جناح کی والدہ اکثر کہا کرتی تھیں میرا محمد علی بہت بڑا آدمی بنے گا!

jinnah n rattiترجمہ جہاں آراء سید
قسط نمبر7:
جناح بھائی سنجیدگی کے ساتھ اس پیشکش پر غور کرنے لگے ۔ ان کے اند ر چھپا کاروباری شخص انہیں قائل کررہا تھا کہ جناحؒ کی یہ اپرنٹس شپ ان کی کمپنی کی ترقی میں بہت اہم ثابت ہوگی ، تاہم وہ بیٹے کو لندن بھیجنے سے پہلے اس معاملے پر مزید غور کر رہے تھے کیونکہ اس کام پر ان کا خاصا آتا اور وہ پیسا ضائع کرنے کے قائل نہیں تھے ۔ اس موقع پر فریڈرک ، محمد علی جناح ؒ کیلئے ایک اچھا دوست ثابت ہوا، اس نے جناح بھائی کو یقین دلایا کہ لندن سے لوٹنے کے بعد ان کا بیٹا ان کیلئے گویا ایک اثاثہ ثابت ہو گا ۔ اس کے بعد اس نے تمام اخراجات کا تخمینہ لگانے میں بھی مدد کی جو کم از کم تھے اور جنہیں اٹھانے پر جناح بھائی اس لئے رضا مند ہوگئے کیونکہ وہ خاصے مناسب تھے ۔ جناح بھائی ایک محتاط انسان تھے اور اپنی اہلیہ کی مانند انہیں بیٹے کے مستقبل پر اندھا اعتماد نہیں تھا جو اکثر کہا کرتی تھیں کہ ’’ میرا محمد علی بہت بڑا آدمی بنے گا !‘‘ابتداء میں جب اسکول میں جناحؒ کے اچھے مارکس نہ لانے پر ان کے والد مایوس ہوجاتے تووہ شوہر کو تسلی دیتیں کہ ’’ تم دیکھنا میرا محمدعلی بہت اچھا کام کرے گا اور تب بہت لوگ اس سے حسد کریں گے !‘‘

یہ محمد علی جناحؒ کی والدہ مٹھی بائی کی محبت اور ان کا اعتما دتھاکہ وہ اپنے بیٹے کی خوش بختی پر یقین رکھتی تھیں ۔۔۔ لیکن ان کی یہی محبت اس وقت بیٹے کی راہ میں حائل ہوگئی جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ ان سے تین سال کیلئے جدا ہونے جارہا ہے ۔ وہ بیٹے کو اتنی دور جانے کی اجازت دینے کیلئے آماد ہ نہیں تھیں تاہم اس موقع پر جناح بھائی نے سمجھایا کہ یہ ان کے بیٹے کا مستقبل سنوارنے کیلئے ضروری تھا اور پھر تین سال تو پلک جھپکتے گزر جائیں گے ۔ انہیں راضی کرنے میں کئی روز لگ گئے اور بالآخر جب وہ رضامند ہوئیں تو اس شرط پر کہ ولایت جانے سے پہلے وہ محمد علی جناح ؒ کی شادی کریں گی ۔ ان کاخیال تھا کہ انگلینڈ ایک غیر شادی شدہ نوجوان کیلئے انتہائی خطرناک ملک تھا بالخصوص ایسے نوجوان کیلئے جو محمد علی جناحؒ جیسا ہینڈ سم ہو۔ ا نہیں ڈر تھا کہ اگر انہوں نے وہاں کسی انگریز لڑکی سے شادی کرلی تو کیا ہوگا ۔۔۔اس قسم کی بحث اس وقت عام تھی لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں تھی تاہم حیران کن یہ بات تھی کہ جناحؒ نہ چاہتے ہوئے بھی ماں کی خوشی کے آگے اپنا سر تسلیم خم کردیا تھا۔
فاطمہ جناح ؒ اس بارے میں لکھتی ہیں کہ ’’ ان دنوں والدین ہی اپنے بچوں کی شادیاں طے کیا کرتے تھے اور لڑکے ، لڑکی کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ والدین کے فیصلے پر انحصار کریں ۔ ‘‘تاہم جناح کوئی عام لڑکے نہیں تھے ، وہ چھ سال کی عمر سے ہی اپنے فیصلے خود کرنے لگے تھے ، جبکہ اس وقت تو ان کی عمر پندرہ سال ہوچکی تھی لہٰذا وہ خود کو بچہ سمجھتے تھے اور نہ ہی ان کے والدین ایسا سمجھتے تھے ۔ انہیں اپنے بل بوتے پر فیصلے لینے اور پھر ان پر عمل کر نے کا شوق تھا۔ ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح ؒ کو اس با ت کا بخوبی اندازہ اور تجربہ تھا کیونکہ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ اٹھائیس سال گزارے تھے۔ ان کے مطابق ’’ یہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی زندگی کا واحد اہم فیصلی تھاجسے انہوں نے وہ سروں کو کرنے کی اجازت دی ۔فاطمہ جناح کے نزدیک اس کی ایک ہی توجیہ تھی کہ محمد علی جناح ؒ اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی کوئی بات ٹھکرانہیں سکتے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ اپنے والد کے تدبر کے بھی بہت قائل تھے ، انہیں یقین تھا کہ ان کے والد کبھی کوئی غلطی نہیں کرتے ۔‘‘
دونوں میں سے یہ جناحؒ کی والدہ تھیں جو ان پر گہرا اثر رکھتی تھیں اور انہیں اپنی مرضی کا کوئی فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کرسکتی تھیں ، یہاں تک کہ اپنی مرضی کی دلہن بھی لاسکتی تھیں ۔ انہوں نے بیٹے کیلئے جو دلہن منتخب کی وہ ایک نوعمر لڑکی تھی جو ان کے دور کے رشتے داروں میں سے تھی اور گاؤں میں رہتی تھی ۔ اس چودہ سالہ لڑکی کو خود انہوں نے دیکھاتھا اور نہ جناحؒ نے ، تاہم انہوں نے بیٹے کو یقین دلایا تھا کہ ایک ماں کی دعا سے ایسی شادیاں کامیاب اور خوشگوار ثابت ہوتی ہیں ۔
بہرحال جناح نے ان کی خواہش کے آگے خاموشی کے ساتھ سر جھکا دیا ۔لیکن دلہن کے انتخاب کے علاوہ شادی کے مراحل اور رسومات بھی محمد علی جناحؒ کیلئے تکلیف دہ تھیں ۔ شادی کی تمام رسومات ان کے آبائی گاؤں پانیلی میں ہوئیں جو ایک ماہ تک جاری رہیں ۔ وہاں ان کے والد اپنے رشتہ داروں اور برادری کے افراد پر یہ ظاہر کررہے تھے اور اپنا محنت کے ساتھ جمع کیا ہوا پیسا گاؤں کے ان افراد کو خوش کرنے کیلئے لٹا رہے تھے جنہیں محمد علی جناح ؒ نے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔ (جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *