جناح کے والد نے اُنہیں غلط دوستوں سے دور رکھنے کی کوشش کی تاکہ۔۔۔

jinnah n rattiترجمہ جہاں آراء سید
قسط نمبر 6:
اپنے بیٹے کی محنت دیکھ کر جناح بھائی کی اُمیدیں ایک بار پھر جواں ہونے لگیں اور وہ خواب ایک بار پھر ان کی آنکھوں میں جگہ بنانے لگے کہ ان کی بزنس ایمپائر دوسرے شہروں بلکہ دوسررے ممالک تک پھیل رہی ہے اور ان کابیٹا اس کا نگراں ہے ۔ لیکن ان کی امیدیں اس وقت ماند پڑ گئیں جب ایک روز محمد علی جناحؒ کے ٹیچرا نہیں راستے میں ملے اور انہوں نے بیٹے کی کارکردگی کے بارے میں ان سے سوال کیا۔ ٹیچر نے انہیں اوسط درجہ دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری سمجھا کہ وہ ریاضی میں انتہائی کمزور تھے ۔ جناح بھائی کی مایوسی بجا تھی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ بیٹے کو ریاضی میں دسترس حاصل ہو ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اکاؤنٹس کسی بھی کاروبار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کی خواہش تھی کہ جب ان کا بیٹا کاروبار سنبھالے تو ان کی فرم ’’ جناح پونجا اینڈ کو ‘‘ ترقی کی نئی حدوں کو چھونے لگے ۔

جناح بھائی بہرحال اپنی امیدوں اور آرزوؤں سے دست بردار ہونے کیلئے تیار نہیں تھے کیونکہ انہیں اپنے بیٹے کی صلاحیتوں کا اندازہ تھا اور یقین تھا کہ وہ مستقبل میں ان کیلئے فخر کی وجہ بن سکتا ہے ۔تمام سیلف میڈ آدمیوں کی طرح ان کا بھی یہی خیال تھا کہ عزم اور محنت سے سب کچھ ممکن ہے ۔ انہوں نے غور کیا کہ ان کا بیٹا محنت سے جی چراتا تھااور نہ اس میں عزم ہمت کی کمی تھی ۔۔۔تو ان کو سمجھ میں یہی آیا کہ مسئلہ محمدعلی جناحؒ نہیں بلکہ ان کے دوست تھے جو مسئلے کا اصلی سبب تھے ۔ وہ جس جگہ رہتے تھے وہاں اردگرد گنجان بازار اور تاجروں کی رہائش تھی ۔ لہٰذا نہوں نے سوچاکہ بیٹے کو کسی ایسے اسکول میں داخل کرایا جائے جو گھر سے دور ہو۔ فاطمہ جناحؒ کے مطابق کھار اور کے پرائمری اسکول میں محمد علی جناح ؒ کے ہم جماعت انہیں کھیلوں کی طرف راغب کرتے رہتے تھے ۔ لہٰذا جناح بھائی کے نزدیک ’’ سندھ مدرستہ الاسلام ‘‘ بہترین اسکول تھا جہاں محمد علی جناح ؒ کو اسلامی ماحول میں بہترین انگریزی تعلیم مل سکتی تھی۔ یہاں طلبہ کو نہ صرف کلاسک انگلش لٹریچر کی تعلیم دی جاتی تھی بلکہ فارسی بھی پرھائی جاتی تھی ۔ اس کے علاوہ یہ اسکول گھر سے تقریباََ ایک میل کے فاصلے پر تھا جہاں ان کے ساتھ کھیلنے والے بچوں کا کوئی گزر نہیں تھا۔

ؒ ؒ محمد علی جناحؒ کے والد کی یہ ترکیب کارگر ثابت ہوئی اور جناح ؒ رفتہ رفتہ اپنے ان دوستوں سے دور ہوتے چلے گئے جن کا ساتھ ان کیلئے مناسب نہیں تھا۔ چند سال بعد جب جناح ؒ مزید سمجھ دار اور بالغ نظر ہوگئے تب وہ اپنی تعلیم پر از خود توجہ دینے لگے اور ہرممکن اس لاپروائی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرنے لگے جو نو عمری میں انہوں نے تعلیم کی جانب نے برتی تھی ۔ جناح بھائی نے صرف یہی کوشش نہیں کی کہ محمد علی جناحؒ غلط قسم کے لڑکوں کا ساتھ چھوڑ دیں بلکہ ان کی یہ کوشش بھی رہی کہ وہ ایسے دوست بنائیں جن کا ساتھ ان کیلئے مفید ثابت ہو۔ انہی میں ایک دوست ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لانے کا سبب بنا جس کا نام فریڈرک لی کروفٹ تھا۔ یہ ایک انگریز شخص تھا جس کی عمر تقریباََ تیس سال تھی اور وہ در حقیقت جناحؒ سے زیادہ ان کے والد کا دوست تھا۔ ایک برطانوی تجارتی کمپنی کے جنرل منیجر کے طور پر وہ کئی سال سے جناح بھائی کو جانتا تھا اور ان کے ساتھ کام کرچکا تھا۔جب انہوں نے فریڈرک کو اپنے بیٹے سے متعارف کرایا تو خلاف توقع وہ فوری طور پر ان کی جانب متوجہ ہوگیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اسے بچوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور اسے بہت کم بچے پسند آتے تھے تاہم محمد علی جناح کی سوانح عمری تحریر کرنے والے ہیکٹر بولیتھو کے مطابق ، انہیں ان کی فطری ذہانت اور متانت کے سبب چودہ پندرہ سال کی عمری میں کوئی بچہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ کشیدہ قامت اور چھریرے جسم والے ایسے پرکشش لڑکے تھے جن کا چہرہ کسی ذہین اور متعین شخص کا ساتھا۔کم عمری کے باوجود ان کی شخصیت میں کچھ ایسی کشش تھی کہ جس کے سبب فریڈرک جیسے آدم بیزار شخص کیلئے بھی انہیں نظراندا ز کر نا آسان نہیں تھا۔یوں گراہم ٹریڈنگ کمپنی کے جنرل منیجر فریڈرک لی کروفٹ نے فوری طور پر محمد علی جناح ؒ کو گویا اپنی سر پرستی میں لے لیااور فریڈرک ہی کے مشورے پر جناح بھائی نے بیٹے کو لندن بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس بارے میں محترمہ فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ ’’گراہم ٹریڈنگ کمپنی کے جنرل منیجر جو میرے والد کے بہت اچھے دوست بن گئے تھے ، انہوں نے محمد علی جناحؒ کو اپنے لندن ہیڈ آفس میں تین سالہ اپرنٹس شپ کی پیشکش کی، جہاں وہ عملی طور پر بزنس ایڈ منسٹریشن سیکھ سکتے تھے اور لندن سے واپس آنے کے بعد اپنے والدکا بزنس بخوبی سنبھال سکتے تھے ۔ ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *