ماہرہ اپنے کام کے علاوہ اور کسی چیز کے لئے ہماری مقروض نہیں

mahira 1 بشکریہ: ڈان
پچھلے دنوں اداکارہ ماہرہ خان کی نیویارک میں لی گئی کچھ تصویروں نے ٹویٹر کو کافی گرمائے رکھا۔ ان تصویروں میں ماہرہ خان شائد نیویارک کی گلی میں وقت گزاری کے لئے بیٹھی تھیں ، اُن کی ہاتھ میں سیگرٹ تھا وار اُن کے ساتھ ایک بالی وڈ اداکار بھی موجود تھا۔
اگر رسمی طور پر پر بات کریں تو ہماری اپنی ہمسفر ڈرامے کی خرد یعنی ماہرہ خان اپنی کردار کشی، گالیوں اور احمقانہ اور گندے کمنٹس سے خود ہی بد حواس ہو گئی ہونگی۔وہ تو ہکا بکا رہ گئی ہونگی کہ صرف نیویارک کی ایک گلی میں سیگرٹ پینے پر اُن کو اس قدر نفرت سے نوازا جا رہا ہے۔
اب ماہرہ خان نیو یارک میں سیگرٹ پی رہی تھیں تو یہ کام تو پاکستان کے لاکھوں مرد روزانہ کرتے ہیں تب تو کوئی بڑی بات نہیں ہوتی اور نا ہی یہ بات قومی مسئلہ بن جاتی ہے۔
لیکن عورتوں کے لئے جو اقدار ہم سیٹ کرتے ہیں وہ مردوں سے مختلف ہوتی ہیں اور ویسے بھی عورتوں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہماری قومی مشغلہ ہے۔پدرانہ نظام اور مردانہ جنونی حبّ الوطنی کا ایک طوفان اُٹھا جس نے ماہرہ خان کو عوام کی عدالت میں لا کھڑا کیا کہ اُنہوں نے پیچھے سے کھُلا گلا پہن کر پوری قوم کی عزت کا جنازہ نکال دیا۔
اور اس کے بعد تو مضحکہ خیز واقعات کا تانتا ہی بندھ کیا جہاں کئی سمجھدار افراد کو مجبوراََ سیگریٹ پینے کا دفاع کرنا پڑا بلکہ ناقدین کوکو سمجھانا پڑا کہ عورتوں کی عزت اور اُن کی نجی زندگی کے نازک پہلوؤں کو ایسے زیرِ بحث لانا اچھی بات نہیں۔
اب یہ توجیہہ دینا کہ ماہرہ ایک پبلک فگر ہیں اس لیے ایسا کیا جا سکتا ہے بالکل غلط ہے کیونکہ مشہور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اُن کی نجی زندگی یا اُن کوجسم عوام کی جاگیر ہے۔
اس کے علاوہ ماہرہ کی نجی زندگی پہ رپورٹنگ سے ملک کا کیا فائدہ ہو رہا ہے بلکہ ہم تو معاشرتی اعتباراور گڑھے میں گر گئے کہ ہم کسی عورت کی زندگی یا اُس کی پسند نا پسند میں اتنی دلچسپی لے رہے ہیں۔
پاکستانی اداکاروؤں سے خوبصورتی اور جمالیت کے مجسم پیکر ہونے کی اُمید کی جاتی ہے اور یہ اُمید بھی کی جاتی ہے کہ اُس سے اسلامی اقدار متاثر نا ہوں۔
یہ ابن الوقتی ہے کہ کسی اداکارہ کی شہرت کا موازنہ کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ کیا جائے ، اُن کی چھان بین کا وہی معیار نہیں ہو سکتا جو کسی عوامی منتخب نمائندے کا ہونا چاہئے۔اس سے قطع نظر کہ کسی سیاسی شخصیت کا بھی سیگرٹ پینا یا نا پینا بھی کوئی عوامی مسئلہ نہیں ہے۔
ماہرہ خان ایک اداکارہ ہیں اور اُن کا کام اُن کی زندگی کا ایک عوامی حصہ ہے اب اپنے ساتھ یا اپنے پھیپھڑوں کے ساتھ وہ جو بھی کریں یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔وہ اپنے کام کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے ہماری مقروض نہیں ہیں۔
ایک عوامی فائدہ جواس خبر کا ہوا وہ یہ کہ ہماری منافقت اور حد سے ز یادہ بڑھتے جنسی تعصب کا پردہ فاش ہو گیا۔۔ خیر یہ تو ہم اپنے بارے میں پہلے بھی جانتے تھے۔
سلیبر یٹی کلچر کا زہر باہر کے ممالک میں تو کافی زیادہ ہے اور پاکستان بھی اس کے اثر سے خود کو نہیں بچا سکا۔ لیکن پاکستان میں یہ ایک تباہ کن صورت اختیار کر لیتا ہے جب ہم خود ساختہ شرافت کے معیار کو بھی اس کے اندر شامل کر لیتے ہیں۔
ماہرہ بھی سب کی طرح پاکیزگی کے ان معیاروں سے بالکل واقف ہوگی کیونکہ اس نے زیادہ تر کردار بھی ایسے دقیا نوسی ہی کئے ہیں۔
جب اُس نے ہمارے پرائم ٹائم ڈراموں کے لئے ایسے روتے دھوتے کرداروں کا انتخاب کیا تب تو ہم نے اُس کی کسی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تو اب کیوں؟
ماہرہ نے زیادہ تر ایسے کردار کئے جن میں عورت کو ایک کم حیثیت یا بزدل کردار دکھایا گیا جو آج کی ماڈرن آزاد خیال اور ’’ آوارہ‘‘ عورت سے بالکل mahira 2مختلف ہے۔
یہ بات ماہرہ کو لعنت ملامت کرنے کے لئے نہیں کی جارہی اور ان حالات میں تو بالکل نہیں جب وہ پہلے ہی سے مشکلات کا شکار ہیں بلکہ اس طرف لوگوں کی توجہ دلاناہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو ایسے ہی کردار دئیے جاتے ہیں بلکہ مجھے اُمید ہے کہ شائد اسی بات کی وجہ سے عورتوں کو شائد کچھ اچھے کردار ہی ملنے شروع ہو جائیں۔
جہاں تک بات ہے ماہرہ کے واقعے کی تو یہ اس کڑوی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آجکل کے انٹرنیٹ کے دور میں ہمارے ہر چیز فوراََ یا زیادہ کرنے جیسے کلچر میں عورتوں کی ذاتیات بالکل ہی غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔
عورتوں کے لیے خاص طور پر مشہور عورتوں کے لئے تو پرائیویسی نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی بلکہ گھر سے نکلتے ہی اُنہیں کیمرے کی آنکھ میں رکھ لیا جاتا ہے۔ اُن کی اجازت کے بغیر اُن کی تصویریں تک لے لی جاتی ہیں۔
ایسی عورت جو مشہور بھی ہو اُس کا کسی عوامی جگہ پہ گھومنا پھرنا تک مشکل بنا دیاجاتا ہے۔ اور ہمارے ہاتھوں میں موجود موبائل فونوں نے تو ایسی عورتوں کی زندگی اور اجیرن کر دی ہے۔کسی کی ذاتی زندگی میں گھس جانا اب ہمارے لئے کوئی بڑی بات نہیں رہ گئی۔
تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کچھ مشہور لوگ خود اپنی ذاتی زندگی کو خبروں کا حصّہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ اُن کے بارے میں بات ہوتی رہے۔پاکستان میں سلیبریٹی کی نوعیت اب تبدیل ہوتی جارہی ہے اور اکثر لوگوں کی ذاتی زندگی سے ہی اُن کی پیشہ ور انہ زنگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
اس حقیقت پہ اکثر یہ کہہ کر تنقید کی جاتی ہے کہ سب کوشر ہے۔ یعنی اگر ایک مشہور عورت اپنی تصویریں انٹرنیٹ پہ ڈال رہی ہے تو اسی لئے ڈال رہی ہے کہ لوگ اُس کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کریں۔ اور عورتوں کے جسم کے لئے یہ جنون صرف میڈیا شغل تک ہی نہیں رہتا بلکہ کئی عورتوں کو اُس کی mahira 3بھاری قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔
قندیل بلوچ کا کیس ایک ایسا ہی کیس ہے جس میں کسی عورت کی ذاتی زندگی کا حق اُس سے چھین لیا گیا بلکہ اُس کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک کو عوامی مسئلہ بنا دیا گیا جبکہ اُس کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اُ س نے اپنی چند ویڈیوز آن لائن ڈالی تھیں۔
مشہور خواتین کبھی بھی عام زندگی کو محسوس نہیں کر سکیں گی کیونکہ ہمارے ملک میں جب تک ہم کسی شخص کو مکمل ویسا نہیں کر دیتے جیسا ہم اُسے دیکھنا چاہ رہے ہیں ہم اُس کی جان نہیں چھوڑتے۔ اور یہ معیار کی لاحاصل جستجو ہے جو شائد کبھی ختم نہیں ہو گی۔
جیسے کسی گھریلو عورت کی عزت اُس کے دوپٹے میں ہوتی ہے کہ وہ گھر کے بڑوں کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہیں جاتی اسی طرح قوم کی عزت شائد اُس سفید لباس میں تھی جس کو پہن کر ماہرہ ایک غیر ملکی اداکار سے ملیں۔۔مسئلہ تو ہمارے جسم کا ہی ہے نا۔
ہمارے معاشرے کا نظام ہی پدرانہ ہے جہاں اگر کسی عورت کا دوپٹے سرک جائے تو بھی وہ عورت غلط ہے اگر گردن سے اُس کی braکا سٹریپ نظر آجائے تو بھی یہ بڑا مسئلہ اور اگر کوئی عورت دنیا کے دوسرے حصّے میں کسی لباس میں سیگرٹ جلا لے تو بھی یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *