محرم میں شیعہ سُنی احترام کی ضرورت

شاہد یوسف خان

shahid yousuf khan

شیعہ سُنی ایک حقیقت ہیں اور ان کے اختلافات بھی برسوں سے چلے آ رہے ہیں اور رہنے بھی ہیں۔پورا سال تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے ہیں لیکن ان دس دنوں میں سب کچھ بھول کر ہم وہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں جس سے کسی علمی فائدے کی بجائے نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ تقریباً پورے ملک میں کے ہر شہر میں شیعہ سنی ایک ساتھ آباد ہیں اور ان سب کے دنیاوی معاملات، لین دین بھی چلتے رہتے ہیں ۔
احترام، حوصلہ ، اعتدال    کی زیادہ ضرورت انہی دنوں میں ہوتی ہے اور ساتھ اہل تشیع اور اہلسنہ کے تعلیم یافتہ افراد اہلبیتؓ و اصحاب رسولؓ کی گستاخی نہ خود کریں نہ کسی مولوی یا ذاکر کو کرنے دیں۔ رسول اللہؐ کا کاگھرانہ پاک تھا اور قیامت تک پاک رہے گا، آل رسولؐ کی خواتین مقدسہ کی عزت اور اورعظمت قیامت تک محفوظ رہے گی چاہے اس پرجتنے بھی جھوٹ گھڑے جائیں۔ اہلسنہ کے علماء یزید  بن معاویہؓ کے معاملے پر خود اختلافات کا شکار رہے ہیں جو اس قریب کے دور کے تھے لیکن آج ہم یزید کیا  ایک دوسرے کو جنت جہنم پہنچانے پر بضد ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ خدا کے فیصلے ہیں تو اسے ہی کرنے دیں۔
تاریخ اور علم کی سرحد نہیں ہے یہ جتنا بھی پڑھا جائے یہ ختم ہونے والی چیز نہیں  ہے بلکہ اس سے مزید دروازے کھلتے ہیں۔ اگر ہمیں  سانحہ کربلا  جیسے  ظلم کو تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو اس کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ ہمیں  جذباتیت اور مسلک کی عینک اتار کر ہمیں تاریخ کے وہ صفحات کھنگالنے چاہئیں تو اس کھوج میں اہل باطل کی شناخت بھی  شاید ممکن ہوجائے گی۔لیکن اگر اسے اہل حق اور باطل صرف  مسلکی کیٹگری میں  ڈالنا چاہتے ہیں تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔۔ اس میں کون حق پر تھا کون باطل تھا یہ تاریخ بھری پڑی ہے لیکن اسے پرکھنے کے لیے ایک کسوٹی چاہئیے  جو  شاید ہمارے پاس محدود حالت مییں ہے۔

بطور ایک طالبعلم تاریخ  یہی اندازہ لگایاہے کہ اسلام کو سب سے زیادہ زک یہودیوں نے پہنچائی ہے جس کی سازشوں کا شکار کمزور عقیدہ مسلمان بھی ہوئے تھے جس کی وجہ سے صرف کربلا کا سانحہ نہیں بلکہ اس سے پہلے سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ  جیسے عظیم صحابہؓ کے خون سے ان کی آتما ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی تو ان بدبختوں نے سیدنا حسینؓ کو بھی شہید کردیا۔

اگر اس موضوع پر کی گئی تحقیقات کو سامنے رکھا جائے تو بلا مبالغہ 1300 سال میں 1000 سے بھی زائد ایسے مختلف خود ساختہ واقعات سامنے آسکتے ہیں جن کو بند کمروں میں بیٹھ کر وضع کر دیا گیا ہے اور ایسا کرنا اس گروہ کی ضرورت بھی تھی  جس کے ہاتھوں پر آل رسولﷺ و اصحاب رسولﷺ کا خون لگا ہوا تھا۔

محرم کے دس دن اگراہل تشیع ماتم و عزاداری کو اپنی عبادت سمجھتے ہیں تو اہلسنت کو چاہیئے کہ  آپ اپنی عبادت کریں۔ اہل تشیع  طبقہ میں نوجوان اور پڑھے لکھے طبقے کو مثبت اور بہتر رویہ اختیار کرنا چاہیئے۔ بہتر تو یہ تھا کہ اہل تشیعہ حضرات ایسے حالات میں جب دہشت گردی زوروں  پر ہے تو راستوں اور جگہوں کو محدود کرتے تاکہ  اپنے لیے بھی مشکل پیدا نہ ہو اور دوسرے کے لیے بھی مشکلات پیدا نہ کی جائیں جو  پیغمبر اسلام اور ان کے اہلبیتؓ کا پیغام ہے۔  ہمیں صبر اور استقامت ویسی ہی ادا کرنی چاہئیے جیسی سیدنا حُسینؓ اور آپؓ کے رفقاء  نے کی۔ جھگڑا ایک فتنہ ہے  اس فتنے سے بچنا چاہیئے اور ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیئے۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *