نواز شریف کی واپسی پروکھری تھیوریاں !

naeem-baloch1
خیر یہ بات تو آپ بیسویں دفعہ پڑھ اور سن چکے ہوں گے نواز شریف کو اکثرو بیشتر بریکنگ نیوز کے چھابوں والے تجزیہ نگار پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دیس نکالا دے چکے تھے۔ لیکن نواز شریف دھماکے دار واپسی کر چکے ہیں ۔ ان کے سب سے بڑے ناقد حسن نثار نے نواز شریف کی واپسی کو ’’ عقل مندی ‘‘ قرار دیا ہے ۔ یہ بھی خاصا حیرت انگیز تبصرہ ہے کیونکہ حسن نثار کے نزدیک’’ شریفوں ‘‘ میں عقل کی موجودگی کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے گدھے کے بارے میں یہ مانا جائے کہ وہ گوشت کھاتا ہے یا حسن نثار ہی کے بارے میں یہ تسلیم کر لیا جائے انھوں نے آج ’’P ‘‘ نہیں ہو گی ۔ اور یہ بات بھی طے ہے کہ نواز شریف کی واپسی پر ان میں سے کسی تجزیہ نگار کو ’’ ص ‘‘ نہیں آیا ہو گا ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں تجزیہ نگار’’ تجزیے ‘‘نہیں بلکہ اپنی’’ خواہش ‘‘کو تجزیہ بنا کر پیش کرتے ہیں ۔
خیر! نواز شریف وطن واپس کیوں آئے؟ اس کے بارے میں متعدد ’’تھیوریاں ‘‘ گردش کر رہی ہیں ۔ سب سے پاپولر تھیوری یہ ہے کہ ان کی ’’ڈیل ‘‘ ہو گئی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے انھوں نے چودھری نثار سے ملاقات کی ہے ۔ اور اس ملاقات میں چودھری صا حب ضدی بچے کے بجائے بڑے مودب دکھائی دیتے ہیں ۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ ان کا منہ ذرا بھی ’’سوجا ‘‘ ہوا نہیں ۔ انھوں نے بڑے میاں صاحب سے نہ صرف وفاداری کا اظہار کیا ہے بلکہ مسلم لیگ چ( پنجابی میں ) نہ بنانے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔ لیکن یہ وعدہ انھوں نے منہ سے بول کر نہیں کیا بلکہ سر ’’نہ‘‘ میں ہلا کر کیا ہے ۔
اس سے ذرا چھوٹی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نواز شریف کے کان میں کیونکہ شہباز شریف نے ’’ کھسر پھسر ‘‘ کی تھی، اس لیے وہ وطن واپس آگئے ہیں ۔اس کھسر پھسر کو ’’ ڈی کوڈی فائی ‘‘ کرنے کی بھی بہتیری کوششیں کی گئیں ۔اور اس کا سرا’’ فوجی بھائیوں‘‘ سے ملایا گیا ۔ بعض نے اس کا مطلب یہ اخذ کیا کہ ویسی ہی ڈیل ہو گئی ہے جیسی پرویز مشرف سے ہوئی تھی ۔ یعنی مال محفوظ ، کرسی غیر محفوظ ۔ لیکن اس ڈیل میں تو کچھ قطری اور کچھ سعودی ’’ مقدس ہستیاں‘‘ شامل تھیں ، اس میں یہ کردار کون ادا کر رہا ہے؟ یہ نہیں بتا یا جا رہا ۔ بلکہ اس سے بالکل برعکس یمن کے مسئلے میں سعودی عرب کی’’مطلوبہ‘‘ حمایت نہ کرنے پر یہ تمام’’ مقدس کبوتر ‘‘نواز شریف حکومت کے خلاف ہو چکے ہیں ، جس کا بدلہ نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں مشکوک قسم کی قانونی دستاویزات فراہم کر کے لیا گیا ۔اور اس کی گواہی ریاض میں ہونے والی اس تقریب نے دی جس میں نواز شریف کو حضرت راحیل شریف دامت برکاتہم کی موجودگی میں ’’بے آبرو‘‘ کیا گیا۔ البتہ سوچنے کی بات یہ ضرور ہے کہ ’’اسلامی دنیا کے پاکستانی سپہ سالار ‘‘ نے اس معاملے پر چپ کیوں سادھی ؟
ایک تھیوری یہ بھی ہے نواز شریف اس بات پر ڈٹ گئے ہیں کہ یہ ’’کٹی کٹا ‘‘ اب نکل ہی جانا چاہیے کہ ملک سیاست دانوں نے چلانا ہے یا کسی اور نے ؟ دوسرے لفظوں میں ریاست پر حکومت کس کی ہونی چاہیے؟ اس تھیوری کو تقویت وزیر خارجہ کے حالیہ منہ زور قسم کے بیانات سے ملتی ہے جس میں انھوں نے پہلے ’’اپنا گھر صاف ‘‘ کانعرہ لگایا اور پھر یہ بیان داغ دیا کہ حافظ سعید قسم کی مخلوقیں بوجھ ہیں ۔ ان کا مزید حقہ پانی جہاں سے بھی آتا ہے ، اسے بند کیا جانا چاہیے۔اسی طرح انھوں نے حقانی گروپ کی ’’ حقانیت ‘‘ ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ انھوں نے اسے بالواسطہ طور پر پاک افغان ہی میں نہیں، دھرتی پر بھی بوجھ ہی قرار دیا ہے ۔ اب ان ساری باتوں کو دیکھا جائے تو اوپر کی دونوں تھیوریوں کے پلے کچھ نہیں بچتا ، اور اگر اس تھیوری کی سچائی پر یقین کیا جائے تو مسلم لیگ ن یا نواز شریف کے پلے کچھ نہیں بچتا۔
یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ احتساب ایک ڈراما ہے ، پانامہ محض اقامہ ہے ،اصل میں نواز شریف نشانہ ہے ۔ لیکن سوالات کئی ہیں :
*کیا عدالت میں پیش ہو کر کیا نواز شریف اس نشانے کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟
*ججز پر عدم اعتماد کر کے، ان کے خلاف شعلہ اگلتی زبان استعمال کر کے مطلوبہ فیصلہ حاصل کیا جا سکتا ہے؟
* خواجہ آصف کو وزیر داخلہ بنا کے ، پہلی دفعہ ریاست کی طرف سے ’’ بھیانک سچ ‘‘ کہلوا کے، حافظ سعید کے منہ پر ایسی چھکی چڑھانے کا عندیہ دے کر کہ وہ انڈیا سمیت ادھر ادھر منہ نہ مارے، اسٹیبلشمنٹ کو ’’آبیل مجھے مار ‘‘ کا نعرہ نہیں ؟
* تب کہاں گئی ڈیل اور کہاں گئی نثار اور شہباز کی دلائی گئی مزعومہ ڈھیل ؟
بھئی ہمیں جوکچھ لگتا ہے، ہو سکتا ہے آپ اسے ہماری خواہش سمجھیں اور کل کا دن اس کی تصدیق بھی کر دے لیکن برسوں پہلے مصطفٰی زیدی نے جو کچھ کہا تھا وہ ہمارے دل کی آواز کے قریب ہے اور اسی میں مستقبل کے سنہرے دور کی نوید ہے !
اے صُبح کے غمخوارو ، اِس رات سے مت ڈرنا
جس ہات میں خنجر ہے اس ہات سے مت ڈرنا
خورشید کے متوالو ذرات سے مت ڈرنا
چنگیز نژادوں کی اوقات سے مت ڈرنا
ہاں شامل ِ لب ہو گی نفرت بھی ، ملامت بھی
یارانہ کدورت بھی ، دیرینہ عداوت بھی
گزرے ہُوئے لمحوں کی مرحوم رفاقت بھی
قبروں پہ کھڑے ہو کر جذبات سے مت ڈرنا
آباد ضمیروں کو اُفتاد ِ ستم کیا ہے
آسودہ ہو جب دل پھر تکلیف ِ شکم کیا ہے
تدبیر ِ فلک کیا ہے ، تقدیر ِ اُمم کیا ہے
مَحرم ہو تو دو دن کے حالات سے مت ڈرنا
رُوداد ِ سر ِ دامن کب تک نہ عیاں ہو گی
نا کردہ گناہوں کے منہ میں تو زباں ہو گی
جس وقت جرائم کی فہرست بیاں ہو گی
اُس وقت عدالت کے اثبات سے مت ڈرنا
اے صُبح کے غمخوارو !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *