وہ خواب جو پاناما فیصلے سے بکھر گیا

umar cheema

اسلام آباد(رپورٹ…عمرچیمہ)نوازشریف کے نااہل ہونے کے ایک ہفتے بعد مجھے یورپ سے تعلق رکھنے والے آئی سی آئی جے کے ایک رفیق کار کی ای میل موصول ہوئی ، جس میں مجھے پاناما پیپرز کی اسٹوری پر مبارک باد دی گئی تھی، جس کے بعد اس نے مجھ سے ایک درخواست کی جس نے مجھے الجھن میں مبتلا کردیا۔اس نے میرا انٹرویو کرنے کی درخواست کی ، جس پر میں ہچکچایا، کیوں کہ وہ وزیر اعظم کی نااہلی کا سہرا میرے سر باندھنا چاہتا تھا۔

پاناما پیپرز ایک بڑی اور میرے کیریئر کی ایک بہترین  اسٹوری تھی،تاہم،فیصلہ میرے خواب کی تعبیر اس وقت بنےگا جب وزیر اعظم کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نااہلی کا سامنا ہوگا ۔اس کا خیال تھا کہ دنیا کو صحافت کی طاقت کا علم ہونا چاہیئے ، جس سے میں بھی متفق تھا۔تاہم پاکستان جیسے ملک میں دیگر قوتیں بھی کام کررہی ہیں ، جس کا اسے علم نہیں تھا۔اگر وہ فیصلے کے فوری بعد مجھ سے رابطہ کرتا تو میں خوشی خوشی اسے انٹرویو کی اجازت دے دیتا۔سوشل میڈیا پر مبارک باد کا ایک سیلاب تھا ، جس میں اس سارے معاملے میں میرے کردار کو سراہا جارہا تھا۔مجھے فخر تھا کہ پاناما پیپرز ٹیم کا حصہ ہونے پر پاکستان میں اس اسٹوری کو میں نے بریک کیا۔میری سوشل میڈیا وال عوامی آراء سے بھر چکی تھی۔جس سے میں جذباتی ہوگیا تھا۔تاہم جب میں نے فیصلہ پڑھنا شروع کیا تو میرے جذبات ٹھنڈے پڑگئے۔

عدالت سے بہت زیادہ امیدیں تھیں۔جس نے وعدہ کیاتھا کہ یہ فیصلہ کئی دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا۔بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ جج جو فیصلہ سنائیں گے اس پر کوئی صاحبِ عقل شخص سوال نہیں اٹھائے گا۔دوسری جانب یہ امید بھی تھی کہ شریف خاندان کے پاس کوئی وجہ نہیں رہ جائے گی کہ وہ اپنے آپ کو مظلوم کے طور پر پیش کرسکے۔تاہم، طویل وقت کے انتظار کے بعد فیصلہ نہ صرف امیدوں کے برعکس تھا بلکہ اس میں میرٹ کی بھی کمی تھی۔اس کی بنیادقیاس آرائی کے بجائے ٹھوس شواہد پر ہونی چاہیئے تھی۔مزید یہ کہ جس بینچ نے فیصلہ سنایا تھا، وہ ایسے ججوں پر مشتمل تھاجو ذاتیات سے بالاتر سمجھے جاتے تھے۔تاہم فیصلہ پڑھ کر افسوس ہوا۔سرل المیڈا کے بقول فیصلہ بذات خود وجوہات کی تلاش میں تھا۔

اس کا مقصد وزیر اعظم کو گھر بھیجنا تھا، اس فیصلے نے انہیں موقع فراہم کیا کہ وہ عوامی عدالت میں اپنی بےگناہی بیان کریں۔پاناما پیپرز سے شروع ہونے والے مقدمے کا اختتام متحدہ عرب امارات کے اقامہ پر ہوا۔نواز شریف کو اپنی تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا، جو، ان کے مطابق انہوں نےبحیثیت چیئرمین کیپیٹل ایف زیٹ ای کبھی وصول ہی نہیں کی۔معزز جج صاحبان کا خیال تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہوں نے تنخواہ نہیں لی کیوں کہ وہ قابل وصول تھی۔قانون کے تحت شک کا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے۔لیکن یہاں اسے نظرانداز کیا گیا، جس کے سبب یہ ایک انوکھا مقدمہ بن گیا۔وزیر اعظم کو اتنے چھوٹے معاملے پر گھر کیوں بھیجا گیا، جب کہ ایک مضبوط مقدمہ پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کی بنیاد پر قائم کیا جاسکتا تھا؟شریف خاندان پہلے ہی وضاحتیں نہیں دے پارہا تھا۔

عدالت نے اتنی جلد بازی کیوں کی، جب کہ مقدمہ سننے والا بینچ  تحقیقات سے سماعت تک ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتا تھا اور کوئی ان سے کچھ پوچھنے کی جرات بھی نہیں کرسکتا تھا۔تاہم یہ عمل اس وقت ہی مشکوک ہوگیا تھا جب افسران کے انتخاب کے لیے ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سربراہان کو واٹس ایپ کالز کی گئیں۔جب کہ یہ کام مروجہ طریقہ کار کے تحت بھی کیا جاسکتا تھاکیوں کہ عدالت کو اختیار تھا کہ وہ جن تحقیقات کاروں پر بھروسہ کرتے اسے ہی تعینات کرتے۔

مالیاتی تحقیقات میں آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران کی شمولیت اور جے آئی ٹی کا قابل اعتراض طریقہ کار جو کہ ایجنسیوں کے زیر اثر تھا ، اس نے اس معاملے کو مزید مشتبہ بنادیا۔مزید یہ کہ جو افسران نیوز لیکس کی انکوائری کررہے تھے ، جس نے حکومت کو سخت نقصان پہنچایا تھا، انہیں ہی اس کام کے لیے منتخب کیا تھا۔جے آئی ٹی کا انتظامی کنٹرول آئی ایس آئی کو دینے کے فیصلے پر بھی کافی لوگوں کو اعتراضات تھے۔

حسین نواز کی تحقیقات کاروں کے سامنے پیشی کے موقع پر بنائی جانے والی تصویر کس نے لیک کی ، اس کی تفصیلات وعدوں کے باوجود نہیں بتائی گئیں۔کیا خاکی وردی والوں نے وزیر اعظم کی بے دخلی میں کوئی کردار ادا کیا تھا؟ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہم یہ رائے قائم کرسکیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس میں ملوث تھی، جیسا کہ ججوں کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں تھا کہ نواز شریف تنخواہ وصول کررہے تھے، اس کے باوجود نااہل کیے گئے۔البتہ صحافیوں کو ہراساں کیے جانے پر مقدمے کے فیئر ٹرائل پر تحفظات پیدا ہونا شروع ہوئے اور جے آئی ٹی نے جو کام کیا وہ اس جانب اشارہ ہے کہ بظاہر جو کچھ نظر آرہا ہے ، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔فرقہ واریت پھیلانے والے اور جہادی گروہوں کا این اے۔120کے انتخاب میں ابھرنا  اور پولنگ اسٹیشنوں پر مسلم لیگ(ن)کے ووٹروں کو پریشانی کا سامنا کرنا ، ان باتوں سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔طاقتور کو روکنا ایک احسن اقدام ہے،لیکن جس انداز سے یہ کیا گیا اس نے احتساب کے پورے عمل کو دھندلا کے رکھ دیا ہے۔

جے آئی ٹی کے قیام سے نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے تک  اور پھر نظر ثانی کیس کی سماعت ، مقدمات کا نیب میں بھیجا جانا، نگراں جج کی تعیناتی  اور حدیبیہ پیپرز ملز کیس کو دوبارہ کھولنا، یہ تمام کام تین رکنی بینچ نے ہی کیا۔انصاف کی اس فراہمی کو تاریخ میں کس طرح یاد کیا جائے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔تاہم اس جاری بحث کو مدنظر رکھا جائے تو ناقدین اس کا تقابل ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے کرتے ہیں۔مقدمے کے فیصلے کا سہرا عدالت کے بجائے دیگر قوتوں کے سر جاتا ہے، جو یقیناًعدلیہ کے لیے اچھی رائے نہیں ہے۔لہٰذا جب لوگ مجھے اس وقت کے وزیر اعظم کو بے دخل کرانے میں کردار ادا کرنے پر مبارک باد دیتے ہیں تو میں ان کی رائے مسترد کرکے اپنے چاہنے والوں کو افسردہ کردیتا ہوں۔جس طرح یہ ہوا اس کے سبب میں ان کی مبارک باد افسردگی کے ساتھ لوٹا دیتا ہوں۔صحافی کی حیثیت سے میں عوام کی نمائندگی کرتا ہوں۔ہمارا کام  حکمرانوں کا نہیں بلکہ عوام کا مفاد دیکھنا ہوتا ہے۔ہر اسٹوری  سے کوئی نہ کوئی مستفید یا نقصان اٹھاتا ہے۔پاناما پیپرز ایک بڑی اور میرے کیریئر کی ایک بہترین  اسٹوری تھی۔

یہ میرے خواب کی تعبیر اس وقت بنے گی جب وزیر اعظم کو میرٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نااہلی کا سامنا ہوگا۔لیکن انہیں ہٹانے کے لیےغیر ضروری جلد بازی نے اس خواب کو بکھیر کررکھ دیا ہے۔وہ اس مشتبہ عمل کے سبب ایک ولن کے بجائے ، مظلوم بن کر ابھر ے ہیں۔

بشکریہ : جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *