جناح ۹سال کے بچے تھے جب انہوں نے اسکول چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ۔۔۔

jinnah n rattiترجمہ: جہاں آراء سیدّ
قسط نمبر:5
محمد علی جناح1896میں لنکن اِن سے بیرسٹر کی ڈگری لے کر ممبئی پہنچے۔اُس وقت اُن کی عمر بیس سال بھی نہیں تھی لیکن اپنے آپ پر ان کا اعتماد بے مثال تھا۔ان کے والد گو کے کاروباری اعتبار سے بالکل دیوالیہ ہو چکے تھے اور ممبئی جیسے گنجان آباد شہر میں جہاں بے شمار وکیل اپنا مستقبل بنانے کے لئے جدوجہد میں مصروف تھے، ان کا کوئی مددگار تھا نہ لوگوں سے روابط۔۔۔۔لیکن ان میں سے کوئی بات محمد علی جناح کو اپنے اس مقصد سے نہیں ہٹا سکی کہ اُنہیں بڑا آدمی بننا ہے اور اعلیٰ مقام حاصل کرنا ہے۔اس خیال کا بیج دراصل قائدِاعظم کی والدہ نے اُن کے ذہن میں بویا تھاجس کی جڑیں ان کے انتقال کے بعداور بھی مضبوط ہو گئی تھیں۔ان کی والدہ ایک سادہ مزاج خاتون تھیں جن کا تعلق کاٹھیاوار کے ایک گاؤں سے تھا۔ان کی زندگی کا مرکز و محور شوہر اور چھ بچے تھے جن میں محمد علی جناح سب سے بڑے ہونے کے سبب زیادہ لاڈلے بھی تھے۔جس وقت وہ اپنی ڈگری لے کر۔۔’’صاحب‘‘ بن کر ، نئے نام اور نئی وضع قطع کے لباس میں انگلینڈسے لو ٹے تب تک اُن کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا ، تاہم اُن کی بہنیں بے چینی کے ساتھ ان کے استقبال کے لئے سراپا منتظر تھیں۔
محمد علی جناح نے کچھ ایسا مزاج پایا تھا کہ وہ کسی بھی کام کو تقدیر پر چھوڑنے کے عادی نہیں تھے کیونکہ وہ کوشش پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے والد جناح بھائی پونجابھی کو ئی کم ہمّت انسان نہیں تھے اور گو کہ اُن کو مزاج اپنے بڑے بیٹے سے قدرے مختلف تھالیکن وہ بیٹے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ محمد علی جناح کے ساتھ اس طرح پیش آئیں کہ کبھی ان کی جذبات مجروح نا ہوں اور کسی بات سے اُن کا دل نہ دُکھنے پائے۔وہ شروع ہی سے اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ بیٹے کے عزائم کی راہ میں آنا اچھا ثابت نہیں ہو گا۔مثال کے طور پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب جناح نے اسکول چھوڑ کر والد کا بزنس سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے بڑے برد باری کے ساتھ اپنے والد کو مطلع کیا کہ ’’ اسکول کے بجائے میں آپ کے دفتر میں بہتر کام کر سکتا ہوں‘‘۔انکے والد نے ایک سال پہلے ہی اُنہیں ایک پرائمری اسکول میں داخل کروایا تھا۔اس سے پہلے ایک ٹیوٹر اُنہیں گھر پر پڑھانے آیا کرتا تھا جس سے وہ گجراتی اورر یاضی پڑھتے تھے۔اس کے بعد ان کا سارا دن کھیل کے میدان میں گزرتا تھا، جہاں وہ اپنی ظاہری وضع قطع اور قائدانہ مزاج کے سبب اپنے ساتھیوں کے درمیان لیڈر بنے رہتے تھے۔اس سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا وہ پیدا ہی لیڈر بننے کے لئے ہوئے تھے۔وہ اسکول بھی خوشی سے گئے تھے اور عین ممکن تھاکہ ہم جماعتوں پر بھی ان کا رعب قائم ہو جاتالیکن جب پہلے امتحانات کا نتیجہ آیا تو یہ دیکھ کر انہیں جھٹکا لگا کہ وہ لڑکے جنہوں نے ان کی بالا دستی تسلیم کر لی تھی اور جن میں سے چند عمر بھی ان سے چھوٹے تھے، اعلیٰ نمبروں کے ساتھ ان پر سبقت لے گئے تھے۔ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اپنی سبکی محسوس کی ہو کیونکہ باوجود اپنی ذہانت کے ، کورس کی کتابوں میں سر کھپانے میں اُنہیں دلچسپی نہیں تھی یا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے محسوس کیا ہو کہ ان کی تقدیر انہیں کسی اور سمت میں بلا رہی ہے۔بہر طور جو بھی ہولیکن انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ا نہیں اسکول میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئیے۔دوسری جانب جناح بھائی پونجا کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ ان کا بڑا بیٹا کم از کم میٹرک پاس کر لے۔یہی وجہ تھی کہ بیٹے کی بات سے انہیں مایوسی ہوئی، تاہم انہوں نے مجبور کرنے یا ڈرانے دھمکانے کے بجائے دوسری طرح اپنے نو سالہ بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی ۔انہوں نے بیٹے کو بتایا کہ اُن کے دفتری اوقات طویل ہیں لہٰذا وہ صبح آٹھ بجے سے رات کے کم و بیش نو بجے تک ان کے ساتھ مصروف رہیں گے اور انہیں کھیل کود کا وقت بھی نہیں مل پائے گا، لیکن جناح کا فیصلہ جیسے اٹل تھا۔شائد وہ پہلا موقع تھا جب ان کے والد ان پر ناراض ہوئے تھے۔
محمد علی جناح دو ماہ تک والد سے کئے گئے اپنے وعدے پر قائم رہے اور دفتر میں طویل اوقات تک بغیر کسی شکایت کے چھوٹے موٹے کام کام انجام دیتے رہے۔ان کے والد نے یہ کمپنی دس سال پہلے قائم کی تھی جس کے ذریعے وہ ایک ایسے کیمیکل کی تجارت کرتے تھے جو انڈسٹریل گلو بنانے میں کام آتا تھا۔اس کے علاوہ ان کے کچھ سائڈ بزنس بھی تھے۔جناح بھائی پونجا کے لئے اُن کا دفتر ان کی زندگی کا مقصد تھاجبکہ بیٹے کے نزدیک یہ ایک لاحاصل مشقت تھی۔محض پیسہ کمانے کے لئے کام کرتے رہنانو عمر محمد علی جناح کے نزدیک بے مقصد ہی تھا کیونکہ مستقبل کے بارے میں ان کے عزائم بلند تھے۔ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ علی جناح کے مطابق جنہوں نے ان کی سوانح عمری تحریر کی ، یہ راستہ جو انہوں نے خود منتخب کیا ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی راہ میں حائل ہو رہا تھا۔انہوں نے جلد ہی یہ دریافت کر لیا کہ دفتر میں ان کے کرنے کے لئے کچھ نہیں۔ یہاں ہر کام لکھت پڑھت سے مشروط تھا اور تمام حساب کتاب کھاتوں مین درج کیا جاتا تھااور وہ یہ تمام کام نہیں کر سکتے تھے۔خرید وفروخت اور دیگر اہم معاملات سے متعلق فیصلے ان کے والد کیا کرتے تھے اور اس بارے میں ظاہر ہے کہ کوئی ان کی رائے لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا تھا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے کھیلوں سے دور ہو گئے تھے جو ان کے لئے بہت پر کشش تھے۔تاہم ان دو ماہ کے دوران جو انہوں نے اپنے والد کے دفتر میں گزارے۔ جو بھی کام انہیں سونپا گیا وہ انہون نے خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کی۔پھر ایک دن جناح بھائی اس وقت حیران رہ گئے جب بیٹے نے اچانک اعلان کر دیا کہ اُنہیں دفتر بالکل بھی اچھا نہیں لگتا اور وہ دوبارہ اسکول جائیں گے۔اس بات سے وہ خوش تو بہت تھے لیکن انہوں نے ضروری سمجھا کہ اپنے ضّدی بیٹے کو زندگی کے اس سبق کے بارے میں کچھ بتائیں۔انہوں نے نوعمر محمد علی جناح کو سمجھایا کہ زندگی گزارنے کے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اپنے بڑوں کے علم اور تجربے پر انحصار کرتے ہوے ان کی نصیحت پر عمل کریں جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ اپنی مرضی کا راستہ منتخب کریں۔اس طرح آپ غلطیاں کریں گے اور ان سے سبق حاصل کریں گے۔شائد یہی ایک ایسی نصیحت تھی جو نو عمر جناح کے مزاج کے مطابق تھی جسے انہوں نے بڑے توجہ سے سنا اور پھر زندگی بھر اس سبق کو یاد رکھا۔
اب وہ قطعی طور پر ایک تبدیل شدہ بچے تھے۔ کلاس میں ان کی بے توجہی، لاپروائی اور ہم جماعتوں سے پیچھے رہنے کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا۔اب وہ گزرے ہوے وقت کا ازالہ کرنا چاہتے تھے اس لئے رات گئے تک کامل توّجہ کے ساتھ مطالعہ کرتے ۔محترمہ فاطمہ علی جناح اپنی یاداشت ’’ جناح مائی برادر‘‘ میں لکھتی ہیں کہ جب ہم کراچی میں نیو ہام روڈ پر ایک مکان کی دوسری منزل پر واقع دو کمروں میں رہتے تھے تب ہم آٹھ افراد تھے۔رات کو جب بچے سو جاتے تو وہ تیل سے جلنے والے لیمپ کے گرد ایک کارڈ بورڈ لگاتے تا کہ سونے والے بچوں کی آنکھوں پر روشنی نہ پڑے اور خود پڑھتے رہتے تھے۔ایک رات میں ان کے پاس گئی اور کہا کہ ’’ اتنی پڑھائی سے آپ بیمار پڑ جائیں گے!‘‘تب انہوں نے جواب دیا کہ ’’ میں محنت کے بغیر زندگی میں کچھ حاصل نہیں کر سکتا‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *