میرے ہم وطنو ں کےلیےخوشخبری

talat hussainبشکریہ: دی نیوز
میرے ہم وطنو، میرے محّب اُلوطن ہموطنو اور باقی سارے پاکستانیو، وقت کی لہر بہت عرصے کے بعد آپ کے دروازے پر دو بڑی خوش خبریاں لائی ہے۔کچھ بالکل ہی فارغ لوگوں ، بال کی کھال نکالنے والے اور بلاوجہ کے دقیانوسی ان عالی شان خوشخبریوں کو محسوس نہیں کر پا رہے۔خیر جو بھی ہو یہ گھٹیا کوششیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں اور سچ کیا ہے یہ سب کے سامنے آہی جائے ئگا کیونکہ میڈیا تو اپنی ہی سائیڈ پہ ہے۔
چلیے دونوں خوشیوں کی پٹاری کھولتے ہیں۔ پہلی خوشی تو پاکستان کے سیاسی منظر سے شریف فیملی کا بوریا بستر گول ہو جانا۔اس پراجیکٹ پر کافی عرصے سے کام جاری تھا اور بس اب اس کا پھل ملنے ہی والا ہے۔اور دوسری یہ کہ سیاست کے مرکزی پردے پر دو سیاسی جماعتوں ملّی مسلم لیگ(MML) اور تحریکِ لبّیک پاکستان (TLP) کا شاندار اضافہ۔الحمدُللہ۔
اللہ کے کرم اور سرگرم ارکان کی مدد سے یہ دونوں کام ہی بغیر کسی پریشانی کے انجام پا گئے۔اب ان کی وجہ سے ہی اس ملک کی تقدیر بدلے گی۔صرف جن کے دماغ بند ہیں اور جن کے دل ملک کے خلاف سازشیں کر کر کے کالے ہو چکے ہیں وہی اپنی آنکھوں کے سامنے نئی تاریخ کو رقم ہوتے دیکھ کر بھی اس پر یقین نہیں کر پا رہے۔
شریف فیملی کو ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ مضبوط پہلوان ہیں لیکن اصل میں اُن کی حالت ڈوبتے ٹائی ٹینک جیسی ہے۔نیب نے بڑے شریف بھائی اور اُن کے تینوں شریف بچوں کو گریبان سے پکڑ لیا ہے۔ وہ اپنے خلاف چل رہے ریفرنسز کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔اب یہ ریفرنس یا تو اِن کو جیل پہنچائیں گے یا پھر ملکی سیاست سے ہمیشہ کے لئیے اُن کو ہمیشہ کے لیے بے دخل کر دیں گے۔کیا حسین نظارہ ہوتا ہے جب نیب جاتی عمرہ کے گھروں پر تالے ڈالتی ہے یا پھر اسحاق ڈار کے گھر پر چھاپا مارتی ہے۔اب کہاں گم ہے وہ عورت جو این اے 120کے انتخابات کے نتائج سے دھوکہ کھا گئی تھے اور بلندد اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتی تھی جیسے اُس نے دنیا ہی فتح کر لی ہو۔ اور وہی ڈار جو کافی عرصے سے فائلیں دبا کے بیٹھا تھا اور اس کو لگتا تھا کہ ساری ڈوریں اُس کے ہاتھ میں ہیں۔اب بیچارے چھپ کے لندن میں بیٹھے ہیں اور اپنی بدقسمتی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ مسٗلہ مکمل طور پر ختم ہو سکے ان ریفرنسز کے ساتھ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس بھی کھولا جا رہا ہے تاکہ شہباز شریف اور اُن کے بیٹے کو بھی گھر بھیجا جا سکے۔ چھوٹے شریف کو جلد ہی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ کون سا راستہ چنے؟اب فرمانبرداری سے شائد اُن کے سیاسی مستقبل کوبڑے شریف اور اُس کی فیملی کے مقابلے میں تھوڑا سہارا مل جائے۔جوش اور نافرمانی تو اُنہیں اُن کے بڑے بھائی جیسا ہی بنا دے گی۔ اب آپ کو ماڈل ٹاؤن واقعے کی تحقیقی رپورٹ تو یاد ہو گی جس کی شائد قانونی تو کوئی خاص اہمیت نہیں لیکن اُس نے لوگوں کو اپنے لیے انصاف مانگنے پر ضرور اُکسایا تھا اور یہ انصاف کی تلاش اُن کو چیف جسٹس تک لے جائے گی۔ اس لئیے شہباز شریف کو چودھری نثار کی تجویز مان کر اپنے بھائی کی واپسی کے ڈرامے کا حصّہ نہیں بننا چاہئیے۔
میرے عزیز ہم وطنو آپ کو ان وضاحتوں کے بعد یہ تو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ شریف فیملی کا سیاست پہ اب کوئی تسلط باقی نہیں رہے گا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اُن کو حکومت کا کیا؟ تو اُن کی حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پنجاب میں ن لیگ کی کیبنٹ کی طرح شاہد خاقان عباسی اور اُن کی کیبنٹ بھی نواز شریف کے سیاسی کیرئیر کو ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔وہ مانیں نا مانیں لیکن ایسا ہو تو رہا ہے نا۔ اور یہ قومی سیاسی استحکام کے لیے اچھا بھی ہے اور برا بھی۔
لیکن سب سے اچھی بات تو MML اور TLP کی آمد ہے۔وہ تو آئے اور چھا گئے۔الحمدُللہ کیا عوام نے اُن کے اُمیدواروں کی پذیرائی کی۔ضمنی انتخابات نے اُن کو پھر پور موقع دیا کہ وہ ممتاز قادری اور حافظ سعید کی تعلیمات کے ساتھ اپنی محبت، اپنی جماعت کے انتظامی ڈھانچے اپنی طاقت اور وسائل کا بھی بھرپور مظاہرہ کریں۔ مجھے دلی خوشی محسوس ہوئی انتخابی حلقے میں ایسے آج کے لیڈرز کی تصویریں قائدِ اعظم کے ساتھ دیکھ کر۔
میرے ہم وطنو ہم پاکستان کے دیر ینہ سوال کہ پاکستانی سیاسی طرز پر کس طرف جائے جیسے سوال کا جواب پانے ہی والے ہیں۔ہم نے جعلی لبرلزم، ضعیف آئین پسندی، آدھے دل والی آرمی حکومت اور اس کے ساتھ وہ حکومت بھی جھیلی ہے جس میں شہری اور آرمی ساتھ ساتھ تھے۔ لیکن سب مل کر بھی اس قوم کاحوصلہ نا توڑ سکے۔
لیکنMML اور TLP کے میدان میں آنے کے بعدقوم کے پاس اب سچ میں کوئی اُمید ہے۔جب سب حلقوں کو اُن کی تعداد اور وزن کے حساب سے نئے سیاسی منظر نامے میں جگہ دی جائے گی تبھی تو ہم سیاسی اور مذہبی دلچسپی میں کوئی تبدیلی لاپائیں گے۔سب کے سب مسائل حل ہو جائیں گے اس لئیے ہمیں اب نہیں گھبرانا چائیے کہ فرقہ پرستی کو اداراتی درجہ مل جائے گا۔ ارے بھئی جب یہ چیز این اے120میں سنبھال لی گئی ہے تو پورے ملک میں بھی سنبھال ہی لی جائے گی۔یہ تو ساری پارٹیوں کا جمہوری حق ہے کہ اُن کو جگہ دی جائے۔ اور یہ پارٹیاں تو بہت خاص ہیں۔یہ بہت نیک، جوشیلی، محّبِ وطن اور اللہ سے ڈرنے والی پارٹیاں ہیں۔یہ تو 62اور63کی تمام ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ ان کو پیسہ دینے والے بہت ہیں اس لئیے اِنہیں عوام کے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ان کے اقتدار میں آنے سے تو ہمیں کئی دیرینہ مسائل کا حل مل جائے گا جو ہماری پالیسی کے عمل اور فیصلہ کرنے کی طاقت کو برباد کئیے ہوے ہیں۔
اپنی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے یہ ہمارے کئی پالیسی مسئلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ جیسے انڈیا کے خلاف کھڑے ہو کر یہ یہ ہمارا مسئلہِ کشمیر حل کرا سکتے ہیں۔ اگر امریکہ کی طرف سے بھی ہم پر جنگ مسّلط کی گئی تو یہ تو واشنگٹن کا قبرستان بنا دیں گے پاکستان میں۔یہ افغانستان کو بھی تمیز سکھا سکتے ہیں۔ ان پارٹیوں کا عوام کے احساسات پر اثر ہو گا، اس سے تو سول آرمی مسائل حل ہو جائیں گے اور ہمارا مغربی بارڈر بھی محفوظ ہو جائے گا۔طالبان تو افغانستان میں پہلے ہی بڑا اچھا کام کر رہے ہیں اُنہوں نے ہی تو انڈیا اور داعش کو خطے میں اثر انداز ہونے سے روکا ہوا ہے۔یہ پارٹیاں تو شمال مغرب میں حفاظت کی ایک نئی تہہ ثابت ہونگی اور اُن بنیاد پرستوں کو جو شام اور یمن سے یہاں کا رخ کر رہے ہیں اُن کو خود میں ضم کر لیں گی۔
اندرونی طور پر بھی یہ پارٹیاں مغربیت، جدیدیت، سوشل میڈیا کے سخت حملوں اور اخلاقی زوال کے خلاف کئی نظریاتی تبدیلیاں بھی لائیں گے۔ہمارے قومی نظریے کو یہی پارٹیاں بچائیں گی اور ہمارے ملک کو واپس جنرل ضیاء الحق ے دور میں لے جائیں گے۔ اور جو تاریخ یہ پارٹیاں لکھیں گی اُس کو تو قائدِ اعظم ، علامہ اقبال اور سرسید احمد خان بھی دوبارہ پڑھنا چاہیں گے۔اب یہ پارٹیاں ہمیں اتنی کامیابیاں دلوائے گی تو میرے ہم وطنو ہم سب کو مل کر ان پارٹیوں کا ساتھ دینا چاہئیے۔یہ تو خدا کا تحفہ ہیں بلکہ یہ تو انمول ہیں۔
اور یہ ن لیگ کی سیٹیں بھی کم کر دیں گی۔ مثال کے طور پرن لیگ کی26سیٹیں ہیں جن پر ن لیگ صرف 10,000 ووٹوں کے فرق سے جیتا۔۔اب ایسی سیٹیں تو پتہ نہیں کتنی ہونگی۔ اس کا فائدہ تو پی ٹی آئی کو بھی ہو گا۔ اور اگلے مرحلے میں تو یہ پارٹیاں ملک بھر میں ایک عظیم طاقت بن کر اُبھریں گی۔تب پاکستان ترقی کی دھوپ دیکھے گا۔میرے ہم وطنو جس صبح کا ہمیں ہمیشہ سے انتظار تھا وہ صبح تو بس آنے والی ہے۔سانس روک لو۔ آنکھیں کھلی رکھو، اور اللہ کا شکر ادا کرو۔شکریہ اُن لوگوں کا جو ان پارٹیوں کو لے کر آئے۔خوشیاں مناؤ۔ آزادی ملنے والی ہے۔ ایک قوم کو اور چاہئیے بھی کیا۔۔۔

میرے ہم وطنو ں کےلیےخوشخبری” پر ایک تبصرہ

  • ستمبر 27, 2017 at 4:56 PM
    Permalink

    بعض جگہ بلکہ اکثر جگہ یہی لگا کہ طلعت حسین کی ساری تحریر طنزیہ ہے ۔۔۔۔۔۔ چلیں طنزیہ بھی ہو تو ہونا قریب قریب ایسا ہی ہے ۔۔۔ طلعت حسین چونکہ نوازیے رہے ہیں اس لیے طنز کا عنصر نمایاں لگا ۔۔۔۔ عوام دیکھ لیں گے قریب قریب یہی ہوگا ۔۔۔۔ بس مجھے بڑا اختلاف یہ ہے کہ نواز ، شہباز، زرداری اور دیگر کی لوٹ مار کی رقم کیعوں واپس لینے کا کہیں پروگرام نظر نہیں آ رہا

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *