وہ کون تھا ۔۔۔؟؟

syed arif mustafa

حالانکہ بات بہت بڑی تھی اور انکشاف بھی غیر معمولی ۔۔۔ ابھی 8 مئی ہی کی تو بات ہے کہ جب اسلام آباد میں پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم اپنا یہ رونا روئے تھے اور وہ بھی برسرعام ۔۔۔
اس پریس کانفرنس میں انکا کہنا تھا کہ انکی اور پیمرا ملازمین کی جان سخت خطرے میں ہے اور انکو اپنے فراض منصبی سے روکا جا رہا ہے اور انہیں اور پیمرا ملازمین کوٹیلیفون پہ نامعلوم افراد کی جانب سے آئے دن خطرناک نتائج کی دھمکیاں‌ دی جا رہی ہیں ۔۔۔۔ ابصار عالم نے اس ضمن میں کسی نامعلوم فرد کی جانب سے انکے ادارے کے ایک رکن کو کام کے دوران موصؤل ہونے والی جو آڈیو ٹیپ سنائی تھی اس میں اس وقت بند پڑے چینل بول کوفوراً کھلوانے کے لیئے کوئی شخص نہ صرف شدید اصرار کر رہا تھا بلکہ اپنے حکم پہ فوری عمل نہ کیئے جانے کی صورت میں سخت خوفناک لہجے میں ہاتھ پیر توڑ ڈالنے کی دھمکیاں بھی دے رہا تھا ۔۔۔ الاماں و الحفیظ ۔۔۔ چیئرمین پیمرا ابصارعالم کو شاباش ہے کہ انہوں نے اس قدر جرآت سے کام لیا اور بالآخر ساری صورتحال کو سب کے سامنے لے آئے اور یہ جان کے یوں لگا کے جیسے ہم کسی جنگل میں رہ رہے ہیں کہ جہاں نہ تو کوئی قانون ہے اور نہ ہی کوئی بھی ضابطہ ۔۔۔۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں‌ کہ آخر وہ کون لوگ ہیں کہ جو بول چینل کی سرپرستی کے جنون میں ہر قاعدے قانون کو جوتے کی نوک پہ رکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔

Image result for absar alamپیمرا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ تو افسوناک تھا ہی لیکن اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہوئی کہ آزادیء اظہار کے چیمیئن بننے والے اکثر میڈیا اداروں کو سانپ سونگھ گیا اور بہت ہی کم چینلوں نے اس صورتحال کو کوئی خاطر خواہ اہمیت دینے کی جرآت کی اور اس بارے میں کوئی پروگرام چلایا۔۔۔۔ البتہ اس پریس کانفرنس سے تعلق خبروں‌ کو ضرور میڈیا نے کسی حد تک جگہ دی اور وہ ایسا کرنے پہ بھی صرف س لیئے مجبور ہوا تھے کیونکہ وہ پریس کانفرنس برسرمنعقد عام ہونے والا ایونٹ تھا کہ جسے انٹرنیشنل میڈیا بھی کؤر کررہا تھا
لیکن اسکے بعد مزید کچھ نہیں کیا گیا اور جب سے سبھی چینل ٹھنڈے بیٹھے ہیں اور سارے اخبارات پہ بھی سکتہ طاری ہے اور تمام صحافی برادری بھی ابتک مہر بہ لب ہے ۔۔۔ اور یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ پیمرا کو دھمکیاں دینے والے اس 'نامعلوم' فرد کی شناخت جاننے کے لیئے کسی صحافی نے کوئی سوال اٹھانے کی زحمت ہی نہیں‌ کی کے وہ کون تھا اور کہاں سے تھا ۔۔۔ تا حال میڈیا کے کسی فرد کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ اس بابت حقائق کی کھوج کرے یا اس بارے میں‌ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس کھوج کے لیئے بار بار یاد دہانی کروائے ۔۔ حالانکہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس فون کال کی تفصیلی چھان پھٹک چنداں مشکل نہیں اور اسکا پیشہ وارانہ فارنسک آڈٹ سب حقائق سامنے لے آئےگا ۔۔۔ اہل صحافت کے اس ممکنہ گریز اور ساری ضرر رساں صورتحال کا ابصار عالم کو یقینناً بخوبی اندازہ تھا اسی لیئے اس پریس کانفرنس میں انہوں‌ نے اس دھمکی والی کال کی ایف آئی آر تک نہ کٹوانے کا اعلان کردیا جو انکی اس مایوسی اور بے اطمینانی اور عدم اعتماد کا برملا اظہار ہے کہ جو انہیں حکومت اور اسکے اداروں‌ کی پست کارکردگی کے بارے میں ہے ۔۔۔رہے اہل صحافت تو اب بیشتر نے تو گویا اس مدے پہ مٹی ہی ڈالدی ہے اور ممکن ہے کچھ کو تو اسکی خوشی بھی محسوس ہو رہی ہو کہ اچھا ہوا جو ہمیں ریگولیٹ کرنے والے اس ادارے کی چولیں ہلادی گئی ہیں کیونکہ 4 ماہ ہو چلے ہیں پیمرا کی اس انکشافی پریس کانفرنس کو ۔۔۔ اس بابت ابتک کسی بھی جانب سے کوئی مؤثر صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔۔۔ اور اس بارے میں نہ تو مذمتی کالم لکھے گئے نہ احتجاجی مظاہرے ہوئے اور نہ ہی کہیں دھرنے دیئے گئے اور میڈیا کی آزادی کے اس دور میں اور میڈیا کی حرمت کی پاسبانی کے سینکڑوں دعوے داروں کے ہوتے ہوئے اگر اب بھی اس طرم خان کو گردن سے نہ پکڑا گیا تو وہ آئندہ بھی اسی طرح میڈیا کی گردنیں ناپنے کے لیئے آزادانہ دندناتا پھرے گا- اہل صحافت کی یہ بے حسی اور نیازی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ان میں سے کئیوں‌ کو تو شاید اسکی خوشی بھی محسوس ہو رہی ہو کہ ہمیں ریگولیٹ کرنے والے ادارے کی چولیں بھی ہلادی گئی ہیں اور وہ مطمئن ہیں کہ آگ ہمارے گھر کو تو نہیں لگی ۔۔۔ لیکن وہ یہ صدائے وقت بھول گئے کہ اگر اپنی ہی برادری سے متعلق ایک اہم دارے پہ برا وقت آ پڑا ہے اور اسکا بھرپور ساتھ نہ دیا اور اگر آج اس پہ اسکے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو کل اپنی باری بھی آجانی ہے اور اسی موقع کے لیئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے " دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے سجناں وی مرجاناں۔۔۔۔"


arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *