پاکستان کے روہنگیا مسلمانوں کی داستان

صوفیہ سیفی ،( سی این این)

A young Rohingya child stands by a dwelling in the Arakanabad slum.

کراچی : پچھلے 20 سال سے محمد رشید کراچی میں بندرگاہ کے قریب مچھلی فروش کی حیثیت ے زندگی گزار رہے ہیں۔ 41 سالہ رشید 10 سال کے تھے جب انہیں میانمار سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا ۔ پہلے وہ بنگلہ دیش پہنچے اور پھر وہاں سے کرااچی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے سی این این کو بتایا: میں روہنگیا ہوں اور میرا یہاں کوئی گھر نہیں ہے۔ رشید پورا دن کام کر کے تقریبا 400 روپے کماتے ہیں ۔ ان کے چھ بچے ہیں اور وہ موبائل فون تک رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ روہنگیا مسلمانوں کی تازہ ترین حالت سے با خبر ہیں اور اپنے دوست کے موبائل کے زریعے راخین میں موجود اپنی بہن اور بھائی کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہیں۔ لیکن پچھلے چند دنوں سے وہ اپنے خاندان کے افراد سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ ان کے بھائی اور بہن زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ان کا گاوں جلا دیا گیا ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے دو ہفتوں میں 40 ہزار کے قریب روہنگیا مسلمان بھاگ کر بنگلہ دیش میں پہنچے ہیں ۔
پاکستان میں اس وقت 55000 کے قریب روہنگیا مسلمان مہاجرین آباد ہیں جن کی زیادہ تر تعداد کراچی میں موجود ہے۔ یہ آبادی کراچی کے علاقے میں ایک کمیونٹی کی صورت میں رہ رہی ہے۔ رشید کے علاوہ بہت سے ایسے روہنگیا ہیں جو ایک عرصہ سے پاکستان میں موجود ہیں اور بہت مرتبہ شدت پسندی کا سامنا کرتے آئے ہیں ۔ ان میں سے کچھ روہنگیا مسلمان 60 کی دہائی میں پاکستان پہنچے تھے۔

Fisherman Mohammad Rasheed, 41, sits aboard a boat in southeastern Karachi.کئی نسلیں کراچی میں موجود ہونے کے باوجود اراکان آباد میں رہنے والے لوگوں کو شہریت حاصل نہیں ہے۔ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے بہت سے روہنگیا نے بتایا کہ 71ء سے قبل انہیں شناختی کارڈ جاری کیے جاتے تھے جس کے بغیر نوکری، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے استفادہ ناممکن ہے۔
گرمیوں میں اراکان آباد میں ہر طرف بچے ننگے پاوں گھومتے نظر آتے ہیں جو جوہڑوں میں کھیلتے ہیں اور گندی گلیوں میں آوارہ پھرتے ہیں۔ بہت سے بچے ساحل تک جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ سکیورٹی آفیشلز کو دکھانے کےلیے ان کے پاس کوئی شناختی کارڈ موجود نہیں ہوتا۔ یہی حالت اراکان میں بسنے والے زیادہ تر لوگوں کی ہے۔ روہنگیا سولیڈرٹی آرگنائزیشن کے ترجمان نور حسین آکرانی نے بتایا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان حکومت روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے کا اعلان کرے۔ پاکستانی روہنگیا ملک پر بوجھ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم روہنگیا عوام ظلم کا سامنا کر رہے ہیں اور ہم محنت کرنے والے لوگ ہیں ۔ ہم فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں، ہماری خواتین اور بچے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر کوئی بچہ پیدا ہو تو ہماری ماوں بہنوں کو ہسپتال میں علاج کی سہولیات حاصل کرنے میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ ہمارے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ہمارے لیے زندگی عذاب بن چکی ہے ۔ جب تک ہم شہریت حاصل نہیں کر سکتے تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہم کہاں جائیں؟

A Rohingya man reads a newspaper in Arkanabad.نادرا کے ایک اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں روہنگیا کےلیے شناختی کارڈ جاری کرنے کے معاملے میں حکومتی پالیسی پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملے میں جب وزارت داخلہ سے بات کی کوشش کی گئی تو انہوں نے جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کی پالیسی کے مطابق روہنگیا مسلمان مہاجرین قرار دینے کے اہل نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ حکومت نے غیر ریاستی افراد کے حقوق کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں اس لیے روہنگیا مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔
یو این ایچ سی آر رپورٹ کے مطابق جیو پولیٹیکل اور تاریخی حالات کو دیکھتے ہوئے غیر ریاستی عوام ہر ریاست کےلیے ایک حساس معاملہ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ پاکستان میں موجود روہنگیا کو وہی مسائل درپیش ہیں جو میانمار میں موجود مسلمانوں کو درپیش ہیں۔ بدھ مت پجاریوں کے مطابق روہنگیا بنگلہ دیشی ہیں جب کہ بنگلہ دیش انہیں برمی قرار دیتا ہے۔ اگست سے شروع ہونے والے آپریشن کے بعد تین لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔ میانمار کے سرکاری ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے 13 سکیورٹی آفیسرز کو قتل کیا۔ 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق حرکۃ الیقین نامی ایک جماعت نے عطاءاللہ نامی شخصیت کی نگرانی میں آزادی کی تحریک شروع کر رکھی ہے جس کی وجہ سے مستقل میں کسی بھی وقت روہنگیا مسلمانوں پر کریک ڈاون کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ پاکستان کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عمر شاہد حامد نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا میانمار میں تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Noor Hussain Akrani- Spokesperson of the Rohingya Solidarity Organization.رواں ہفتے جمعہ کے دن پاکستان ، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں مظاہرے کیے گئے۔ پاکستانی ایکٹوسٹ ااور حکومتی اہلکاروں نے بھی میانمار واقعہ کی مذمت کی ہے۔ پاکستانی حکومت نے جمع کے روز مسلمانوں کی راخین ریاست میں نسل کشی کی مذمت کی قرارداد منظور کی۔ لیکن ابھی تک حکوممت نے پاکستان میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی بہتری کےلیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں اور روہنگیا مسلمانوں کو غیر قانونی مہاجرین قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی روہنگیا معاملے کو افسوسناک قرار دیا۔ اراکان کے روہنگیا مسلمانوں نے البتہ میانمار کے مقابلے میں پاکستان کو بہتر قرار دیا اور کہا کہ وہ یہاں امن سے رہ رہے ہیں جو ایک اچھی بات ہے۔


Courtesy:http://edition.cnn.com/2017/09/11/asia/pakistan-stateless-rohingya/index.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *