جانا ہے تو تہران کو جائیے

azadai tower 2 Steve Hanisch اور اُن کے دوست David نے اپنی ایران کی سیرکے دوران کچھ ہفتے تہران شہر کی سیر کا فیصلہ کیا ۔انہوں نے اپنے سفر کا آغاز ’’ آزادی مونیومنٹ‘‘ سے کیا جو تہران کی مشہور عمارتوں میں سے ایک ہے۔
تہران ایرا ن کا دارالحکومت ہے اور اس کی آبادی15ملین ہے۔ایران کے آخری شاہ نے اس یادگار کا مختار نامہ فارسی سلطنت کی2500ویں برسی کی نشانی کے طور پر سال1966میں جاری کیا تھا جو پانچ سال کے بعد متوقع تھی۔https://youtu.be/-JW_VUqQkpg
سال1971میں اس عمارت کو 138ahyad Aryamehr کا نام دیا گیا لیکن 1979میں انقلاب کے بعد اس کا نام برجِ آزادی کر دیا گیا۔اس ٹاور کی بے عیب اور متناسب تکمیل اس کو ایک شاہکار بناتی ہے۔
ایک اور جگہ جہاں آپ کا جانا ضروری ہے وہ ہے گلستان پیلس جس کا مطلب ہے پھولوں کا محل۔ اس gulistan 2نام کی وجہ اس محل کے اندر بہت سارے باغات کا ہوناہے۔
جمعہ کو جانے کے لئے ایک اچھی جگہ30تیر سٹریٹ بھی ہے جہاں آپ کو اور کھانے کی جگہوں کے ساتھ وین کیفے بھی نظر آتے ہیں۔اکثر لوگ ماڈرن ایران خاص کر کہ تہران کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ یہاں آپ کو کافی شاپز بھی جا بجا نظر آتی ہیں۔شوقین مزاج لوگوں کے لئے یہ گھومنے کی اچھی جگہ tir streetہے۔
Steve اور ڈیوڈ نے وہاں کے لوکل کھانے بھی کھائے جس کے لئے اُن کو Sofre Khune کافی پسند آیا ۔ وہاں اُنہوں نے کھانے کے لئے کباب اور دیزی منگوائے۔ دیزی کا مطلب ہے گاڑھی یخنی۔
کیونکہ ایران سلک روڈ پر واقع ہے اس لئے تجارت یہاں کا مین کاروبار ہے۔اس لئے تہران کے بڑے بازار تو جانا ضروری تھا۔یہ ایک سچی11کلومیٹر کی بھول بھلیاں ہے جس میں آپ کو سامنا کئی حیرت انگیز چیزوں سے ہوتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *