جمہوریت کی اصل روح

معید یوسف

moeed yousuf

پانامہ گیٹ پر سیاسی بحث و مباحثہ سے ہمیں ایک موقع ملا ہے کہ یہ دیکھ سکیں کہ آیا 2008 کے بعد جمہوری عمل سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوئی ہے یا نہیں۔ میں ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ اگر دو تین بار جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار ممکن ہو گیا تو ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو جائیں گی۔ لیکن پچھلے چند سال سے میں نے دیکھا کہ صرف تسلسل جمہوریت کی مضبوطی کےلیے کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں جمہوری ادارووں کو مضبوط کرنا ہو گا، نئی سیاسی پارٹیوں کو طاقت دینا ہو گی اور سول ملٹری تقسیم کے بارے میں مائنڈ سیٹ بدلنا ہو گا۔ پانامہ گیٹ معاملے سے واضح ہوا کہ ابھی تک ہم اس مقصد کے قریب بھی نہیں پہنچے ہیں۔ جس طرح سے نواز شریف نے پانامہ معاملے کو ہینڈل کیا وہ بہت حیران کن ہے۔

اس اصول کے قطع نظر کہ ہر شخص کو قانون کی نظر میں برابر قرار دیا جائے، بہت سے سیاسی اور قانونی ماہرین جن میں ن لیگ کے افراد بھی شامل تھے کا ماننا تھا کہ نواز شریف اس معاملے سے باسانی باہر نکل سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد بھی وہ معاملے کو بہتر طریقے سے نمٹا سکتے تھے۔ ان کی ناکامی ہمارے سیاسی نظام کے دو پہلو کو اجاگر کرتی ہے: طاقت کا نشہ اور چاپلوسی۔ پہلی چیز سے میری مراد یہ ہے کہ اقتدار میں آ کر سیاست دان طاقت کے گھمنڈ میں آ کر سوچنے لگتے ہیں کہ وہ اس قدر اعلی رتبہ حاصل کر چکے ہیں کہ کوئی انہیں چھیڑ نہیں سکتا۔ وہ طاقت کو اپنا حق مان لیتے ہیں اور اندھے ہو جاتے ہیں۔

میں نے پانامہ گیٹ کیس کے معاملے میں ان کے رویے کے بارے میں جو کچھ دیکھا اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں اندھے ہو چکے تھے۔ جس شخص نے بھی انہیں بتانے کی کوشش کی کہ معاملات اتنے بہتر نہیں ہیں انہوں نے اس کی رائے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے اچھے اور مخلص دوستوں کی بات پر کان دھرنے کی بجائے چاپلوسی کرنے والوں کی بات کو اہمیت دی ۔ نواز شریف کے حقیقت سے اس قدر دور رہنے کی وجہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سینر ن لیگی ممبران سے نواز شریف نے دوری اختیار کیے رکھی جب کہ غیر منتخب شدہ چاپلوسی کرنے والے ٹولے نے نواز شریف کی قربت حاصل کیے رکھی۔ ان کے جانے کے بعد اس بات کی واضح تصدیق ہوئی کہ سیاسی جماعتیں طاقت کے بھوکے لیڈرز کی چاپلوسی میں مگن رہتی ہیں جب کہ پارٹی لیڈر اپنے آپ کو طاقت کا سب سے بڑا سرغنہ بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

کسی دوسرے ن لیگی عہدیدار کو تو بھول جائیں نواز شریف طاقت اپنے سگے بھائی کو بھی سونپنے سے ہچکچاتے نظر آتے ہیں، اس ڈر سے کہ پارٹی لیڈر شپ دوسری نسل کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ وہ شہباز شریف کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ چوہدری نثار بھی پارٹی سے کچھ ممبران سمیت علیحدہ ہونے کی طاق میں ہیں جب کہ بہت سے دوسرے الیکٹیبل ممبران بھی اپنی راہ لینے کےلیے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس بات میں کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ نواز شریف اپنے خاندان کی اجارہ داری قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں اور اس کے لیے وہ اگلے الیکشن میں ہار نے کے لیے بھی تیار ہیں۔

پانامہ گیٹ کے ذریعے سول ملٹری تعلقات کے انجماد کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اب بھی یہی سمجھا جا رہا ہے کہ سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ آج بھی فوج کی یہی رٹ ہے کہ اگر سیاستدانوں کو کھلا چھوڑ دیا تو وہ قومی سلامتی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے۔ ملٹری کے بہت سےرائے رکھنے والے حضرات نواز شریف کے بارے میں ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ کچھ تو نواز شریف کے خلاف زہر اگلنے سے بھی باز نہیں آتے۔ کچھ ملٹری ذرائع کے مطابق اگر نواز شریف کو کھلی چھوٹ دی جائے تو وہ ملک بھارت کے حوالے کر دیں گے۔ یہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ نواز شریف کی پالیسی بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش پر مبنی ہے۔

ملٹری سے محبت کرنے والے لوگ نواز شریف کے جانے پر بلکل بھی پریشان یا مایوس دکھائی نہیں دیتے۔ سویلینز کا خیال ہے کہ آرمی اور اسٹیبلشمنٹ جمہوریت کے خلاف چالیں چلنے میں مصروف ہے۔ ن لیگ نے با رہا اس طرف اشارہ دیا ہے کہ پانامہ گیٹ کیس کی بنیاد پنڈی میں رکھی گئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت سول ملٹری تنازعہ ایسے موقع پر پیش آیا جب ملک میں ایسے آرمی چیف موجود ہیں جو اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنے کی بات کرتے ہیں اور ان کاکہنا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی میں ان کاکوئی کردار نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے دن تک باجوہ کے ساتھ ان کا کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا تھا۔ لیکن اب صورت حال بہت بدل چکی ہے۔ جب تک سول ملٹری تعلقات میں تلخیاں کم نہیں ہوتں تب تک کسی بہتر مشترکہ خارجہ پالیسی کے بارے میں سوچا نہیں جا سکتا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک ناکام ریاست ہی سمجھا جاتا رہے گا۔ پاکستان کا مستقبل صرف جمہوریت میں پوشیدہ ہے۔ لیکن یہ جمہوریت صرف برائے نام نہیں بلکہ حقیقی ہونی چاہیے۔

اب معاملات کو بہتر کرنے کی ذمہ داری سیاستدانوں اور ملٹری ذرائع پر برابر بنتی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام لگانے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا بلکہ ریاست کا شہریوں سے رشتہ کمزور ہوتا رہے گا۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1360003/democracy-in-spirit

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *