شہوت انگیز میگزین ’’پلے بوائے‘‘ کے بانی ہیو ہیفنر چل بسے

Hugh-Hefner-Playboyبالغوں کے مشہور زمانہ جریدے پلے بوائے کے بانی ہیو ہیفنر 91 برس کی عمر میں چل بسے ہیں۔

پلے پوائے انٹرپرائزز انک کا کہنا ہے کہ ان کا انتقال قدرتی وجوہات کی بنا پر اپنی رہائش گاہ میں پرسکون حال میں ہوا۔

ہیو ہفنر نے پلے بوائے جریدے کی اشاعت کا اغاز سنہ 1953 میں اپنے کچن سے کیا تھا۔ یہ دنیا میں مردوں میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا جریدہ بن گیا تھا اور اپنے عروج کے دور میں اس کی ماہانہ سات کروڑ کاپیاں بھی فروخت ہوتی رہی تھیں۔

ان کے بیٹے کوپر ہفنر کا کہنا ہے انھیں 'بہت سے لوگ ان کی کمی محسوس کریں گے۔'

انھوں نے اپنے والد کی 'میڈیا اور ثقافتی رہنما کے طور پر غیرمعمولی اور بااثر زندگی' کو خراج عقیدت پیش کیا اور انھیں آزادی رائے، شہری حقوق جنسی آزادی کا وکیل قرار دیا۔

ہیو ہفنر کے جریدے کی کامیابی سے انھوں نے کاروباری امارت قائم کی جس میں کیسینوز اور نائٹ کلبز بھی شامل ہیں۔

ان کے کئی پلے بوائے ماڈلز کے ساتھ مراسم رہے اور شادیاں کیں، اپنی زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنی عالی شان گھروں میں پرتعیش پارٹیوں کا اہتمام بھی کرتے تھے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے ایک ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ مراسم رہے تھے۔

ہیو ہیفنر

سنہ 2005 سے 2010 کے درمیان ایک ریالٹی ٹی وی شو 'دی گرز نیکسٹ ڈورُ میں‌ ہیو ہیفنر کے انداز زندگی اور ان کے حرم میں موجود نوجوان خواتین کی عکاسی کی گئی تھی۔

سنہ 2012 میں 86 سال کی عمر میں انھوں نے اپنی تیسری بیوی کرسٹل ہیرس سے شادی کی جو ان سے 60 برس چھوٹی تھیں۔

اگرچہ ناقدین پلے بوائے جریدے پر فحاشی کا الزام عائد کرتے ہیں تاہم اس کے بانی جن کا خاندانی تعلق عیسائیوں کے میتھو ڈسٹ فرقے سے تھا کبھی ایسا اظہار خیال نہیں کیا۔

ہیفنر نے سنہ 2002 میں سی این این کو بتایا تھا 'میں نے کبھی بھی پلے بوائے کو سیکس میگزین نہیں سمجھا۔ میں نے ہمیشہ سوچا کہ یہ ایک لائف سٹائل میگزین ہے جس میں جنس ایک اہم جز ہے۔'

ہیفنر

ہیو ہیفنر پر سنہ 1963 میں پلے بوائے کی اشاعت و ترسیل پر فحاشی کا مقدمہ پر ہوا تاہم انھیں بری کر دیا گیا۔

اس جریدے میں جن معروف شخصیات کے انٹرویوز شائع ہوئے ان میں شہری حقوق کے رہنما مارٹن لتھر کنگ جونیئر، بیٹل جان لینن اور کیوبن انقلابی رہنما فیدل کاسترو شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *