ہمارے دوست تجزیہ کار

najam wali khan

’ نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل نہیں ہو گی‘ یہ ہمارے بہت سارے تجزیہ نگاروں کی ٹیگ لائن تھی جن کی ہماری ٹی وی سکرینوں پر شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک حکمرانی ہوتی ہے مگراتوار کے روز میاں نواز شریف نے اچانک ہی وطن واپسی اور نیب کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ سنایا تو بہت ساروں نے اپنا تجزیہ بدل ڈالا، ٹیگ لائن ہوگئی، ’ نواز شریف واپس آ رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہو گئی ہے‘ اور کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف واپس آئیں یا نہ آئیں، اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہو یا نہ ہو، دونوں باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ اس تجزئیے کو حقیقت پسندانہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو ایوان وزیراعظم سے نکال دینے کے باوجود سیاست سے نہیں نکالا جا سکا بلکہ اب سیاست پہلے سے کہیں زیادہ نواز شریف کے گرد گھومنے لگی ہے۔

ہمارے تجزیہ کاروں نے ’ڈیل ہو گئی‘ کا تاثر وزیراعلیٰ پنجاب شہبا زشریف کے لندن پہنچنے کے بعد میاں نواز شریف کے پاکستان آنے اور پاکستان آنے کے بعد چودھری نثار علی خان کے ان سے مل جانے سے لیا۔ یہ سمجھا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبا زشریف کسی ڈیل کی کوئی آٖفر لے کر لندن پہنچے حالانکہ وہ کہہ چکے تھے کہ وہ اپنی بیماربھابھی بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لئے وہاں جا رہے ہیں۔ دوسری طرف چودھری نثار علی خان بھی مسلم لیگ نون میں اسٹیلشمنٹ کے ساتھ بہتر تعلقات کے سفیر سمجھے جاتے ہیں۔ جب چودھری نثار علی خان کی میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات ہوئی تو قیاس آرائی کی گئی کہ بہت سارے گلے شکوے ہوئے مگر اس امر کو پہلے خواجہ سعد رفیق اور بعد میں خود چودھری نثار علی خان نے واضح کر دیا کہ کسی قسم کے گلے شکوے نہیں ہوئے، چودھری نثار علی خان اور میاں نواز شریف کے درمیان گفتگو مسلم لیگ کے تنظیمی امور کے بارے میں رہی ۔ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے حوالے سے تمام تر تجزئیے اس وقت غلط ثابت ہو گئے جب سابق وزیراعظم نے میڈیا کے سامنے اپنی حکمت عملی بیان کی۔ انہوں نے جس قسم کا بیان دیا وہ ہر قسم کے سمجھوتے کی نفی کرتا ہے۔ اسی دوران میاں نواز شریف احتساب عدالت میں حاضربھی ہوئے۔ فرد جرم عائد ہونے سے پہلے دن کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوتی،صرف حاضری لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف احتساب عدالت میں پانچ سے سات منٹ تک موجودر ہے ور رخصٹ ہو گئے۔ یہاں بھی دلچسپ امریہ رہا کہ ایک طرف وزیراعظم کے عہدے پر رہنے والا ایک اور سیاستدان جب عدالت میں پیش ہو رہا تھا تو اس شخص کے بارے میں بھی بات ہونی چاہئے تھی جو پاکستان میں اقتدار اور اختیار کا بلاشرکت غیرے مالک رہا مگر جب اس پرسنگین نوعیت کے الزامات عائد ہوئے تو وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا مگر ہمارے تجزیہ کاروں نے اپنے تجزیوں میں زیادہ اہمیت اس فرق کو اجاگر کرنے کی بجائے سابق وزیراعظم کو دی جانے والی سیکورٹی اور پروٹوکول کو دی ۔ یہ اہمیت اس وجہ سے دی گئی کہ عمران خان صاحب نے بھی اس حوالے سے ایک ٹوئیٹ کر دیا تھا۔ہمارے تجزیہ کارو ں نے اس پروٹوکول کے امریکی اور برطانوی حکمرانوں کے پروٹوکول کے ساتھ تجزئیے تو ضرور کیے مگر اس حقیقت پر زور نہیں دیا کہ پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال کیا ہے، یہاں کس طرح ایک سابق وزیراعظم سمیت ہزاروں افراد کو دہشت گردوں کے ہاتھوں کھویا جا چکا ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ اگر سیکورٹی میں کسی قسم کی کمی ہونے کی وجہ سے کوئی چھوٹا موٹا ناخوشگوار واقعہ بھی رونما ہو جاتا تو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے یہی اینکرزپروٹوکول کے سوال کو چھوڑ کے سیکیورٹی کے ایشوز پر لتے لے رہے ہوتے، یہاں ذکر عمران خان صاحب کا آ گیا، یہی اینکر اور ان کے پالیسی ساز مالکان جب میاں نواز شریف کی بات کرتے ہیں تواپنے میڈیا گروپ سے وابستہ اداروں میں نااہل وزیراعظم کا لفظ استعمال کرتے ہیں مگر جب عمران خان کا ذکر کرتے ہیں تو اسے اشتہاری سیاستدان نہیں لکھتے حالانکہ اگر عدالت کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے ہی بات کرنی ہے تو پھر دونوں کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔

میاں نواز شریف کی پریس کانفرنس پر بھی تجزئیے خوب رہے۔ ہمارے ایک سینئر دوست نے قائداعظم کے پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حاکمیت کا مقدمہ لڑنے کی بات پر میاں نواز شیریف کی خوب کلاس لی، ماضی کے کچھ مقدمات کے حوالے دئیے اور کہا کیا میاں نواز شریف ان مقدمات پر واضح کریں گے اس وقت انہوں نے فلاں پوزیشن کیوں لی تھی،کیا وہ قوم سے معافی مانگیں گے۔میرا دل چاہا کہ میں اپنے دوست سے کہوں کہ اگر آپ قیام پاکستان کے وقت موجود ہوتے تو قائداعظمؒ سے یہ سوال ضرور کرتے آپ نے دوقومی نظرئیے کی بنیادپر پاکستان تو بنا لیا مگر کیا آ پ نے اپنی قوم سے کانگریس جوائن کرنے پر معافی مانگی۔ ہمارے تجزیوں کی حالت یہی ہے کہ ان میں ہربات پر اعترا ض کیا جا سکتا ہے ۔ ہم جب اپنے اینکرز کو بتاتے ہیں کہ بی بی سی نیوز کا پروگرام ہارڈ ٹاک بیس برسوں سے مقبول ہے تو ا س سے مراد یہ لیتے ہیں کہ اینکر بہت ہی سخت زبان استعمال کرتا ہوگا بلکہ موقع ملنے پر ایک آدھ مکا بھی جڑ دیتا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اینکرز اور تجزیہ کار تو ایک طرف رہے، میں نے عام زندگی میں بات بات پر روتی ہوئی خواتین اینکروں کو بھی اپنے ٹی وی پروگراموں میں اپنے بازو اور تیوریاں چڑھائے ہوئے دیکھا ہے۔ نواز شریف کی سیکورٹی پر ایک صاحب اتنے غصے میں تھے کہ وہ ٹھڈے مارنے کی باتیں کر رہے تھے۔ ہمارے ایک اور دوست کی ایک ویڈیو موجود ہے جس میں وہ میر مرتضی بھٹو کے قتل پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے لتے لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں یعنی ایک بھائی کے قتل پر اس کی بہن کی جواب طلبی ہو رہی ہے۔ میں نے سوچا کہ جس قسم کے سوالات ایک سابق وزیراعظم ہونے کے باوجود بے نظیر بھٹو سے ہو رہے ہیں کیا ایسے ہی روئیے میں سوالات کسی سول یا ملٹری بیوروکریٹ کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ غیر جمہوری ہی نہیں بلکہ غیر صحافتی اپروچ رکھنے والوں میں وہی شامل نہیں جو سکائی لیب سے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میںآ گرے بلکہ وہ بھی ہیں جن کی عمر ہی اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے۔ ہمارے ان میں وہ دوست بھی شامل ہیں جو میڈیا گروپس کے مالکان کے بچوں کو پچکار سکتے ہیں ، کھلا سکتے ہیں بلکہ شائد موقع ملنے پر ان کے پوتڑے بھی دھو سکتے ہیں مگر سکرین پر آتے ہی ہٹلر بن جاتے ہیں۔

ہمارے یہ وہ دوست ہیں جنہیں کچھ میاں نواز شریف کے ہر اقدام سے اختلاف ہے۔ اگر وہ سیاسی سرگرمی کرتے ہیں تو اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین اور مزاحمت کی سیاست قرار دیا جاتا ہے اور اگر وہ اپنی اہلیہ کے علاج اور تیمارداری کے لئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں تو یہ ڈیل اور فرار قرار پاتا ہے۔ میاں نواز شریف کے قافلے میں شامل کسی گاڑی سے کسی حادثے میں بھی بچے کی ہلاکت ہوتی ہے تو یہ ہیڈلائنز کی خبر بنتی ہے، پروگراموں میں تجزئیے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اگر مسلم لیگ نون کا بارہویں جماعت کا طالب علم کارکن خانیوال میں پی ٹی آئی کے غنڈوں کے ہاتھوں قتل بھی ہوجاتا ہے تو اس کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ ہمارے حالات حاضرہ کے پروگراموں میں طویل عرصے سے سٹار پلس کے ڈراموں کا مزا آ رہا ہے اور ہمارے ایک دوست بسا اوقات حالات حاضرہ کے پروگرام دیکھنے کی بجائے عورتوں کے روایتی موضوعات پر ڈرامے دیکھنا بہتر سمجھتے ہیں۔ہمارے بہت سارے دوستوں کو اسٹیبلشمنٹ سے شکایات ہیں کہ اس کا رویہ درست نہیں اور بہت سارے ایسے ہیں جنہیں سیاسی رہنماوں کی ہر حرکت اور ہر بات ہی بری لگتی ہے چاہے وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر نکلنے والی آہیں ہی کیوں نہ ہوں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اب ہمیں انہی حالات میں زندگی گزارنے کا نہ صرف عادی ہوجانا چاہئے بلکہ ایک انگریزی محاورے کے مطابق اسے انجوائے کرنا چاہئے،یقین کر لیجئے کہ نہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اپنا رویہ بدلنا ہے اور نہ ہی اس کے ایجنٹ سیاستدانوں نے ،ایسے میں اینکروں اور تجزیہ نگاروں کے بدل جانے کا خواب کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *