میاں نواز شریف کی نئی سیاست

haq nawaz

کہتے ہیں کہ وقت انسان کو بادشاہ سے فقیر اور فقیرسے بادشاہ بنانے میں دیر نہیں لگاتی ، تاریخ کا سبق یہی ہے لیکن تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان پر سب سے زیادہ حکمرانی کرنے والے میاں برداران کا انجام یہ ہوگا اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں ملک میں صرف حکمرانی اور پیسہ بنایا ہے۔آج ان کی حکومت ہے اسلئے ان کو آج بھی وزیراعظم کا پروڈکول دیا جارہاہے ۔انہوں نے آج بھی یہ نہیں سیکھا کہ تیس سال حکمرانی کے بعد کم ازکم اب تو عوام کے لئے اگرنہیں ایک سیاست دان کے ناطے سرکاری پروڈکول کو خیر باد کہہ دیں لیکن ان کو معلوم ہے کہ یہاں لوگ نواز شریف کے ساتھ نہیں بلکہ ان گاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جن میں وہ بیٹھے ہیں لیکن افسوس تاریخ میں ان کا نام نہیں رہے گا ۔ اب تیس سال حکمرانی کے بعد میاں نواز شریف صاحب کو یاد آیا کہ ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنانا ہے جہاں آئین وقانون کی حکمرانی ہو ۔میاں صاحب حقیقت تو ہے کہ آج بھی آپ کو قائداعظم کا پاکستان سوٹ نہیں کرتا اور نہ ہی آپ چاہتے ہیں کہ پاکستا ن میں آئین وقانون کی حکمرانی قائم ہو جائے جس کی عملی مثال آپ خود پیش کرتے ہیں کہ وزیراعظم نہ ہونے کے باوجود آپ وزیراعظم کا پورا نہیں بلکہ اس سے زیادہ پروڈکول یعنی پولیس اور ایجنسیوں کو اپنے حفاظت پر لگایا ہے جو کہ آئین وقانون کی مکمل طور پر خلاف ورزی ہے۔ وزیراعظم پاکستان ہو کر بھی اقامہ لیا جو کہ لوٹ مار اور کرپشن کا پیسہ بچانا کیلئے ہوتا ہے جو آئین وقانون کی خلاف ورزی ہے۔
میاں نواز شریف کی نیب کورٹ میں دو منٹ کی حاضری کے بعد جس پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑں روپے خرچ ہوئے، میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اثاثوں پر نکالنے والے یعنی نااہل کرنے والے میر ے قوم کیلئے بنائے گئے اثا ثوں کو بھی دیکھے ۔لواری ٹنل ،کچھی کنال اور نیلم جہلم منصوبے معمولی اثاثے ہیں۔ بجلی کے کارخانے ، ملک سے بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کاخاتمہ ،ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ،موٹروے اور میٹروبس کے منصوبے بھی عدالت دیکھیں ۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا یہ معمولی اثاثے ہیں ؟اب صحافت کی تاریخ کو بدلنے والے نے پریس کانفرنس کو بھی بدل دیا کہ نام پریس کانفرس رکھا تھا جبکہ حقیقت میں میڈیا کو بلاکر لکھی ہوئی تقریر پڑ ھی لی میاں صاحب اورنون لیگ کو یہ معلوم نہیں کہ پریس کانفرنس وہ ہوتی ہے جس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیے جائے یعنی سوال و جواب کا سلسلہ ہو جو میاں صاحب نے زندگی میں کبھی بھی نہیں کیا اور نہ ہی وہ جواب دے سکتے ہیں وہ ایک بزنس مین ہیں صرف قیمت لگا سکتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ وہ صحافیوں کے سوالات کے جواب نہیں دے سکتے تھے اسلئے تقر یر کرکے چلے گئے ۔ میاں صاحب نے گزشتہ دنوں لواری ٹنل کا افتتا ح کیا جو مشرف کے دور سے کام جاری ہے اور اب بھی کام ہورہاہے ۔نیلم جہلم منصوبوں سالوں سے جاری ہے جس کا ہر پاکستانی بجلی بل میں ٹیکس دیتا ہے لیکن ابھی تک مکمل نہ ہوسکا ہے بجلی کے کارخانے تو مجھے نہیں معلوم کہ میاں صاحب نے کہاں بنائے ہیں لیکن شاید وہ بجلی منصبوبو ں کی بات کرتے ہوں گے کہ ہم نے لوڈشیڈنگ ختم کی لیکن حقیقت میں آج بھی ملک بھر، شہروں اور دیہات میں پندرہ پندرہ گھنٹے بجلی نہیں ہوتی ،گیس یعنی ایل این جی درآمد ضرور کی ہے لیکن وہ بھی جاپان اور دنیا کے دوسرے ممالک سے ڈبل قیمت پر اپنے دوست قطر سے لی جس کی ابھی تک انہوں نے قوم کے سامنے معاہدہ نہیں رکھا جس میں اربوں کی کرپشن چھپی ہوئی ہے ۔ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان خود کشیاں کرر ہے ہیں ملک میں میاں صاحب کے دور میں ایک ہی اضافہ ہوا ہے اور بے روزگاری کا ہے ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میں نے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کو خاتمہ کرنے کیلئے جو نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا جس میں جو ذمہ داری حکومت کی تھی اس پربھی پنجاب میں زیادہ عمل نہیں ہوا ،البتہ فوج آج بھی قبائلی علاقوں میں شہادتیں دے رہی ہے لیکن آپ نے دنیا بھر میں ڈان لیکس کے ذریعے فوج کو بدنام کیا اور آج بھی آپ کے وزراء فوج کو بدنام کررہے ہیں۔ میاں صاحب کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قبائلی علاقے میں کہاں پر جنگ ہورہی ہے جس کو فوج اور عوام کے مطالبے کے باوجود آپ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔
میاں صاحب نے کہا کہ NA120میں عوام نے عدالت کے خلاف فیصلہ دیا ۔ میاں صاحب مجموعی ووٹ آپ کے ووٹوں سے زیادہ ہے باوجود اس کے کہ آپ کی حکومت نے29ہزارووٹ دوسرے حلقوں سے اپنے حلقے میں ٹرنسفر کیے،صوبائی اور وفاقی حکومت نے اربوں روپے خرچ کیے لیکن مجموعی طور آپ کے ووٹ کم ہوئے ۔ جب آپ کی حکومت نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا۔میاں صاحب نے اپنی تقریر میں ایک سچ بولا ہے اور وہ ہے میٹرو بس منصوبے کا جس پر تقریباً چھ سو ارب سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں جو کہ دنیا کا مہنگا ترین میٹرو منصوبے ہیں جو بھارت، امریکا اور لندن سے بھی مہنگے ہیں ۔
میاں صاحب نے کہا کہ سی پیک اور ملک کے اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی سزا ملی ۔ میاں صاحب سی پیک کامشرف اور زرداری دور میں آغاز ہوا تھا جبکہ ملک کے اقتصادی حالات کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرضوں کا بوجھ آپ 85ارب ڈالر تک لے گئے ۔ برآمدات زرداری دور میں 25ارب ڈالر تھے آپ کے دور میں ہر سال کم ہوکر اب 18ارب ڈالر ہوگئی ہے ۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار معاشی حالات انتہائی کمزور ہے جس کی رپورٹس موجود ہے ۔ قرضے لیکر ترقی نہیں ہوتی جس کا خمیازہ آنے والے وقت میں یہ قوم ادا کریں گی ۔میاں صاحب نے یہ بھی کہا کہ ملک میں جمہوری نظام کو نہیں چلنے دیا جاتا ۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ جنجوعہ سے لے بے نظیر کی دو دفعہ حکومت کو ختم کرنے میں آپ نے کردار ادا کیا لیکن میاں صاحب اب وہ دور نہیں جس میں آپ جیسے لوگ سازشوں سے حکومت کا خاتمہ کیا کرتے تھے اپ ملک تبدیل ہوچکا ہے ۔ ملک واقعی قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بن رہاہے جس کو آپ بھی تسلیم کر لے ۔ قانون اور آئین کے سامنے دوسروں کی طرح جوابدے بن جائے جونظر نہیں آرہاہے۔آپ کی نئی جھوٹ پر مبنی نئی سیاست نہیں چلے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *