افضل احسن لوہا سی پر ۔۔۔

khalid mehmood rasool

چند سال قبل امریکہ کے شہر نیو یارک کا واقعہ ہے۔ مین ہیٹن کے نزدیک ایک گلی میں سے گذرتے ہوئے ہم نے پنجابی کے ٹھیٹھ الفاظ سنے۔ لہجہ اس قدر مقامی کہ جیسے جالندھر یا امرتسر کے بازار میں ہوں۔ ہم نے پلٹ کر دیکھا تو دیسی کھانوں کا ایک چھوٹا سا ریستوران تھا ۔ ایک عمر رسیدہ سردار اپنے کسی ساتھی سے اونچی آواز میں ہمکلام تھا۔ امریکہ کے شہر نیویارک میں پنجابی کا اس قدر ٹھیٹھ لہجہ سن کر ہمارے پاؤں رک گئے۔ سردار نے ایک اجنبی کو اپنے پاس اچانک رکتے دیکھا تو مسکراتے ہوئے سوال کیا، کِداں ؟ ( یعنی خیریت تو ہے ؟ ) میں نے جواب دیا، سردار صاحب دو ہفتے سے کاروباری سفر میں ہوں۔ ڈیڑھ ہفتہ گوئٹے مالا اور ڈومینیکن ری پبلک گذار کر آیا ہوں اور پرسوں سے یہاں ہوں۔ اس دوران اتفاق سے ایک لفظ اردو یا پنجابی کا نہیں سنا، آپ کی گفتگو سنی تو قدم خود بخود رک گئے۔ سردار سن کر خوش ہوا ، اپنی ماں بولی دا تاں جی مزہ ای کجھ ہور ہوندا اے۔ آپاں کیہڑی تھاں تو آئے آں؟ ( اپنی ماں بولی کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ آپ کہاں سے آئے ہیں ؟ ) لاہور، میں نے جواب دیا۔ یہ سنتے ہی ان کی باچھیں کھل گئی۔ اپنے اسی ساتھی کو آواز دی، اصرار کرکے روکا اور چائے پلا کر ہی جانے دیا۔
دنیا بھر کے سفروں میں اپنی زبان کی کشش اور اپنائیت کے کئی رنگ دیکھے۔ بھارت میں چند مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا تو مشرقی پنجاب میں پنجابی زبان کا تعلیم، سرکاری اور دیگر شعبوں سمیت میوزک، فلم، شاعری اور ادب میں بھی خوب راج دیکھا۔ انگریزی تعلیم اور انگریزی زبان میں مہارت کے باوجود اگر سامنے ملاقاتی پنجابی ہے تو گفتگو پنجابی زبان میں ہی ہوتے دیکھی اور سنی۔ پنجابی زبان کے ساتھ کوئی احساس کمتری یا خفت کا مظاہرہ چھوٹے بڑوں میں نہ دیکھا۔ یہ رویہ ہمارے ہاں سے بالکل الٹ تھا جہاں اچھے خاصے معقول لوگ ذرا فارمل موقع ہو تو پنجابی میں گفتگو کو کسر شان سمجھتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی تربیت بچوں کی بھی ہو رہی ہے ۔ بلکہ ان کی تعلیم اور تربیت نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر قومی زبان اردو کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بھلے چنگے معقول نوجوان فخر سے بتاتے ہیں ، آئی ایم سوری دراصل میری اردو ذرا کمزور ہے۔ اگر قومی زبان کے ساتھ یہ حسنِ سلوک ہے تو پنجابی کے بارے میں اعتماد اور فخر کہاں سے اور کیوں کر آئے گا۔ بلکہ ایک ڈیڑھ سال قبل ایک بڑے انگلش میڈیم اسکول نے اپنے ایک سرکلر کے ذریعے بچوں کو سمجھایا کہ انہیں آپس کی گفتگو میں گالم گلوچ اور بری زبان سے گریز کرنا چاہئے ، اور مثال اس زبان کی انہوں نے پنجابی میں ہمکلام ہونے کی دی۔ شور شرابا ہوا، تنقید ہوئی لیکن اسکول نے اپنے سرکلر کی وضاحت تو کی واپس نہ لیا۔
پاکستان میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہ ہوسکا۔ نجی حلقوں میں بھی انگریزی علم اور دانش کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ ہم نے اسی ہفتے اکاوئنٹنگ کے ایک بہت بڑے ادارے کے ایک سیمینار میں شرکت کی۔ ایک بھی غیر ملکی شریک نہ ہونے کے باوجود ایک بھی لفظ اردو میں ادا کرنے سے گریز کیا گیا۔ انگلش کے تلفظ اور لہجے کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ اپنی جگہ مگر مقررین نے اپنی انگلش دانی کی دھاک بٹھا کر چھوڑی۔ اس ایک سیمینار کا کیا رونا، ہم نے تو کم و بیش زیادہ تر اہم مواقع اور اعلیٰ سطح پر انگلش سے قربت اور اپنی قومی زبان سے دوری ہی کی کوشش دیکھی۔ سپریم کورٹ کے واضح فیصلے سے کچھ اثر ضرور پڑا لیکن عمومی طور پر اردو گریز رجحان سیمیناروں، کانفرنسوں اور اعلی اجلاسوں میں غالب ہی دیکھا۔
اردو کے خزانے میں ہر گذرتے سال اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہمارا گمان پنجابی کے بارے میں یہ نہ تھا۔ ہمار خیال یہی تھا کہ پنجابی میں زیادہ تر کلاسیکی شعر و شاعری اور ادب کی چند کاوشیں ہی حاصلِ زبان ہیں، کوئی معرکتہ الآرا علمی اور تحقیقی کام خال خال ہی ہو گا۔ ہماری یہ خام خیالی چند سال قبل اس وقت پاش پاش ہوئی جب اتفاق سے ہمارے ہاتھ ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کی بابا فرید شکرگنج کی شاعری پر لکھی ایک کتاب لگی۔ پنجابی پڑھنے کی عادت نہ تھی ا س لئے چند صفحات مشکل سے پڑھے لیکن پھر نئی نئی حرف شناسی نے یہ مشکل آسان کر دی۔ وہ کتاب پڑھ کر اپنی مادری زبان پر بہت پیار آیا اور مادری زبان کے حوالے سے ایک نیا اعتماد محسوس ہوا۔
چند ماہ قبل ہمیں علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے انگریزی خطبات Reconstruction of relgious thoughts in Islam پڑھنے کا موقع ملا۔ پڑھنے کے دوران خیال آیا کہ اگر اس کا ترجمہ مل جائے تو بہتر ہو گا۔ ہم نے دو تراجم حاصل کئے۔ پڑھنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ ترجمے کی زبان اصل انگریزی زبان سے کہیں مشکل تھی۔ اس پر مستزاد فلسفیانہ تراکیب کے لئے ترجمے میں ایسی دور از کار تراکیب استعمال کی گئیں کہ دوبارہ انگریزی کی طرف رجوع کرنے میں ہی عافیت جانی۔ اس دوران البتہ ایک خوشگوار تجربہ ہوا۔ لائبریری سے اردو ترجمے کی تلاش میں ان خطبات کا پنجابی ترجمہ ہاتھ لگ گیا۔ معروف پنجابی اسکالر، استاد، شاعر اور ادیب شریف کنجاہی نے یہ ترجمہ کیا۔ پڑھنا شروع کیا تو عالم ہی دوسرا پایا۔ انتہائی دقیق علمی اور فلسفیانہ خطبات کا ترجمہ اس قدر آسان اور رواں تھا کہ گتھیاں کھلتی گئیں۔ تراکیب کا ترجمہ بھی عام فہم اور آسان پایا۔ پنجابی زبان کے علمی مرتبے کے ادراک اور پہچان میں جو کسر تھی، وہ بھی دور ہو گئی۔ شریف کنجاہی نے قران مجید کا بھی پنجابی ترجمہ کیا جس کی ہم نے تعریف بہت سنی لیکن اب تک پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔
پنجابی زبان کی اس بے قدری کی وجہ سے اس زبان کے بیشتر لکھاریوں اور ان کی تخلیقات کی بھی وہ پذیرائی نہ ہو سکی جس کے وہ اور ان کی تخلیقات مستحق تھیں۔ گذشتہ ہفتے پنجابی کے معروف ناول نگا ر ، افسانہ نگار اور شاعر افضل احسن رندھاوا فوت ہوئے۔ اسی سالہ افضل احسن رندھاوا نے معرکتہ لآرا ناول لکھے، افسانہ نگاری کی اور باکمال شاعری کہی۔ ان کی وفات پر ہم نے اکژ احباب سے ان کی وفات کا ذکر کیا تو بیشتر کا جواب لاعلمی میں تھا۔ اس لاعلمی اور بے قدری پر افسوس ہوا۔ ان کے کلام کی تلاش میں نیٹ پر تلاش شروع کی تو گولڈن ٹیمپل پر اندرا گاندھی کے زمانے میں فوجی کاروائی پر ان کی کہی طویل اور پر اثر نظم کے دیکھنے اور سننے والوں کی تعداد لاکھوں میں پائی۔
افضل احسن رندھاوا 1937 میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔پاکستان بننے کے بعد نارووال میں آن بسے، بعد میں فیصل آباد منتقل ہو گئے۔ بھٹو دور میں ممبر قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے ۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ آخری دنوں میں اکلوتے بیٹے کی موت اور بعد میں بیوی کی مفارقت نے انہیں توڑ پھوڑ دیا۔
ان کا پہلا ناول ٌ دیوا تے تار ا ٌ تھا جو کسی بھی پاکستانی ناول نگار کا بھارت میں شائع ہونے والا پہلا ناول تھا۔ اس ناول پر انہیں آدم جی ایوارڈ دیا گیا جسے انہوں نے پاکستان رائٹرز گلڈ کے پنجابی لکھاریوں کے ساتھ نامناسب سلوک کی وجہ سے احتجاجاٌ لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعدٌ رن تلوار تے گھوڑا ٌ کے نام سے افسانوں کی کتاب چھپی ۔ ان کا دوسرا ناولٌ دوآبہ ٌ بیس سال کے وقفے کے بعد لکھا گیا۔ ان کے دو مزید ناول ٌ سورج گرہنٌ اور ٌ پندھ ٌ کے نام سے بھی شائع ہوئے۔ پنجابی زبان کی نا قدری پر ان کا ایک حقیقت پسندانہ تبصرہ قابل غور ہے، کوئی ایسی زبان کیوں سیکھنا چاہے گا جس سے اسکی روزی روٹی کمانے میں مدد نہ مل سکے۔ ان کی ایک مشہور نظم چھیکڑلی چیخ ( آخری چیخ ) پنجابی زبان کی ناقدری کا نوحہ ہے جس میں اس خواہش کا شدید اظہار ہے کہ کوئی کہیں سے اٹھے اور اس زبان کو اس کا مقام دلائے۔ ان کے شعری مجموعے شیشہ اک لشکارے دو، رات دے چار سفر، پنجاب دی وار، مٹی دی مہک ، پیالی وچ آسمان اور چھیواں دریا کے نام سے شائع ہوئے۔
پنجابی کے اس عظیم ادیب اور شاعر کو یاد کرتے ہوئے ان کی شاعری سے چند نمائندہ اشعار حاضر ہیں:
میں دریاں دا ہانی ساں
ترنے پئے گئے کھال نی مائے
افضل احسن لوہا سی پر
کھا گیا درد زنگال نی مائے
وچھڑ کے روندا سی مل کے آکڑدا
افضل احسن اوہدا کجھ وساہ نہیں
یا میتھوں ایہہ سننا بولنا ویکھنا سوچنا لے لے
یا مینوں وی اپنی ڈونگھی چپ دے رنگ وچ رنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *