جماعت اسلامی کے لئے ٹوٹکا !

riayat ullah farooqi
جماعت اسلامی علاج نہیں ٹوٹکوں والی جماعت بن کر رہ گئی ہے، کبھی سکول بیگ کا ٹوٹکا تو کبھی سراج لالہ کی سادگی سامنے لانے کے لئے ڈیجٹل کیمرہ ان کے آس پاس حاضر ناظر رکھنے کا ٹوٹکا۔ سو ہم بھی اس کی خدمت میں ایک ٹوٹکا پیش کرتے ہیں جو کار آمد ثابت ہوسکتا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے چار ٹکڑے کر دئے جائیں۔ پانچ اس لئے نہیں کہ بلوچستان میں یہ وجود ہی نہیں رکھتی۔ مرکزی ٹائٹل جماعت اسلامی ہی ہو بس ذیلی چار ٹکڑوں کو الگ الگ نام دیدئے جائیں۔ خیبر پختون خوا والا ٹکڑا انتخابی سیاست کرے اور یہ جماعت کا پولیٹکل ونگ قرار پائے۔ کشمیر والا ٹکڑا جہاد کی بات کرے اور یہ جماعت کا عسکری ونگ قرار پائے۔ پنجاب والا ٹکڑا دعوت دین کا کام کرے اور یہ جماعت کا دعوتی ونگ قرار پائے۔ سندھ یعنی کراچی والا ٹکڑا حسب روایت چندہ جمع کرتا رہے اور اسے جماعت کا خیراتی ونگ قرار دیدیا جائے۔ سراج لالہ کی تنزلی کرکے انہیں خیبر پختون خوا والے گروپ کی قیادت دیدی جائے اور ان کی جگہ مرکزی سطح پر کوئی ایسا امیر لایا جائے جو کام نہیں تو کم از کم باتیں تو معقول کیا کرے۔ پاکستانی پبلک بینظیر کے نیکلس، زرداری کے محل، نواز شریف کی گھڑی اور حنا ربانی کھر کے ہینڈ بیگ کو اس لئے موضوع نہیں بناتی کہ اس پبلک کو سادگی بہت پسند ہے بلکہ یہ محض غصہ اتارنے کا ایک انداز ہے ورنہ یہ قوم پسند ارب پتی لیڈر کو ہی کرتی ہے۔ مثلا آپ یہی دیکھ لیجئے کہ 2002ء میں عمران خان کو ان کے اپنے بیان کے مطابق قرض ادا کرنے کے لئے گاڑی بیچنی پڑی تھی جبکہ آج ان کے ڈیکلئرڈ اثاثے ایک ارب سے اوپر کے ہیں۔ وہ جیسے ہی ارب پتی ہوئے ایک اچھی خاصی پبلک ان کے گرد بھی جمع ہوگئی۔ اگر بات اب بھی سمجھ نہ آئے تو اس بات پر غور کر لیجئے کہ سراج لالہ سپریم کورٹ میں یہ کیس لے کر گئے کہ نواز شریف مالدار بہت ہے، یہ پیسہ اس سے چھین لیا جائے تاکہ وہ بھی میری طرح پھٹی قمیض پہنا کرے اور مریم نواز سوشل میڈیا پر اپنے باپ کی پھٹی قمیضوں کی نمائش کیا کرے۔ سپریم کورٹ نے کیس احتساب عدالت بھیج دیا لیکن این اے 120 کے ووٹر نے اپنا ووٹ پھٹی قمیض کو نہیں بلکہ برانڈڈ مال کو دیا۔ مانا کہ یہ قوم بہت "چ" ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ اسے پھٹی قمیض تو نظر آئے لیکن اس کی نمائش کے لئے ساتھ ساتھ چلنے والا کیمرہ نظر نہ آئے۔ نمود و نمائش صرف قیمتی چیزوں کی ہی نہیں سادگی کی بھی معیوب ہے۔ اتنی شو بازی تو نوجوان اپنے نئے موبائل کی نہیں کرتے جتنی جماعت اپنے امیر کی سادگی کی کرتی ہے۔ اب شمس الدین امجد صاحب شوق سے اس پوسٹ کا بھی جواب لکھ لیں لیکن اپنے امیدواروں کو اگلے الیکشن میں 592 سے زیادہ ووٹ دلوانے کا انتظام بھی فرما لیں تاکہ اس پوسٹ کو حقیقی معنیٰ میں دندان شکن جواب مل سکے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *