موت کی وادی میں پتھر خود بخود کیسے ہلتے ہیں ، ویڈیو دیکھئے !

download

سیکرامنٹو ۔ امریکہ میں موجود موت کی وادی کے بارے میں تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا، اگر نہیں تو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک خوبصورت مگر پراسرار وادی جسے موت کی وادی یعنی ڈیتھ ویلی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس وادی میں موجود پتھر خود بخود اپنی جگہ تبدیل کرلیتے ہیں لیکن ایک صدر گزرنے کے بعد بالآخر اس حرکت کے پیچھے چھپی وجہ سائنسدان ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے ۔

تفصیلات کے مطابق پتھروں کی نقل وحرکت سمیت سب کچھ ریس ٹریک پلایا نامی ایک خشک جھیل کی سطح پر ہوتا تھا اور یہ اپنے سفر کرتے ہوئے پتھروں کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچی۔ا گرچہ دنیا میں اور بھی بہت ایسے مقامات ہیں جہاں اس طرح کے اثرات پائے جاتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام پر تمام پتھر حرکت نہیں کرتے اور جو کرتے بھی ہیں تو وہ دو سے تین سال کی مدت میں کرتے ہیں۔ حرکت کرنے والے پتھر نہ ایک ہی وقت میں حرکت کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی سمت ایک جیسی ہوتی ہے۔یہ نیشنل پارک انتہائی گرم اور بالکل بنجر مقام ہے تاہم اس کے باوجود ہر سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس مقام کا رُخ کرتی ہے،سیاحت کو مدنظررکھتے ہوئے موت کی وادی کے اس نیشنل پارک میں لوگوں کی سہولت کیلئے پانچ ہوٹل موجود ہیں لیکن لوگوں کی بڑی اکثریت اس مقام پر کیمپ لگا کر رہنے کو ترجیح دیتی ہے،یہاں 35 سے زائد اقسام کے جانور موجود ہیں، جن میں سانپ اور بھیڑیں بھی شامل ہیں۔یہ مقام سطح سمندر سے 36 میٹر گہرائی میں واقع ہے اور امریکہ میں کوئی دوسری قدرتی وادی نہیں ہے جو اتنی گہرائی میں واقع ہو۔

ڈیتھ ویلی کی زمین پر ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ 50 ہزار افر اد کیمپ لگا کر ٹھہر سکتے ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مقام پر کبھی بھی قابل ذکر بارش نہیں ہوئی، یہاں تک کہ 1929ءکے دوران بالکل بھی نہیں ہوئی۔ موسم گرما کے دوران جب گرمی انتہا کی ہوتی ہے تو یہاں کا درجہ حرارت 56 ڈگری سنٹی گریڈ ہوجاتاہے، یہ عرصہ جون سے لے کر ستمبر تک ہوتا ہے۔ خشکی کے باوجود اس مقام پر پودوں کی 900 سے زائد اقسام پر پائی جاتی ہیں، جو کہ صحراﺅں میں موجود نباتات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کیلئے ایک بہترین سہولت ہے۔ اس مقام کو قومی یادگار کا درجہ 11فروری 1933 کو اس وقت کے صدر ہربٹ ہوور نے دیا تھا ۔ 34 ملین ایکڑ پر پھیلی اس وادی کو دیکھنے کیلئے یہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ سب سے زیادہ سیاح سال 2001ءمیں آئے تھے جن کی تعداد 1.1 ملین سے بھی زیادہ تھی۔ اس نیشنل پارک کی سرحدیں کیلیفونیا اور نیواڈا سے ملتی ہیں۔

دنیا بھر کے سیاحوں کے ڈیتھ ویلی میں امڈ آنے اور لوگوں کے تجسس کو مدنظر رکھتے ہوئے دو سائنسدانوں نے ان پتھروں کی از خود اپنی جگہ سے حرکت کرنے کے پیچھے چھپی وجہ کا کھوج لگانے کا فیصلہ کیا اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے جس کا ویڈیو ثبوت بھی پیش کردیا۔کیلی فورنیا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کے سن ڈیگو نے تیرتے ہوئے پتھربھی دکھادیئے۔ کاﺅزنز رچرڈ نورس اور جیمز نورس تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ کبھی کبھار رات کو ہونیوالی بارش کی وجہ سے خشک ندی کی سطح پر برف کی چادر سی تن جاتی ہے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو یہ پگھل جاتی ہے اور سخت سطح گردآلود اور سلک کی طرح ہوجاتی ہے ،جس کے بعد پانی یا ہوا کے دباﺅ کی وجہ سے یہ پتھر اپنی جگہ سے سرک جاتے ہیںاور ایسا ہی کچھ 20دسمبر 2013ءکو بھی ہوا۔ انہوں نے سائنسی جریدے پلوس ون میں لکھا کہ ” جما دینے والی سردرات کے بعد بالکل صاف اور سورج کی روشنی کیساتھ ہی انہوں نے چٹانوں کی نقل وحرکت دیکھی جس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پتھر بھی حرکت کرتے ہیں تاہم اس کی پراسرار وجہ بھی سامنے آگئی اور پتھر ایک منٹ میں پندرہ فٹ تک جگہ سے ہٹ گئے تاہم اس علاقے کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہونے اور خشک وادی کی وجہ سے ایسا اکثر نہیں ہوتا۔ویڈیو دیکھئے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *