یہ گھڑی محشَر کی ہے ، تُو عرصہ محشَر میں ہے !

ghulam mustafa mirrani

دنیا بھر سے مطالبوں، مذمتوں اور مظاہروں کے باوجود میانمار میں مسلم مَکینوں پر موت کے مَہِیب سائے مَدھم ہوسکے نہ مشکلات کے مُنڈلاتے بادلوں میں کمی آئی ! فسطائیت کی فضا سایہ فِگن اور موسم نہایت بے رحم ہے۔ کُشتوں کے پُشتے اور وہ بھی پُشتوں پہ پُشتے۔۔۔۔اَلحفیظ واَلاماں ! ابلاغِ عامہ، خصوصا" سوشل میڈیا کے توسط سے موصولہ معلومات کی طرف دِھیان جاتا ہے تو دل دَھک دَھک کرنے لگتا ہے اور رُوہنگیا کی حالتِ زار پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میانمار میں برپا انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اِسی سال فروری میں اقوامِ متحدہ نے ایک رپورٹ مرتب کی۔ اخبار گارڈین کے مطابق رپورٹ روہنگیا کے مسلمانوں پر ہولناک مظالم کا انکشاف کرتی ہے۔ رپورٹ میں خواتیں اور نَوعمر بچیوں کی بڑے پیمانے پر عِصمت دَری اور اندوہناک ہلاکتوں کے واقعات مذکور ہیں۔ " پورے پورے خاندانوں کے گَلے کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بچوں کو اُنکے والدین کے سامنے ذَبح کر دیا گیا۔ اساتذہ اور سَن رسیدہ افراد کو مَن گھڑت مقدمات میں ماخُوذ کیا اور قلیل عرصہ سماعت کے بعد سزائے موت کا مَستُوجب ٹھہرا دیا۔ لوگوں کو گھروں میں مَحبوس کرنے اور زندہ جلا دینے کے المناک واقعات رونما ہوئے۔ دیہاتوں کو گَن شِپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گولیوں کا بُھون ڈالا گیا۔ حاملہ خواتیں کو فوجیوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ نوزائِیدہ بچوں کو اُنکے والدین کے رُوبَرو موت کی نیند سُلا دیا گیا۔ کھڑی فصلوں کو جَلانے اور گاؤں کے گاؤں کو نذرِ آتش کر دینے کی وارداتیں ہوئیں۔ جا بہ جا محاصرے ہوئے اور کسی کو بھی زندہ بچ نکلنے کی نوبت نہ آنے دی۔ جو جان جوکُھوں پر ڈال کر کَشتیوں کے ذریعے فِرار ہونے کی کوشش کرتا تو اندھا دھند فائرنگ کی زَد میں آ جاتا ".......یہ منظر مختصر مدت قبل، محض ماضی کی رُوح فَرسا کہانی نہیں، حال کا ہولناک حال حُلیہ اس سے کہیں زیادہ بِھیانک ہے۔ میانمار میں مسلمانوں کی تقریبا" ڈیڑھ مِلین ساری آبادی، بربادی کے گرداب میں گِھری ہوئی ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ وہاں کے مسلمانوں پر جاری سِتم اور سَفاکی کے خلاف زیادہ تر مُسلم ریاستوں کا ردِعمل روائتی رِیاکاری سے زیادہ وُقعت نہیں رکھتا البتہ تُرکی کی تحسین کئے بغیر نہیں رہا جا سکتا جس نے نہ صرف میانمار کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا بلکہ سب سے پہلے موثر آواز اٹھائی۔ تُرک صدر کی بیگم اَیمن اُردوان بذاتِ خود بنگلہ دیش پہنچیں اور لُٹے پُھٹے مہاجرین کے ہوشربا حالات دیکھ کر اَشکبار ہوگئیں۔ اُنہوں نے بنگلہ دیشی حُکام سے بارڈر کھولنے اور تعاون کرنے کی درخواست بھی کی۔ اعلان کیا کہ روہنگیائی مہاجرین کے رہن سہن کے جُملہ مصارف ترکی برداشت کرے گا۔ ترکی کے علاوہ دنیائے اِسلام کے دگر حکمران، لگتا ہے، بَھنگ پی کر، آرام فرما ہیں۔ سوائے ظاہری اور رَسمی احتجاج کے عملا" کچھ بھی نہیں ہوا۔
بین الاقومی منظر پر تَہلکہ خیز اس خونریز اور دلخراش صورتحال کو زیرِبحث لانے سے پہلے میانمار کے بارے میں کچھ معلومات کا تذکرہ کرنا بے مَحل نہ ہو گا۔ برِاعظم ایشیا میں واقع اِس ریاست کا پرانا نام یونین آف برما تھا۔ 1884 میں انگریز نے برما پر قبضہ کیا تو اس خطہ کو اپنا ایک صوبہ بنا لیا۔ برصغیر سے گورا شاہی کا راج ختم ہوتے ہی 4 جنوری 1948 کے روز برما کو بھی آزادی مل گئی۔ برما کے عوام نے جاپان کے تعاون سے آزادی کی بھرپور تحریک چلائی اور برطانوی راج سے چُھٹکارا حاصل کرنے میں فتحیاب ہوئے۔ اس جدوجہد میں مسلمان بھی پیش پیش تھے۔ برما کے گردونواح کا بیشتر علاقہ ہِند چینی تہذیب پر مشتمل ہے۔ زمینی راستوں سے برما بھوٹان، تھائی لینڈ ، لاؤس، نیپال اور چین سے جُڑا ہوا ہے جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے ساتھ رابطہ سمندر کے ذریعے ہے۔ یہ سب ممالک برما کے تقریبا شمال مغرب میں واقع ہیں۔ کل رقبہ دو لاکھ اِکسٹھ ہزار نو سو اُنہتر مربع میل (678500 مربع کلومیٹر) اور 1916 کے اعدادو شمار کے مطابق آبادی 5 کروڑ 43 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔ دارالحکومت کا دیرینہ نام رنگوں مگر اب یَنگون کہا جاتا ہے جسکی آبادی ساٹھ لاکھ ہے۔ ( یاد رہے کہ مُغلیہ خاندان کے آخری فرمانرَوا بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے گرفتار کر کے رنگوں پہنچایا اور قید کیا جو بڑی انسانیت سوز اور بدترین کَسمُپرسی کی حالت میں فوت ہوئے اور رنگوں میں ہی دفن کر دیئے گئے۔) برما کی کرنسی کِیات کہلاتی ہے۔ شرحِ خواندگی 90 فیصد ہے۔ برما کی سرکاری زبان کو برمی کہا جاتا ہے۔ مذھبی تناسب کے لحاظ سے تقریبا" 80 فیصد بُدھ مَت، 7 فیصد عیسائی، 4/5 فیصد مسلمان اور باقی آبادی مِلے جُلے مذاہب سے وابستہ ہے۔ برما یا میانمار کی کثیر آبادی کے مذھب، بدھ مت کے بارے میں چند ابتدائی معلومات کا تذکرہ کرنا بھی بے جا نہ ہوگا جس سے واقفیت کے علاوہ ، اِس مذھب کے پیرو کاروں کی تعلیمات اور تعمُل میں تضاد اور قول و فعل کا فرق بھی عیاں ہو جائے گا۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بدھ مت مذھب کے پیرو کاروں کی کل آبادی تقریبا" 37 کروڑ 60 لاکھ شمار کی جاتی ہے۔ عیسائیت، اسلام اور ہِندو مَت کے بعد، چوتھا بڑا مذھب بدھ مت ہے۔ اس کے بعد بالترتیب سکھ مت اور یہودیت کا نمبر آتا ہے۔ اس طرح رُوئے زمین کی کل مذھبی آبادی کا 5.25 فیصد حصہ بدھ مت ہیں جو دنیا کے 136 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بدھ مت مذھب کے بانی گوتم بدھ ہیں جو 563 یا 567 قبل مسیح، نیپال کے ایک گاؤں لومنی یا لمینی میں پیدا ہوئے ۔ ایک امیر اور جنگجو گھرانے میں جنم لینے والا یہ شخص 29 سال کی عمر میں رُوحانیت کی جُستجو میں نکل کھڑا ہوا۔ نِروان یعنی روحانی تسکین کی تلاش شروع کر دی۔ کافی ریاضت ، مسلسل مساعی اور تطہیرِ نفس کے بعد 500 قبل مسیح میں ( بعض روایات کے مطابق 528 قبل مسیح) اُس نے بھارت کے ایک شہر "گیا" (بنارس) صوبہ بہار میں بدھ مت کی بنیاد رکھی۔ بَرگَد کے ایک درخت تَلے آلتی پالتی مارے گوتم بدھ کو نِروان حاصل ہوا۔ یہی شہر "گیا" بدھ مت مذھب کا مقدس مقام ہے۔ 483 قبل مسیح میں گوتم بدھ کا انتقال ہوا۔ بدھ مت کی مقدس کتاب کا نام Tripitaka ( Three Baskets) ہے۔ جس طرح مسلمان اپنی عبادت گاہ کو مسجد، عیسائی گرجا اور ہندو مَندر کہتے ہیں۔اسی طرح بدھ مت کی عبادت گاہ کو پکوڈا کہا جاتا ہے۔ مَسالک میں مُنقسم، بدھ مت دو فرقوں یعنی ہِنائِنا اور مَہائِنا ( Hinayana & Mahayana) میں بَٹا ہوا ہے۔ بدھ مت تعلیمات کے مطابق نفس کی صفائی سے نروان (روحانی سکون) مل سکتا ہے۔ انسانی فلاح، خدمتِ خلق، احترامِ آدمیت، حسنِ سلوک، نرمی اور صبر و تحمل کی ترویج اور عملی اِطلاق بدھ مت مذھب کی تعلیمات کے بنیادی اصول ہیں ۔ بُدھا بذاتِ خود درختوں کے سائے تلے گیان دھیان میں کھویا رہتا اور پیروکاروں کو بھی گیان دھیان کا درس دیتا تھا۔ اسے ہریالی، پھولوں اور پیڑوں سے بہت بڑا پیار تھا، اس لئے کہ بُدھا کے مطابق درختوں کا سایہ اور سبزے کی ہریالی انسان کو سکون پہنچاتے ہیں. گوتم بدھ کو غیبت گوئی ،کینہ پَروَری ، حسد ، غصہ اور عیب جُوئی سے شدید نفرت تھی۔ لوگوں کو بھی ایسی خبائث سے پرہیز کی تبلیغ کیا کرتا تھا۔ بدھ مت میں جانوروں کا شکار ممنوع ہے۔ بدھ مت تعلیمات تقاضا کرتی ہیں کہ چلتے پھرتے ہوئے زمین پر قدم سنبھل سنبھل کر رکھیں کہ کہیں رِینگنے والے کیڑے مکوڑے پاؤں تلے مَسلے نہ جائیں۔ بُدھا کے مذکورہ صالح خصائل کی بدولت، علامہ مشرقی سمیت کئی مسلم اسکالرز اسے پیغمبروں میں شمار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ دیگر دیرینہ مذاہب کی مانند بدھ ازم میں بھی بہت تحریف ہوئی۔ بُت پرستی کی رِیت بُدھا کے بہت بعد کی کہانی ہے۔ گوتم بدھ نے اپنی ساری زندگی انسانیت سے وابستہ صالِحات اور اَرفع و اعلی' مقاصد کے حصول اور تبلیغ میں گزاری۔ اپنے عقیدے کی تبلیغ و ترویج میں گوتم بدھ ہمیشہ لوگوں کو بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کرتا، بَدی سے گریز اور نیکی کے پھیلاؤ کا درس دیا کرتا تھا ۔صراطِ مستقیم پر چلنے، سچائی اور راست رَوی اپنانے کی تعلیمات دیا کرتا تھا۔ سادہ اور پارسا زندگی گزارنے کا سبق دینا اور ہمیشہ عدم تشدد کا پرچار کرتے رہنا اس کا مستقل وَتیرہ رہا۔ کیسا عجب معاملہ ہے کہ گوتم بدھ کا مَسلک تو اپنے پیروکاروں سے کیڑے مکوڑوں کو بھی بچا بچا کر چلنے کا مطالبہ کرتا ہے اور تاکید کے ساتھ توقیرِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔۔۔۔۔۔جبکہ بدھ مت کے بھکشوؤ آج بہیمیت اور بھیانک کرتوت کا استعارہ بن چکے ہیں۔ بُدھا کے پیروکاروں نے ظلم و وحشت کی انتہا کر دی ہے۔ انسانیت سوز مظالم کے پہاڑ گِرا کر، گوتم بدھ کی تعلیمات اور نِروانی تصور کو تار تار کر ڈالا ہے۔
برما کے مغربی سمت بے آف بنگال کے ساتھ صوبہ راکھین(Rakhine) واقع ہے جسے اراکان (Arakan) بھی لکھا پڑھا جاتا ہے۔ دارالحکومت ینگون سے سیدھا مغربی طرف اراکان کا صوبہ کوئی 20/22 گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ راکھین یا اراکان کا صوبہ 1784 تک مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست کے طور پر کام کرتا رہا۔ بعد میں برما نے بزورِ قوت قبضہ کر کے اراکان کو اپنا حصہ بنا لیا۔ پانچ اضلاع پر مُحیط اب اس صوبہ کا کُل رقبہ 36778 مربع کلو میٹر ہے۔ 2014 کی مردم شماری کے مطابق اس صوبہ کی جُملہ آبادی بتیس لاکھ انسانوں پر مشتمل ہے۔ ستم ظریفی کا یہ عالَم کہ مردم شماری کے وقت مسلمانوں کو شمار ہی نہیں کیا گیا ۔ محض تَخمینے تُکے سے کام لیا گیا جبکہ روہنگی مسلمانوں کے مطابق صوبہ میں 2012 تک مسلم آبادی پچیس لاکھ نفوس سے زیادہ تھی۔ صوبہ کے 1164 نمایاں دیہات میں سے 380 دیہاتوں میں مسلم آبادی کا تناسب 95 فیصد سے بھی زیادہ ہے جبکہ دیگر دیہاتوں اور سترہ شہروں میں بسنے والے مسلمانوں کی نسبت دس اور پندرہ فصد کے درمیان ہے۔ سرزمینِ برما تجارت اور کاروبار کے حوالہ سے ہمیشہ پُرکشش رہی۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں عرب مسلمانوں کی یہاں تک آمدورفت شروع ہو چکی تھی۔ تیسری صدی ہجری میں، تجارتی قافلوں کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کیلئے آنے والے کئی وفود یہیں آباد ہو گئے۔ روہنگیا کی زیادہ تر مسلم آبادی اُنہی عرب مبلغین کی اولاد بتائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، برصغیر پر برطانوی تسلط کے دوران کچھ لوگوں کو انڈیا سے بھی مائیگریٹ کر کے یہاں لایا اور بسایا گیا جو عام طور برٹش انڈینز کے نام سے موسوم ہوئے۔ تاریخی تذکروں کے مطابق روہنگیائی آبادی کا کچھ حصہ ایسا بھی ہے جو بہت پہلے مشرقی بنگال یعنی موجودہ بنگلہ دیش سے آیا اور آباد ہوا۔ برما کے حکام تو دعوی' کرتے ہیں کہ روہنگین کی زیادہ تر تعداد ساٹھ اور سَتر کی دہائیوں میں بنگلہ دیش سے برما کیطرف مائیگریٹ ہوئی۔ بیشتر لوگ ستر کی جنگ کے دوران برما چلے آئے اور واپس نہیں لَوٹے۔ مبینہ طور پر اِن مہاجرین میں وہ اُن ہندوؤں کو بھی روہنگیا مہاجر کہتے ہیں جو پاک و ھند جنگ کے دوران برما آکر آباد ہوئے۔ تاریخی حقائق کے تناظر میں بَرمی بُدھوؤں کا یہ موقف مبالغہ محسوس ہوتا ہے۔ بہرحال مختلف ادوار میں مختلف خِطوں سے روہنگیائی مسلمان تلاشِ روزگار اور کاروبار کیلئے یہاں پہنچے اور بَستے بَستے مستقل طور پر بَرما میں بَس گئے ۔ ماضی بعید وہاں کے مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی شہادت دیتی ہے ۔ مسلمان باصلاحیت اور اسباب یافتہ تھے، اپنے موروثی کاروبار کے تجربہ کی بدولت بہت جلد نمایاں حیثیت اختیار کر گئے۔ خصوصا" تجارت کے شعبہ میں بڑی پیش رفت کی۔ بیشتر خاندان بہت مُتمَوِل تھے۔ برما کی آزادی کے وقت بہت سے مسلمان اہم سرکاری مناصب پر فائز تھے۔ قدرت نے اعلی' مراتب اور توقیر سے نواز رکھا تھا۔ ایک مسلم خاتون زہرہ بیگم برما کی پہلی پارلیمنٹ میں رکنِ اسمبلی تھیں۔ بحیثیتِ مجموعی ریاست کے کاروبار اور اقتصادی سرگرمیوں میں مسلمانوں کا کردار دیگر اقوام سے عمدہ نہیں تو کچھ کم بھی نہ تھا۔ معاملہ فہمی اور دُور اندیشی اس حد تک کہ اپنے سیاسی اور سماجی مستقبل کے بارے میں مسلمان شروع ہی سے متفکر تھے۔ شاید کچھ تفکرات دامنگیر تھے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت روہنگیائی عمائدین کا ایک وفد "اراکان مسلم لیگ" جماعت کے نام سے حضرت قائداعظم سے ملا اور پاکستان کے ساتھ اپنے الحاق کی اِستدعا کی مگر درپیش صورتِحال کے باعث قائد نے کَمِٹمِنٹ نہ کی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کونسے وجوہات ، اسباب اور واقعات تھے جو برما میں مسلم آبادیوں کیلئے زوال اور ذلت کی بنیاد بنے۔ ایسا کیا ہوا کہ سماجی، اقتصادی اور رِفاہی طور پر مُعتبر مقام فائز اور ممتاز مُدارج پر موجزن طبقہ، تباہی کی پاتال میں جا پڑا۔ سَتر سال کی تاریخ اتنی بھی پرانی نہیں کہ واقعات اور شَواہد کے آئینہ میں حقائق فہمی دشوار ہو۔ پہلی وجہ تو کاروبار میں سبقت اور سماج میں سُرعت سے مسلمانوں کی ترقی بنی۔ مسلمان نہ صرف معاشی اور رِفاہی امور میں بہت متحرک تھے بلکہ ملک میں مسلسل شاہراہِ ترقی پر گامزن تھے۔ ملک کی 80 فیصد بدھ مت آبادی کی نفسیات میں مسلمانوں کے خلاف حسد پیدا ہوا اور بڑھتا چلا گیا۔ آزادی سے گیارہ سال قبل 1937 میں متعصب اور انتہا پسند بدھوؤں نے "برما صرف بَرمیوں کیلئے" ایک ناکام مگر مُتشدد تحریک چلائی ، جس میں مسلمانوں کے جان و مال کا ضیاع بھی بہت ہوا، اُس کے پس منظر میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی اقتصادی حالت اور سماجی حیثیت سے خوف و خطرہ کا احساس غالب تھا۔ دوسرا اہم سبب مذھبی منافرت کا ہے جو دھوئیں کی مانند دَہائیوں کی دَہائیاں دُکھتا رہا اور سُلگتی چِنگاریوں سے دِھیرے دِھیرے آگ کا آتش فشاں بن گیا۔ روہنگیا کے مسلمان مذھبی خدمات میں پیش پیش رہتے تھے۔ نہ صرف برما میں مساجد اور مدارس کا جال بِچھا دیا بلکہ دینی محبت سے سَرشار روہنگیوں نے براعظم افریقہ، ایشیا اور یورپ میں بھی مساجد اور تبلیغ کے مراکز قائم کرنے میں بھرپور کام کیا۔ مسلم آبادی کا یہ رویہ اور رُجحان بُدھ بِھکشوؤں کو بہت ناگوار گزرتا تھا۔ بُدھ مت کے انتہا پسند پَیروکاروں نے اس صورتِحال کو اپنے ملک اور مذھب کیلئے خطرہ تصور کیا۔ چِہ میگوئیوں سے شروع ہونے والی مخالفت، مُخاصِمت اور مُبارزَت کا رُوپ دَھار گئ۔ بِھکشوؤں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کُھلم کُھلا محاذ آرائی شروع کر دی۔ گاھے گاھے مُتشدِدانہ وارداتوں سے شروع ہونے والا سلسلہ رفتہ رفتہ عِناد اور اَلمیوں کی خوفناک صورت اختیار کر گیا جس سے فضا بوجھل اور ماحول مزید مُضمحِل ہو گیا۔ حالات میں تَناؤ اور تُندی کا غلبہ تب بڑھنا شروع ہوا جب 1962 میں فوج نے عنانِ اقتدار سنبھال لی اور برما میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ برمی افواج نے نہ صرف مسلمانوں کے کاروبار مفلوج کئے بلکہ معاشرتی طور پر بھی بری طرح مضطرب رکھا۔ مسلمانوں کی بڑی بڑی رہائش گاہوں کو قومیا لیا۔ بنکوں کے کھاتے منجمد کر دیئے۔ چلتے کاروبار پر ضَربیں لگائیں۔ مسلمانوں کے مال ومَتاع پر دَست درازی کرنے والوں کی پَکڑ دَھکَڑ کے بجائے، اُلٹا رَاہزنوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اِس کی وجہ نہ صرف مسلمانوں کے مالی وسائل ، حال و حیثیت اور مذھبی وابستگیوں سے حسد و حقارت سے لبریز مضمحل ذھن تھا بلکہ فوج نے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے بھی ایسے وحشیانہ اقدامات کی پذیرائی کرنا قرینِ حکمت اور مُوجبِ مفاد سمجھا۔ مسلمانوں کے خلاف میانمار افواج کی سِتَمگرانہ کاروائیاں مصلحت و مفاد کا شاخسانہ تھیں کیونکہ ملک کی اَسی فیصد بدھ مت آبادی ایسے مظالم پر نہ صرف مَسرُور تھی بلکہ فوج کی مَداح اور معاون نظر آ رہی تھی۔ چَہَار سُو مسلم آبادیوں کا محاصرہ ، فوجی گھیراؤ، گولیوں کی بُوچھاڑ اور توپوں کی گَھن گَرج۔۔۔۔! فوج کی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف ایسا اُودھم مَچا کہ ہر طرف لُوٹ مار کا بازار گرم ہو گیا۔ ایسی سنگین اور سُوہانِ رُوح صورتحال میں بدحال مسلمانوں کی حالتِ زار کا انداذہ لگانا مشکل مسئلہ نہیں۔ مشاھدات اور تجربات کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں رونما ہونے والے "ردِعمل" کو مغرب کی زبان میں "دھشت گردی" کہا جاتا ہے !!! مسلمانوں کی زندگی اجیرن اور سکون تَلپٹ کر دیا گیا۔ کہیں کہیں جان ہتھیلی پر رکھ کر کچھ سَرفروش نوجوانوں نے ننگی بربریت کے خلافت مزاحمت کی تو اُنہیں تخریب کار اور دھشت گرد قرار دے کر نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ تنگ آمد بجنگ آمد، 1972 میں مسلمانوں کے ایک زخم خوردہ گروہ نے اپنی جماعت تشکیل دی جسکا نام "روہنگیا لبریشن پارٹی" رکھا۔ اس پارٹی کے سربراہ اور رُوحِ رواں ظفر نام کے ایک سرگرم روہنگیائی مسلمان تھے۔ مگر سَر مُنڈاتے ہی اولے پڑے، مُسلح افواج ان لوگوں پر پِل پڑیں۔ ظُلم اور ضَربوں کی لَہروں پہ لَہر نے مسلسل غارت گَری سے ایسی صُورت گًری کی کہ پڑھتے ، سُنتے اور دیکھتے ہوئے اَوسان سُن ہونے لگتے ہیں۔ پھر ایک منظم واردات کی گئی جو مصائب کا طوفان لئے رونما ہوئی۔ ایک روز بُدھوؤں کی عبادت گاہ میں بم بَلاسٹ ہوا۔ کوئی پچاس کے لگ بھگ بے گناہ بِھکشو مارے گئے اور بہت بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔ ملک سے باہر کسی مسلم جہادی گروپ نے ہولناک واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تو ردعمل میں روہنگی آبادیوں کو خزاں آلود المناک آندھیوں نے آ لیا۔ پھر کیا ہوا ! کیا بچے ، کیا بزرگ ، کیا جواں سال مرد اور کیا مَستُورات۔۔۔۔پَت جَھڑ موسم میں گِرتے اُڑتے پَتوں کی مانند مسلمانوں کی مَعیتیں بِکھری پڑی تھیں۔ حالانکہ سانحہ کے حوالہ سے ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ وسیع تر سازش کے تحت یہ کاروائی برما یا بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی کارسِتانی تھی۔
اقتدار کی بقا اور دَوامیت کے جنون میں مبتلا فوج نے ملک کی کثیر آبادی کے دل جِیتنے کیلئے مسلمانوں کے خلاف بَہَیمِیت کی انتہا کر دی۔ فی الحقیقت انتہا پسند بِھکشوؤں اور برسرِ اقتدار فوجی حکمرانوں نے مسلمانوں کی نسل کُشی کا فیصلہ کر لیا۔ مسلمانوں پر جاری جبر کے ردِعمل میں" اراکان روہنگیا سالویش آرمی" وجود میں آئی۔ جیسا کہ اُوپر ذکر ہوا ، اِس تنظیم کا بانی عطااللہ ہے جو کراچی میں رہائش پذیر ایک روہنگیائی مہاجر کے گھر پیدا ہوا اور کراچی میں ہی پَلا پوسا البتہ تعلیم مکہ مکرمہ میں مقیم ایک دینی درسگاہ سے حاصل کی۔ میانمار حکومت عطااللہ اور اُس کی مذکور تنظیم کے خلاف سِیخ پا اور سَتیزہ کار نظر آتی ہے۔ برما میں شدت کی تازہ لہر ویسے تو جون 2012 میں پُھوٹنے والے فسادات سے اُبھری جس کی بنیاد ایک مَن گھڑت کہانی بنی کہ "مسلمانوں نے ایک رکھنی خاتون سے زیادتی کی اور پھر مار دیا" مگر حالات میں زیادہ تر خرابی 2016 میں ایک ایسے "حملہ" کے ردعمل کا نتیجہ بنی جو مبینہ طور پر مذکورہ مسلم جہادی تنظیم "اراکان روہنگیا سالویش آرمی" نے سرکاری فورسز پہ کیا جس کے نتیجہ میں 13 فوجی ھلاک ہو گئے تھے۔ اُس کے بعد میانمار حکومت، ملک میں ہر تخریبی کارروائی کو اراکان روہنگیا سالویش آرمی سے منسوب کر کے مسلمان آبادیوں پر ، جب چاہتی ہے ، چَڑھ دوڑتی ہے۔ پس منظر میں موجود المناک واقعات کے سلسلہ کی کئی کَڑیاں 1978 میں مارشل لاء حکام کی جارِحانہ کارروائیوں کے عمل اور ردعمل سے بھی ملتی ہیں جب فوج نے مسلمان آبادیوں میں ایک بھرپور اور بہت بڑا، بے رحم آپریشن شروع کر دیا. مہلک ماحول میں مرنا آسان اور جینا مشکل ہو گیا۔ سامنے دو ہی راستے تھے۔ ہجرت یا ہلاکت ، مظلوم مسلمانوں نے جان بچانے کیلئے ہجرت کا سہارا لیا۔ بہت سے روہنگئن امریکہ، یورپ، عرب اور ایشیا کے دیگر ممالک کیطرف بھاگ نکلے۔ سعودی عرب کیطرف جانے والوں کی تعداد چار لاکھ کے قریب قریب بتائی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کی طرف رفتہ رفتہ ہجرت کر جانے والے مظلوم مسلمانوں کی تعداد پانچ لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی تھی۔ تھائی لینڈ میں ایک لاکھ جبکہ امریکہ اور انڈونیشیا پہنچنے اور پناہ گزیں ہونے والے مظلوم مسلمانوں کی تعداد بارہ بارہ ہزار بیان کی جاتی ہے۔ ہزاروں مظلوم مہاجرین بھارت کیطرف بھاگ نکلے۔ برما سے جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے بہت سے خاندان ملائیشیا اور انگلینڈ میں جا پہنچنے۔ وہاں پر مقیم ہو جانے والے مہاجرین کا تخمینہ بالترتیب اکتالیس اور پچاس ہزار لگایا گیا ہے۔ کوئی تین لاکھ کے قریب روہنگیائی لوگ پاکستان پہنچے اور کراچی میں آباد ہو گئے۔ کراچی کی اس کچی پکی آبادی پر مشتمل، بستی کا نام انہوں اپنے وطن کے مَسکن اراکان کے نام سے اراکان آباد رکھ لیا۔ یہ لوگ ماہی گیری کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اس آبادی کو ابھی تک قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کئے گئے۔ نتیجتہ" یہ پسماندہ حال لوگ تعلیم ، صحت ، آزادانہ نقل و حمل اور سرکاری ملازمتوں جیسی سہولتوں سے محروم ہیں یا پھر آسان رسائی میں دشواریوں سے دوچار ہیں۔ میانمار سے مسلمانوں کی اتنی بڑی ہجرت اور انخلاء کے بعد بچ جانے والے روہنگیائی مسلمانوں کی صحیح تعداد کا تعین اگرچہ محال ہے تاہم قَرائن دس سے پندرہ لاکھ نفوس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
ہم اراکان کے مسلمانوں کو در پیش مشکلات کا تاریخی جائزہ لے رہے تھے۔ 1962 میں اقتدار پر مسلح افواج نے قبضہ کر لیا۔ فوجی انقلاب کے بعد برما کے باسیوں پر عرصہءحیات تنگ کر دیا گیا۔ آنے والا ہر سال قیامت بن کر آیا۔ 1974 میں جرنیل شاہی نے روہنگیائ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر دیا۔ ملک میں رجسٹریشن کا عمل شروع ہوا مگر مسلمانوں کو مِنہا کر دیا گیا۔ اس طرح مسلمانوں کی شہری حیثیت یکسر بدل گئ۔ قومی شناختی کارڈ کی سہولت سے بھی محروم کر دیا گیا۔ وقت کا پہیہ گُھومتا رہا اور مشکلات کی چَکی مصائب اُگلتی رہی۔ اصلاحات اور قانون سازی کے نام پر مسلمانوں کو ایک اور شدید ضرب 1982 میں لگائی گئی۔ اس خیال سے کہ نہ رَہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔۔۔۔ملکی شہریت کے وَضع کردہ نئے قانون کی رُو سے مسلمانوں کو میانمار کی شہریت سے محروم کر دیا گیا۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق میانمار میں بڑی قومیتوں اور مذاہب کے ساتھ اگر آڑ کباڑ حُجم کی ساری قومیتوں اور مذھبوں کا شمار کیا جائے تو تعداد کوئی 135 کے ہندسہ کو چھونے لگتی ہے۔ کیا طُرفہ تماشا ہے، سوائے مسلمانوں کے دیگر تمام قومیتوں کو میانمار کی شہریت مل گئی۔ برما کی تاریخ میں مسلمانوں کے لئے یہ امتیازی قانون بڑا تلخ اور تباہ کن ثابت ہوا۔ اس فیصلہ کے ذریعے مسلم آبادی نہ صرف شہری حقوق اور سہولتوں سے محروم کر دی گئی بلکہ مابعد حالات و حوادث نے مسلمانوں کا کچومر نکال دیا۔ مسلمانوں کی نقل و حرکت کو محدود اور عائلی عوامل کو مسدود کر دیا گیا۔ شادی سے پہلے شادی کیلئے رجسٹریشن مشروط ہوئی۔ دو بچوں سے زیادہ تولید پر پابندی لگا دی گئی۔۔ پختہ مکانوں کی تعمیر ممنوع ٹھہری۔ کاروبار اور رَوابط ، ضوابط کی نَذر ہوئے۔ سرکار کی سرپرستی اور ڈِھیل و ڈَھال میں مسلمانوں پر حملوں اور لُوٹ مار کا غیرمُتناہی سلسلہ شروع ہو گیا، چنانچہ ھَیبت زدہ حیات میں خوشیاں خواب ہوئیں اور اندھیروں نے آ لیا۔
لاقانونیت اور آمریت کے شکنجے میں جَکڑے، تِیرہ و تار ملک کے اندر ایک شخصیت جَلوہ گر ہوئی جو رفتہ صدی کی آخری دہائیوں میں دنیا بھر سے داد و تحسین کا مَرجَع اور مستقبل کیلئے امید کا اِستعارہ بن گئی۔ ملک میں امن، آزادی اور عوام کی حکمرانی کیلئے تَگ ودَو کرنے، مصائب جِھیلنے اور قید و بند کی اذیتیں سَہنے والی اِس خاتون کا نام آنگ سان سوچی ہے جو آجکل وحشت ، بدمعاشی اور بدنامی کی شہریت حاصل کرنے والے ملک میانمار (برما) کی حُکمران ہیں۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ امن و آشتی کی داعی یہ خاتون، ایک دن انسانی اقدار کو ہڑپ کرنے والی ڈائن ثابت ہو گی۔ 1991 میں محترمہ کو نوبل انعام ملا۔ جس سے نہ صرف دنیا بھر میں سوچی کو زبردست پذیرائی ملی بلکہ ملک کے اندر بھی ہر طرف واہ وا، واہ وا کی صدائیں گونجنے لگیں۔ پھر میڈلز کی برسات شروع ہو گئی۔ اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل سائمن پرائز ،امریکہ کے بڑے سول ایوارڈ پریذیڈنشل میڈل فار فریڈم ، یورپی یونین کے سخاروف ایوارڈ ، ناروے کے کارافتو میموریل ایوارڈ ، بھارت کے جواہرلال نہرو ایوارڈ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بےنظیر بھٹو ایوارڈ سمیت دینا کے دیگر بہت سے ممالک اور بے شمار قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں ایوارڈز ، انعامات، ڈاکٹریٹ کی آنریری ڈگریوں اور تحسین و تبریک ناموں کے ساتھ سوچی پر ساون کے بادلوں کی طرح برسیں۔ کینیڈا نے اعزازی شہریت سے نوازا۔ یہاں تک کہ 2005 میں ویمن رائٹس کے ادارے ایکوالیٹی ناؤ نے آنگ سان سوچی کو اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے منصب کی امیدوار تجویز کر دیا۔
آنگ سان سوچی نے نومبر 2010 میں رہائی پائی۔ سوچی 2012 کے ضمنی انتخاب میں منتخب ہو کر اپوزیشن لیڈر بن گئی۔ سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی نے 2015 کے عام انتخابات میں بھر پور حصہ لیا اور فتحیاب ہوئی۔ آئینی پیچیدگیوں کے باعث سوچی صدر تو نہ بن سکی البتہ اپریل 2016 میں سوچی کیلئے سٹیٹ کونسلر کا خصوصی منصب تخلیق کیا گیا جسکی بدولت اب وہ ملک کی حکمران ہیں۔ توقع تھی کہ وہ مذہبی، نسلی اور علاقائی تعصبات سے مُبرا ہو کر حکمرانی کرے گی مگر امیدوں کا آب، سُراب ثابت ہوا اور توقعات کا پَربَت، پَرکاہ برابر تبدیلی بھی نہ لا سکا۔ بربریت بڑھی اور وحشت کے موجیں مارتے طوفان میں تَخفِیف کے بجائے تُندی آ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آنگ سان سوچی پر آج ہر طرف سے لعنت برس رہی ہے۔ دنیا بھر سے نوبل انعام کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ سوچی اپنی فوج کے آگے بے بس ہے مگر اس سلسلہ میں دی گارڈین میں جارج مونبوئٹ کی رائے کنفیوژن کلیئر کر دیتی ہے۔ وہ رقمطراز ہے " مان لیا کہ میانمار میں فوج کو بڑی طاقت حاصل ہے اور آنگ سان سوچی کو فوج پر خاطر خواہ دسترس حاصل نہیں اور یہ بھی مان لیا کہ اُنکی سرگرمیوں کا دائرہ محدود ہے لیکن وہ مظالم کے خلاف قانونی اقدامات کر سکتی تھیں۔ وہ بولنے اور بات کرنے کی زبردست طاقت رکھتی ہیں۔ ماضی میں فوجی حکام اسکی زبان بندی نہ کر سکے۔۔۔۔مگر حقائق کے برعکس درپیش صورتحال پر، آج سوچی نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اُلٹا ان مظالم کی تردید کر رہی ہیں جن کے دستاویزی ثبوت سامنے ہیں اور انسانیت کے نام پر ملنے والی امداد میں بھی آنگ سان سوچی رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں !
تھوڑا عرصہ قبل سوچی نے اپنے ایک بیان میں مظالم کی ذمہ داری "باغیوں" پر عائد کر دی۔ جو بقول سوچی، فوج سے لڑائی کرنا چاہتےہیں۔"
باغیوں کا بہانا برمی حکام کا بڑا پرانا ہے۔ اراکان یا راکھیں صوبہ کو وہ شرپسندوں اور بلوائیوں کا علاقہ قرار دیتے ہیں۔ وارداتوں کی وقوع پذیری میں ایک تنظیم " حرکت الیقین" کا نام لیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ آنگ سان سوچی کا اشارہ بھی اُسی طرف ہو۔ حالانکہ یہ محض عُذرِ لَنگ ہے۔ فی الواقع دیکھا جائے آنگ سان سوچی اولا" تو ملک کی مسلح افواج کے زیرِ اثر لگتی ہیں۔ اپنے ماضی کے مزاج اور معاملات کے برعکس اب وہ دِلیرانہ پَنگے پالنے کی ہمت و سَکت نہیں رکھتی۔ جرات مندی کی جگہ مصلحت اندیشی نے لے لی ہے۔ ثانیا" سوچی اقتدار میں رہنے کی مُتمنی ہے اور اگلے انتخابات کے لالچ میں عوام کی اکثریت کو نالاں نہیں کرنا چاہتی جبکہ ملک کی 80 فیصد آبادی بدھ مت مذھب سے وابستہ ہے اور بدھ بِھکشوؤں کا رُجحان ، رَویہ اور رِیت ، رِواج۔۔۔۔۔؟ عَیاں را چَہ بیاں !!!
ہمارے لئے حیران کن اور غیرمتوقع طرزِعمل چین کا ہے جس نے روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف برمی حکومت کے جاری آپریشن کی حمایت کر دی۔ ایسا کیوں ہوا ؟ کوئی وضاحت سامنے نہیں ! مسلم ممالک میں سے پاکستان کو چین کا زیادہ قُرب حاصل ہے۔ باوجوہ ہم اعتراض و احتجاج کی پوزیشن میں نہیں مگر اِستفسار اور اِضمحلال کا اظہار کرنے میں کوئی مُضائقہ نہیں۔ ہَمرِکابی میں اتنا استحقاق تو بنتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی چین ہی میں منعقدہ برکس (BRICS) اجلاس کا اِعلامیہ بڑا تعجب خیز لگا جو انڈیا کی تحریک پر منظور ہوا اور اس پر چین نے بھی اپنے دستخط ثَبت کئے۔ قرارداد کا لُبِ لُباب جو بھی تھا، پسِ منظر میں ہندوستان کی ہَرزہ سرائی کار فرما تھی۔ حقانی نَیٹ ورک، لشکرِ طیبہ، داعِش اور طالبان پر تنقید کی آڑ میں اصل ھَدف پاکستان تھا۔ چین کیطرف سے قرارد کی تائید پر خود چینی میڈیا نے بھی اظہارِ حیرت کیا ہے ۔ کیا عجب عالَم ہے کہ میانمار مسئلہ پر بھی چین اور بھارت ہم آہَنگ ہیں ! روہنگیا آپریشن کی تائید میں داغے گئے چینی بیان سے پہلے، مسٹر نریندر مودی دامے دُرمے قَدمے سُخنے یعنی بَنفسِ نفیس آنگ سان سوچی کے پَہلو میں جا بیٹھے۔ مقصدِ ملاقات اظہارِ یَکجہتی کرنا، تَھپکی دینا اور حوصلہ افزائی فرمانا تھا کیونکہ میانمار کو دنیا بھر سے شدید تنقید و تحقِیر اور نَقدونَظر کا سامنا ہے۔ خود مودی حکومت نے اپنے ملک سے تارکینِ وطن کے اِنخلاء کا عِندیہ دے کر دراصل بھارت میں آباد ہزاروں روہنگیائی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کا ارادہ کر لیا ہے جو کئی برس پہلے میانمار کی فورسز کے ہاتھوں خاک و خُوں میں غَلطاں، اُفتاں و خِیزاں بھارت میں پناہ گُزیں ہوئے تھے۔ واپس دھکیلنے کی فضا بنانے اور راہ ہموار کرنے کیلئے بھارت کے سرکاری میڈیا نے اِن دنوں طوفان سَر پر اٹھا رکھا ہے کہ میانمار کے مسلمانوں کا تعلق داعش اور دیگر دھشت گرد تنظیموں سے ہے۔ خُوئے بَد را بہانہ بَسیار ، نئی دہلی نے 2013 میں مشرقی بھارت کے صوبہ بہار میں بودہ گایا معبد کی عمارت میں ہونے والے چھوٹے بموں کے دھماکوں کا سلسلہ بیچارے روہنگیا کے مسلمانوں سے جوڑ دیا ہے۔ اس طرح کے بہانے تراش کر مسلمان مہاجرین کو بھارت سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ نے چند روز قبل کہا تھا کہ روہنگیائی مسلمان بھارت میں غیرقانونی طور پر رہ رہےہیں لہذا یہ لوگ ملک بدر رہنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے پولیس کو روہنگیائی مہاجر مسلمانوں کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں نے وہاں کی سپریم کورٹ میں پِٹشَن بھی داخل کر دی ہے۔ ممکن ہے حکمِ امتناعی جاری ہو جائے مگر ابھی یہ محض امکان اور خوش خیالی ہے۔ خطرات کا خوف اپنی جگہ قائم ہے۔ مسلمانوں کے خلاف منافقت اور تعصب کی انتہا دیکھیں کہ بےیارومدگار مسلمانوں کو تو بھارت بدر کیا جا رہا ہے جبکہ بھارت میں ہی چین کے باغی مذھبی رہنما دلائی لاما اور تبت سے ہندوستان ہجرت کر کے آنے والے تقریبا" ایک لاکھ دس ہزار بدھ مت پیروکاروں کو مہمان بنایا ہوا ہے۔ 58 سال پہلے 1959 میں چین میں کریک ڈاؤں آپریشن شروع ہوا تو چین سے بھاگ کر بھارت پہنچنے والے ان باغیوں کو بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہرلال نہرو نے پناہ دی تھی۔ اس کے برعکس برما کے سِتائے ہوئے بدحال اور مصیب زدہ روہنگیائی مہاجر مسلمانوں سے بھارت نہایت امتیازی اور غیر انسانی برتاؤ اختیار کر رہا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میانمار کا مسلم آبادی کی اکثریت والا صوبہ راکھائِن بدترین فسادات اور گِھیراؤ جَلاؤ کی زَد میں ہے۔ بُدھے بَلوائی جنگلی درندوں کی طرح دَندناتے اور غارت گری کرتے پِھر رہے ہیں۔ حکمرانوں کی بدنیتی ملاحظہ فرمائیں، ایک بدھ بھکشو اشوک وردھو، جو خود کو بدھا کی تعلیمات کا مبلغ کہتا ہے اور انتہا پسند بھکشوؤں میں بہت مقبول ہے۔پچیس سال قبل ملک میں مذھب کی آڑ میں مسلمانوں کے قتل عام میں ماخوذ ہوا تھا اور اپنے جرائم پر جیل کاٹ رہا تھا، اُسے رہا کر کے مسلمانوں کے خلاف مُہم جُوئی پر لگا دیا گیا ہے۔ موجودہ فسادات میں اُس کردار بڑا نمایاں ہے۔ ایسی گھمبیر صورتحال میں مسلمانوں کو شدید اِبتَلا کا سامنا ہے۔ گھروں کو آگ اور مَکینوں کو مَقتَل درپیش ہے۔ میڈیا کی مُہیا کردہ معلومات کے مطابق صرف گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تین لاکھ کے لگ بھگ مسلمان مہاجرین نے جان بچا کر بنگلہ دیش میں پناہ پائی۔ بُدھ مَت کے بٍھکشُو مسلمانوں کو مارنے اور گھروں کو آگ لگانے میں پیش پیش ہیں حالانکہ نوبل انعام یافتہ دلائی لامہ نے بھی بِھکشوؤں سے بُدھا کے نام پر تشدد چھوڑنے کی اپیل کی ہے مگر کہیں بھی امن کیطرف مُراجِعت کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ صورتحال مزید گھمبیر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس سے پہلے دنیا کے سب سے بڑے مذھب عیسائیت کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی روہنگیائی مسلمانوں کو انتہائی مظلوم قرار دیتے ہوئے ظلم وتشد بند کرنے اور دنیا سے انکی امداد کیلئے اپیل کی مگر طوفان وحشت کی ہَوَسناکی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ بلکہ ' مَرَض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی۔۔۔۔! ' 18ستمبر 2017 کے اخبارات میں میانمار فوج کے خودسَر سربراہ جنرل مِن آن لینگ کا بیان شائع ہوا ہے جس میں موصوف کہتے ہیں کہ "روہنگیا کے مسلمانوں کا اُن کے ملک میانمار سے کوئی تعلق نہیں " جنرل لینگ نے مزید کہا کہ " روہنگیا میانمار میں شناخت کے متلاشی ہیں اور یہ لوگ کبھی بھی اس ملک کا کوئی نسلی گروپ نہیں رہے۔ جنرل لینگ نے روہنگیا مسلمانوں کو بنگالی قرار دیا۔ فوج کے سربراہ کا بیان اور جاری جَبر کے تیور، میانمار میں مسلمانوں کے خوفناک مستبقل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
امریکہ اور حَوارین نے میانمار کی پُرتشدد وارداتوں کے خلاف لَب کُشائی تو کی مگر گُھونگلوں سے مٹی اُتارنے کے مترادف، پُھسپَھے طرز کے تنقیدی بیانات کے بعد چُپ ساتھ لی ! در اصل امریکہ اور سَر ھِلانے والے اِعانت کاروں کو ابھی افغانستان، عراق، شام اور شمالی کوریا کے تَفکرات دامنگیر ہیں. یا پھر دنیا پر تَحَکُم اور تَغَلُب حاصل کرنے کا بُھوت سوار ۔ اقوام متحدہ کا کردار کچھوا چال ہے جبکہ روہنگیا کے حالات تَساہل کے متحمل نہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے متقاضی ہیں۔ منافقت اور مصلحتوں سے ماورا ہو کر کیا کرنا چاہیے اور کیسے ؟ کس کی کیا ذمہ داری ہے اور کہاں تک ، خطرات کے بجتے ناقُوس کیا تقاضا کرتے ہیں اور کب تک ؟ چند معروضات پیش کرنا مناسب محسوس ہو رہا ہے۔
پس چہ باید کرد۔۔۔۔۔۔ ؟
1- پہلی بات تو یہ ہے کہ حَقدار کو حق ملے اور مظلوں کو انصاف۔۔۔۔۔تجاوز اور تناؤ کا سبب بننے والی ہر سوچ اور ہر سرگرمی کا انسداد ہونا چاہئے۔ موت کے منہ زور گھوڑوں کو فورا" لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ عالَم خود کو پوپلے اور پُھسپُھے انداز کے مذمتی بیانات تک محدود نہ رکھیں۔ دو ٹوک انداز میں میانمار کے حکمرانوں کی گرفت اور سَرزنش ہونی چاہیے۔ محض زندہ رہنے کا حق دِلوانا کافی نہیں۔ میانمار میں اقلیتوں کیلئے مساوات اور یکسانیت کے اصولوں کا اطلاق کماحقه' ہونا چاہیے اور ہمیشہ کیلئے ہو جانا چاہیئے۔ جُزوی یا جُزوقتی فیصلوں کے بجائے ہمہ گیر اور لازوال چارٹر ترتیب دینا چاہئے ۔ عالمی برادری مسلمانوں کی کَسمُپرسی اور درماندگی کا نوٹس لے اور فوری طور پر مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی، اقتصادی اور رِفاہی امداد کے عملی اقدامات کرے۔ روہنگیائی مسلمان اس وقت ہر لحاظ سے محتاجِ مدد ہیں۔
2- اقوام متحدہ ایک بااختیار کمیشن کا تَقَرُر کرے جو مُمکنہ حد تک کم سے کم مدت میں اراکان کے صوبہ کا تفصیلی سروے کرنے کے بعد ایک جامع رپورٹ مرتب کرے۔ مجوزہ رپورٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، امتیازی قوانین، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، برمی افواج کے بہیمانہ اقدامات ،مسلمانوں کے ساتھ اب تک ہونے والی زیادتیوں اور نقصانات کا مکمل احاطہ کرے۔ حَتمی رپورٹ کی سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ عملی اقدامات کو قوت فراہم کرنے اور بامَعنی بنانے کیلئے اگر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت محسوس ہو تو سوچ کو بلا تاخیر عملی جامہ پہنایا جائے۔
3- لازم ہے کہ حالات کی بحالی تک میانمار کے صوبہ اراکان میں بین الاقوامی فوج تعینات کی جائے۔ اس ضمن میں اقوامِ متحدہ تمام طاقتور ممالک سے مدد حاصل کرے۔ مسلمان ممالک آگے بڑھیں اور باِیں سلسلہ خود ہی اپنی خدمات پیش کر دیں۔
4- سالہا سال سے ستم رسیدہ روہنگیائی مسلمان بدترین معاشی بُحران اور ہلاکت خیز اِفلاس کی زَد میں ہیں۔ آبادیوں پر وَباؤں اور بیماریوں نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ خوراک اور حفظانِ صحت کیلئے بلا تاخیر تعاون درکار ہے۔ اقوام متحدہ ، فوری طور پر میانمار کی حکومت کو پابند کرے کہ وہ مختلف ممالک سے مسلمانوں کیلئے پہنچنے والی امداد میں روڑے نہ اَٹکائے۔ ترسِیلات کی تحصیل اور تقسیم کے عمل کو محفوظ اور مناسب بنانے کیلئے بین الاقوامی فوج کے دستے تعینات کئے جائیں۔ اقوام متحدہ دنیا بھر سے موثر اور فراخدلانہ مالی امداد کی اپیل کرے اور مجوزہ اپیل کی لگاتار پیروی کرے۔
5- اقوام متحدہ کی کوارڈینیش میں وہ تمام ممالک جہاں جہاں روہنگیائی مہاجرین پناہ گُزیں ہیں ، جب تک وہ خود واپسی کا فیصلہ نہیں کرتے، اُنہیں متعلقہ ممالک میں دیگر شہریوں کی طرح مساویانہ شہری حقوق دیئے جائیں۔ رجسٹریشن کے بعد شناختی کارڈ جاری کیئے جائیں۔ عندالطلب پاسپورٹ دیئے جائیں۔ آزادانہ نقل و حرکت، روزگار کی فراہمی، صحت سہولیات اور یکساں تعلیمی مواقع یقینی بنائے جائیں۔
6- اس وقت روہنگیائی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش اور بھارت کے ساحلوں اور سرحدوں پر کھلے آسمان تلے پڑی مصیبتیں کاٹ رہی ہے۔ بھوک اور بیماریوں نے بدحال کر رکھا ہے۔ دونوں ممالک روہنگیائی قافلوں کو اپنی حدود میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہے۔ ہر طرف مصائب اور موت کا رقص جاری ہے. اقوام متحدہ دونوں ممالک سے اجازت اور اعانت کا مطالبہ کرے اور بین الاقوامی نگرانوں کے توسط سے عمل درآمد کرائے ۔
7- میانمار کی حکومت کو مذاکرات اور مفاہمت کی میز پر لایا جائے۔ حکومت اگر اقوامِ عالَم اور یو این او کی توقعات اور تقاضوں سے ھم آھنگ نہیں رہتی اور مَن مانی جاری رکھتی ہے تو پھر سفارتی اور معاشی مقاطع کے ساتھ ساتھ سَرجیکل سٹرائیک سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں تمام ممالک دستِ تعاون دراز کریں۔
8- ستاون ممالک پر مشتمل، اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC) کے مُردہ گھوڑے میں بھی رُوح پھونکنے کی ضرورت ہے ۔ بہت ہو چکی اور بڑا کچھ لُٹ چکا۔ بوسنیا برباد ہوا ، عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، افغانستان کے پہاڑوں سے انسانی خون کے چشمے پھوٹے، مصر مَلبوں کا ڈھیر بنا اور لیبیا کو لہو سے نہلا دیا گیا۔ بحرین کی بدحالی اور یمن میں ژولیدگی کے نوحے پڑھے جا چکے۔ شام پر غم کی شامیں سایہ فگن ہیں۔ میانمار، صومالیہ ، فلسطین اور کشمیر میں انسانیت کُرلا رہی ہے۔ اغیار نے قول و فعل سے مسلمانوں کو فُول بنایا اور ہم ہمنوا بن گئے۔ شعائرِ اسلامی کا تَمسخر اڑایا اور ہم نے خوئے تائید اپنا لی۔ جہاد کو جَبر اور اسلام کو انتقام کے معنی پہنائے گئے اور ہم چپ رہے۔ اُلٹا باھم دست بگریباں ہوئے۔ بڑی ہوشیاری اور چابکدستی سے مسلمان ریاستوں میں خلفشار پیدا کر دیا گیا۔ مسلمانوں کے وسائل، خود مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے۔ ڈیڑھ انچ کی مسجد کے ذوق نے "تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں " کے تصور کا ملیا میٹ کر دیا۔ گزشتہ دو عشروں کی تاریخ بہت المناک ہے۔ ہر طرف تباہی اور رُسوائی کے آثار نظر آتے ہیں۔ سُپر پاور کی مُصاحبی اور خوشنودی کی جُستجو کے پسِ پردہ جو اغراض بھی کار فرما ہوں ، منطقی ماحَصَل مشکلات ، مصارف اور مستعمل ہونے اور ہر فرمان پر فرمانبرداری کرنے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں۔ 57 ممالک کا اتحاد ایک بہت بڑی قوت بن سکتا ہے۔ اتحاد اور یگانگت کے سامنے بڑی سے بڑی طاقت بھی سوچ سنبھل کر بات کرتی ہے۔ میانمار میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تباہی اور بربادی کی روک تھام کیلئے او آئی سی بڑا موثر اور ثمر آفریں کردار ادا کر سکتی ہے۔ معاشی مسائل میں ٹھوس امداد کر سکتی ہے۔
9- دسمبر 2015 میں 39 ممالک پر مشتمل "اسلامی فوجی اتحاد" کی بنیاد رکھی گئی۔ اتحاد کا دل یا روحِ رواں سعودی عرب ہے۔ پاکستان بھی اس کا ممبر ہے۔ اس اتحاد کی تشکیل کا بنیادی مقصد انتہا پسندی اور دھشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنا۔ (اتحاد میں ایران ، عراق اور شام کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے)۔ مذکورہ اتحاد کے قیام کے وقت پیشِ نظر ایران ، داعش ، القاعدہ جیسی انتہا پسند اور دھشت گرد تنظیموں کے خلاف لائحۂ عمل ترتیب دینا اور عملی اقدامات کرنا ہیں (ایران کے بارے میں پاکستان کے تحفظات بڑے واضح ہیں۔ اسی وجہ سے شروع شروع میں پاکستان نے شمولیت میں بھی پس وپیش اور کسی حد تک تردد کا مظاہرہ کیا) تاہم انتہا پسندی صرف اسلام کے نام سے منسلک تنظیموں تک محدود کیوں ؟۔۔۔۔۔میانمار میں برپا انتہا پسندی اور دھشت گردی کا مقابلہ کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ اقوام متحدہ نے روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم کو دورِ حاضر کی سب سے زیادہ دھشت گردی قرار دیا ہے تو پھر 39 مسلمان ممالک کا طاقتور فوجی اتحاد اس وحشتناکی کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہے ؟ مسلم قوتوں کو صرف امریکی خوشنودی اور انگشت ریزی کا منتظر رہنے اور آلہ کار بننے کے بجائے خود بھی فیصلہ سازی اور عملی اطلاق کا مکلف ہونا چاہیئے۔ برما میں مسلمانوں کا قتل عام اور وحشیانہ کارروائیاں بدترین دھشت گردی ہے۔ اسلامی فوجی اتحاد کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور عملی تدابیر میں پہلو تہی یا تاخیر سے بچنا چاہیے ۔ ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرنےکا وقت ہے-
10- اگر مذکورہ بالا تجاویز پر عمل کرنے، روہنگیائی مسلمانوں کو حقوق دلوانے اور اُنہیں آبرومندانہ طریقے سے آ باد کرا سکنے میں کامیابی کا امکان عَنقا ہے۔ اقوامِ عالم بے ضمیری ، بے حِسی اور بےغیرتی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ مُضمحل اور مایوس کن قاعدے کُلیوں تک محدود رہتی ہے۔ او آئی سی بھی انگڑائی نہیں لیتی۔ حالات جُوں کے تُوں رہتے ہیں تو پھر ظلم سے نجات اور فلاح کی راہ صرف ایک ہی رہ جاتی ہے کہ اراکان میں بچ جانے والی کُلُہم مسلم آبادی کی مائیگریشن کا اہتمام کیا جائے. بڑے بڑے مسلمان ممالک، مہاجرین کو اپنے ہاں ایڈجسٹ کریں. انہیں باقاعدہ شہریت دی جائے اور بلا امتیاز، ریاست کے دوسرے شہریوں کی طرح حقوق وَدیعت کئے جائیں۔ دس سے پندرہ لاکھ کی روہنگیائی مسلمانوں کی آبادکاری کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں۔ آٹھ دس اسلامی ممالک کو اس کام کا بیڑہ اٹھانا ہوگا۔ پاکستان ، ترکی ، سعودی عرب ، امارات اور دیگر اسلامی ریاستیں آگے بڑھیں اور نہایت سَبُک رفتاری سے معاملات کو حتمی شکل دینے کی مَساعیِ مسلسل کریں۔ اس لئے کہ روہنگیائی مسلمانوں پر ہر دن، پہلے سے بڑھ کر ہولناک ثابت ہو رہا ہے اور ہر رات قیامت بن کر ٹُوٹ رہی ہے ۔ جَلتے گاؤں ، تڑپتی لاشیں، چِیختے چِلاتے بچے ، لُٹتی عزتیں، قدم بَر دوش قافلوں پر ٹوٹتا قہر، بارُودی سُرنگیں، رات کے اندھیرے میں لاش پر لاش رکھ کر زمین بُردگی، ہر طرف دھاڑ فریاد کا سَماں۔۔۔۔۔قیامت سے کیا کم قیامت ہے.....اور یہ مَہیب منظر دنیا بھر کے مُردہ مزاج حکمرانوں اور خُفتہ خَصائل مسلمانوں کے ضمیر پر ضَربیں لگا رہا ہے جبکہ فضا مظلوموں کی چیخ و پکار اور اًلمدد اَلمدد کی لَرزہ خیز صداؤں سے گونج رہی ہے !! اَلحَذَر و اَلاَماں !!!
یہ گھڑی محشر کی ہے ، تُو عرصہء محشر میں ہے
پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *