اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے لیے پی ٹی آئی کوکیا کرنا پڑے گا؟ ساری صورتحال سامنے آگئی!

اسلام آباد -قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی جگہ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان مل کر نیا اپوزیشن لیڈر لانا چاہتی ہیں مگر ان کے پاس قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کے لئے واضح اکثریت نہیں ہے مگر فاٹا کے آزاد ممبران اسمبلی اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کے حوالے سے اہم اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں جن کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے لئے فاٹا سے منتخب آزاد ممبران اسمبلی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اس وقت قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے47اراکین اسمبلی ہیں جبکہ ان کے اتحادی عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی اور ق لیگ کے اراکین کی تعداد 11ہے اور یوں پیپلز پارٹی کے پاس 58ووٹ موجود ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے32اراکین اسمبلی ہیں جن میں انجینئر داوڑ خان کنڈی، کرنل(ر) امیر اللہ مروت ، جنید اکبر اور دو خواتین ممبران مسرت بی بی اور عائشہ گلالئی پارٹی سے ناراض ہیں جس کے بعد پارٹی کے ممبران کی تعداد27رہ جاتی ہے۔اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے24اراکین ہیں جن میں سے آصف حسنین پی ایس پی میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ سفیان یوسف لندن میں مقیم ہیں۔اس کے بعد ایم کیو ایم کے ممبران کی تعداد 22 رہ جاتی ہے۔جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی میں4ممبران ہیں ، یوں تحریک انصاف کے پاس اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے لئے53ووٹ رہ جاتے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے پاس58ووٹ ہیں۔ اس طرح فاٹا سے منتخب ہونے والے آزاد امیدواران ہی اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے لئے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان کا ووٹ جس کی جھولی میں گرا وہی اپوزیشن لیڈر بنے گا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *