں وہ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگ نیند کےلیے دوائیوں کا استعمال کرنے کے ساتھ مختلف طریقے اپناتے ہیں جن میں سب سے دلچسپ کمبل سے ایک پیر باہر نکال کر سونا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عمل سے انسان بڑے آرام سے سوجاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو ایک پیر کمبل سے باہر نکال کر نیند کیوں آتی ہے؟ آخر اس کے پیچھے وجہ کیا ہے؟ تو اس سوال کے پیچھے ایک بہت بڑی سائنسی وجہ ہے جس کے بارے میں اکثر افراد نہیں جانتے۔

سائنسی ماہرین کے مطابق انسانی جسم کو آرام کرنے کےلئے ایک خاص درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔ اگر ہمارے جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھا ہوا ہوگا یا آنکھیں بھاری ہوں گی تو اس کا اثر براہ راست ہماری نیند پر پڑتا ہے اور انسان ٹھیک سے سو نہیں پاتا لہٰذا اکثر افراد بہت دیر تک نیند نہ آنے کی وجہ سے اپنا ایک پیر کمبل سے باہر نکالتے ہیں جس سے ان کے جسم کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے اور انہیں نیند آجاتی ہے۔

الاباما یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن اور سائیکولوجی کی پروفیسر نتالی ڈوٹووچ نے نیویارک میگزین کو دیئے جانے والے انٹرویو میں نیند اور درجہ حرارت کے مابین تعلق کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیر جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں کیونکہ پیروں پر بال نہیں ہوتے جس کی وجہ سے انہیں کمبل سے باہر نکالنے پر جسم کا درجہ حرارت خودبخود کم ہوجاتا ہے اور انسان کو سونے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آتی۔

لہٰذا ہمارا آپ کو مشورہ ہے کہ اگر آپ بھی نیند کی کمی کا شکار ہیں یا آپ کو رات کو سونے میں دشواری محسوس ہوتی ہے تو ایک بار یہ عمل کرکے دیکھیے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا اور آپ پوری رات ایک بھرپور اور مزیدار نیند کا مزہ لیں گے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *