عدلیہ کے وقار کو یقینی بنائیں !

roq

اسلام میں عدلیہ کو آزاد انہ حق کے ساتھ فیصلے کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی اسلامی حکومت چلاتے ہوئے عدل و انصاف کی بہترین مثالیں قائم کیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قانون وانصاف سے کوئی بالاتر نہیں ہے ۔اگر ایک ہی نوعیت کا جرم کسی ایسے فرد سے ہوتا تو اسے وہی سزا ملتی جو کہ کوئی جرم عام فرد سے سرزد ہونے پر ملتی ہے۔ قانون کی نظر میں خاص و عام کا کوئی امتیاز نہ تھا اسلامی نظام حکومت میں بحثیت امیر مملکت ایک خلیفہ کو قاضی منتخب کرنے کا اختیار حاصل تھالیکن جب ایک شخص کو قاضی منتخب کر دیا جاتا ہے تو اس قاضی کو خلیفہ وقت کے خلاف بھی اگر فیصلہ کرنا پڑتا تو وہ اس میں آزاد تھا بلکہ قاضی کے لیے ضروری تھا کہ خلیفہ وقت اور ایک عام آدمی کے ساتھ برتاؤ میں برابری کا سلوک روا رکھے ۔خلفائے راشدین کے دور میں بھی انھی اصولوں کی بے شمار نظیر ملتی دراصل اس طرز حکومت کی ایک شکل جمہوریت ہے کہ جس میں آقا اور غلام کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں حضرت زید بن ثابتؓ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’زید اس وقت تک قاضی ہونے کے قابل نہیں ہو سکتے جب تک کہ عمر اور ایک عام مسلمان ان کے نزدیک برابر نہ ہو ۔یہ وہ وجوہات تھیں کہ جن کی بنا ء پر اسلامی حکمرانوں نے کرسی پر نہیں بلکہ عوام کے دلوں پر حکومت کی ۔
اس سے پتہ چلتا ہے قانون کی عملداری میں ریاست کی بقا اور عوام کی خوشحالی پوشیدہ ہے ۔مگر ہمارے ہاں قانون و انصاف کتابوں میں بند ہے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انگریز جاتے ہوئے جہاں غلام ذہنیت چھوڑ گیا وہاں سب سے قیمتی چیز ساتھ لے گیا اور وہ تھی ’’قانون کی عملداری ‘‘۔اب مسئلہ یہ ہے کہ چاہتے تو سب ہیں کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو مگر ہمارے خواص افراد کی حکمرانی کے قائل ہیں اورقانونی گرفت میں صرف عام آدمی کو دیکھنا پسند کرتے ہیں ۔ویسے بھی قانونی عملداری صرف سعودی عرب او ر مغربی دنیا کے بعض ممالک میں ہے جہاں پر دنیا نے با رہا ایسی مثالیں دیکھی ہیں جس کا تصور بھی دنیا کے بیشتر حکمران نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ سعودی عرب کا ذکر کبھی اچھے الفاظ میں نہیں کرتے اور ہمیشہ ایسے مسائل اور باتوں کو زیر بحث لاتے ہیں کہ جس سے سعودی حکومت کی جابریت اورغیر ضروری اسلامی شعار سے نفرت ظاہر ہوتی ہے ۔تاکہ عالم اسلام کے بارے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دی جا سکے اور ایسا کرنے والے نہیں جانتے کہ وہ ذاتی کدورت کیوجہ سے اسلام دشمن قوتوں کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔
تاہم کچھ واقعات اور فیصلے ایسے ہوتے ہیں جوچھپانے سے بھی نہیں چھپتے ۔ایسا ہی روح فرسا واقعہ 18اکتوبر 2016 میں پیش آیا جب سعودی عرب میں سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے جواں سال شہزادے ترکی بن ترکی المسعود کو قاتل ثابت ہونے پر سزائے موت دیتے ہوئے سر عام گردن اڑا دی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ قتل کا واقعہ دو سال پہلے ہوا تھا اور تب سے شہزادے کے ورثااور مقتول کے وارثان رابطے میں تھے مگر مقتول کے والد کا اصرار تھا کہ ہم قتل کے بدلے قتل والا انصاف چاہتے ہیں ۔ جب عدالتی فیصلے کے خلاف تمام اپیلیں مسترد ہو گئیں تو ریالوں کی بوریا ں بھی مقتول کے وارثان کو معافی دینے پر آمادہ نہ کر سکیں ۔منت سماجت بھی کام نہ آسکی تو سعودی فرمانروا اور خادم الحرمین شریف شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سزا پر عمل درآمد کے احکامات جاری کر دئیے اور مقتول کے والد کے سامنے شہزادے کا سر قلم کر دیا گیا ۔اس منظر کو یو ٹیوب پر پوری دنیا نے دیکھا ۔مگر مشرقی اور مغربی میڈیا میں اسے وہ کوریج نہ مل سکی جو کہ گھٹیا سی خبر کو بھی عام طور پر مل جاتی ہے ۔
قارئین کرام ! قانون کو بلا امتیاز ہر چھوٹے بڑے پر نافذ کرنے کا سعودی عرب میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی 1975 میں شاہ فیصل کو شہید کرنے والے قاتل کا تعلق بھی سعودی شاہی خاندان سے ہی تھا ۔وہ اس وقت کے فرمانروا کا بھتیجا تھا مگر بھائی کے قتل میں ملوث بھتیجے کو سزا سنائی گئی اور سرعام سر قلم کیا گیا ۔ان واقعات کو جان کر ہمیں خیال آتا ہے کہ شاہی خاندان کو کوئی استثنا حاصل ہوجاتی یا معافی مل جاتی تو کتنا برا ہوتا مگر سعودی عرب شاید واحد اسلامی ریاست ہے جس نے اسلامی قوانین کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا اور چوری پر بھی ہاتھ کاٹنے کی سر عام سزائیں دی جاتی ہیں ۔
کیا ہم مسلمان نہیں ہیں ؟ کیا ہم ایک اسلامی ریاست کے شہری نہیں ہیں ؟ کیا ہمارے حکمرانوں نے بہت زیادہ رہنا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو آج عدلیہ کے فیصلے پر ہنگامہ کیوں ہے ؟یہ وہی عدلیہ ہے جس کے حکم سے سینکڑوں لوگ موت کی سزا پا چکے ہیں اور سینکڑوں ہی مختلف سزاؤں میں جیل کاٹ رہے ہیں ۔آج تک کسی سزا پر تو یہ نہیں کہا گیا کہ یہ سازشی فیصلہ ہے تو آج یہ جرا ت کیوں ہو رہی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے وقار کو مسلسل مجروح کیا جا رہا ہے ۔برسراقتدار لوگوں نے حلقہ 120 میں جیت کے بعد بھی جو تقاریر کیں ان میں واضح تھا کہ یہ جیت پیغام ہے کہ میاں صاحب کی عوامی مقبولیت کو عدالتی فیصلہ چیلنج نہیں کر سکتا ان کے تاثر میں وہ فیصلہ ایک سازش اور جھوٹ کی بنیاد پر ہے بلکہ اپنے انٹرویوز میں کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہتے ہیں کہ ہماری کوئی جائیداد یا فلیٹ لند ن میں نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر حکومتی وزرا اور رفقا ء کی تقاریر میں بھی کہیں مبہم اور کہیں برملا اداروں کو نشانہ بنایا گیا بالفرض ایسا ہی ہے تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ پاکستان کا قانون اندھا اور کمزورہے تو ایسے میں عدلیہ کے کئے گئے تمام فیصلے سوالیہ نشان ہونگے ۔ اس لیے ملک و قوم کے وقار سے کھیلنے والوں کو روکنا وقت کی ضرورت ہے اور قانون کی حکمرانی میں ہی ملکی و قومی وقار پوشیدہ ہے ۔اب تو اس حد تک انتہا کر دی گئی ہے کہ آرمی چیف نے بھی واضح وضاحت فرما دی ہے ۔اسلام میں قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے اور یہ کلیہ کامیاب ریاست کی بنیاد ہے مگرہم نے اسے نظر انداز کر دیا اور غیروں نے اسے اپنا لیا ۔ایل گابا جو کہ تقسیم ہند سے پہلے قانون دانی میں ایک بڑا نام رکھتے تھے قبول اسلام کے بعد خالد لطیف گابا کی حیثیت سے جانے گئے اور پھر سیرت النبیؐ پر ان کی کتابیں بہت مشہور ہوئیں انھوں نے لکھا ہے کہ انگریز راج نے ہندوستان میں بے شمار قباحتوں کو جنم دیا ۔انہوں نے تقسیم کرو ،حکمرانی کرو کے فارمولے پر عمل کیا ۔ان کی تہذیب کی درخشاں علامت ان کا انصاف تھا جس سے وہ رو گردانی نہیں کرتے تھے یوں انھوں نے ہندوستان کے وسیع و عریض رقبے پر حکمرانی کی ان کا آئین کتابوں میں لکھا ہوا نہ تھا بلکہ ان کا قانون مجرم کو پکڑتا تھا اور اسے اس کے سماجی مقام سے الگ سزا دیتا تھا ۔ان کے نظام عدل و انصاف نے اپنے بیشتر ضابطے اسلامی قوانین سے اخذ کئے ہوئے تھے ۔
اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اورزندگی کے ہر معاملے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے مگر ہم نے اسلام کو فرقہ واریت کے ذریعے الجھا کر معاشرتی اساس کو کمزور کر دیا ہے ۔بد معاش ،رسہ گیر اور جرائم پیشہ افراد کو رعایت مل جاتی ہے بلکہ اکثر کواعلیٰ مقام بھی حاصل ہے اور ایسے ہی لوگ مقام پاتے پاتے بالآخر جمہوریت کا حصہ بن جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دولت اور الیکشن میں ملنے والی طاقت جب سر چڑھ کر بولتی ہے تو راستے کی ہر دیوار کو ہٹا یا جاتا ہے کیونکہ طاقت کا نشہ یاد خدا بھلا دیتا ہے کہ من مرضی کے افسران کی آؤٹ آف ٹرن بھرتیاں کر کے قانون و انصاف کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں اور یوں قانون کی عملداری غریب طبقے تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے ۔جبتک اچھی شہرت کے حامل افراد سسٹم کا حصہ نہیں بنیں گے تبدیلی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔اس لیے ملکی کرتا دھرتا کو چاہیئے کہ عدلیہ کے وقار کو یقینی بنائیں ،اداروں اور ملک و قوم کی سالمیت کے لیے ضروری ہے کہ سب کچھ بھلا کربا ہم ملکر نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ ملک کے لیے کام کریں اللہ سے ڈریں کیونکہ جگ ہنسائی بہت ہوچکی ’’جو بچے ہیں سنگ وہ سمیٹ لو۔‘‘اور عوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ وعدے اتنی جلدی پورے کب ہوتے ہیں ۔۔۔
تارے توڑ کے لانے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
جناب سعید الظفر صدیقی نے خوب کہا تھا کہ !
آج سچ بولتے رہنا ‘آسان نہیں
لوگ تو لوگ ہیں آئینے بھی مکر جاتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *