چوہدری! کب تک؟

tariq ahmed
مجھے اپنے گاؤں کی دو باتیں یاد ھیں۔ ایک گاؤں کا چوہدری اور اس کے کتے اور دوسری ھمارے گاؤں کی دو پگڈنڈیاں ۔ پہلی پگڈنڈی خاصی خوشنما تھی۔ اور یہ سیدھی چوہدری کی حویلی کی جانب جاتی۔ حویلی کا نام شیش محل تھا۔ دوسری پگڈنڈی شمشان گھاٹ کی جانب نکلتی اور یہ خاصی خوفناک تھی۔ گاؤں کا چوہدری اس گاؤں کا مالک تھا۔ وہ اپنی مرضی سے جسے چاہتا اس حویلی کا چوبدار مقرر کر دیتا۔ اور جسے چاہتا شمشان گھاٹ کی جانب روانہ کر دیتا۔  اس چوبدار کا کام یہ ھوتا وہ چوہدری کی منشاء و منظوری سے حویلی اور گاوں کے معاملات چلائے ۔ چوہدری کے لیے گاوں کے مزارعوں اور ہاریوں سے کام لے۔ ان سے مشقت کرواے اور پیسہ اکٹھا کرے۔ اور چوہدری آرام کی زندگی بسر کرتا رھے۔ گاوں کے چوہدری نے اپنے ارد گرد کے گاووں سے دشمنیاں پال رکھی تھیں۔ اور وہ گاوں کے نوجوان بچوں کو گاوں کی حرمت اور غیرت کے نام پر ان دشمنوں سے لڑواتا رھتا تھا۔ اور ان بچوں  کے مرنے پر بڑی دھوم دھام سے ان کی قربانیوں کا تذکرہ کیا جاتا۔ اسی طرح اس چوہدری نے کچھ کن ٹٹے اور ہتھ چھٹ پال رکھے تھے۔ جو گاوں کے لوگوں کو سیدھا رکھنے کے کام آتے۔ اور ضرورت پڑنے پر چوہدری کے کسی مخالف کی "مج گاں "کھول کر لے جاتے۔ سر عام اس کی ٹھکائی کر دیتے۔ معاملہ پنچایت میں جاتا ۔ اور پنچائتی فیصلہ بھی اس کے خلاف کر دیتے۔
Image result for punjab pakistan pagri old
ساری پنچایت چوہدری کی اپنی پروردہ تھی۔ لامحالہ وہ مظلوم واپس چوہدری کے پاس آتا اور معافی تلافی کرکے اپنی جان اور اپنی مج گاں چھڑواتا ۔ یہ چوہدری بہت سیانا تھا۔ یہ اپنے گاوں میں کوئی سڑک ، کوئی اسکول کوئی ڈسپنسری بننے نہ دیتا۔ وہ جان بوجھ کر لوگوں کو ان پڑھ رکھتا۔ تاکہ ان میں شعور نہ آ جائے اور وہ اس کی چودہراہٹ کو چیلنج نہ کرنا شروع کر دیں۔ ان کو صحت اور ہاوسنگ سے محروم رکھتا۔ اور گاوں میں کوئی انڈسٹری نہ لگنے دیتا تاکہ مجبور و بے بس مزارعے ھمیشہ چوہدری کی جانب دیکھتے رھیں۔ اس چوہدری کی زندگی اسی میں تھی کہ گاوں میں کسی قسم کی ترقی نہ ھو۔ اور عام لوگوں کے پاس پیسہ نہ آ جائے ۔ اس کے اقتدار اور اختیار کے لیے ضروری تھا۔ لوگ بھوک ننگ کا شکار رھیں اور غیر ضروری لڑائیوں میں الجھے رھیں ۔
جب تک حویلی کا مقرر کردہ چوبدار یہ سارے کام خوش اسلوبی سے کرتا رھتا۔ اس کی چوبداری قائم رھتی ۔ جونہی چوبدار کے چوہدری سے اختلافات شروع ھوتے۔ وہ اپنے پالتو کتوں کو اشارہ کر دیتا جو آتے جاتے اس زیر عتاب  چوبدار پر بھونکنا شروع کر دیتے ۔ چوبدار ان کتوں کی پرواہ نہ کرتا۔ اس کا خیال ھوتا۔ جو بھونکتے ھیں وہ کاٹتے نہیں لیکن ان کتوں کے مسلسل بھونکنے سے حویلی کا امن و سکون برباد ھو جاتا۔ چوہدری کے چمچے کڑچھے چوبدار کو مشورہ دیتےکہچوہدری سے مت بگاڑو لیکن چوبدار سے یہ ذلت مزید برداشت نہ ھوتی ۔ وہ اپنے اختیارات مانگتا۔ اختیارات تو اسے نہ ملتے۔ البتہ چوہدری کے پالتو کتے اور چوہدری کی پروردہ پنچایت مل کر یا تو چوبدار کو شمشان گھاٹ چھوڑ آتی ۔ یا گاؤں سے نکال دیتی۔ اور ایک نئے ہمخیال چوبدار کی تلاش شروع ھو جاتی۔ سنا ھے۔ میرے گاؤں میں چوہدری اور چوبدار اور کتوں اور پنچایت کا یہ کھیل دس ہزارسال سے جاری ھے۔
مجھے اپنے گاوں کی برسات کی بھیگی شامیں ، اور سرمئی صبحیں، سردیوں کی ٹھٹھری ہوئی دوپہریں اور نکھری ہوئی تاروں بھری پر فسوں راتیں بھی یاد آتی ھیں۔ ان  اسرار بھری راتوں میں جھلمل ستاروں کے گاتے قافلے بھی سنائی دیتے ھیں۔ کچی اور ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں آج بھی دل کے اندر راستہ بناتی گزر جاتی ھیں۔ گیلی مٹی کی خوشبو محسوسات کو معطر کیے رکھتی ھے۔ آٹے کی مشین کی ہوک اور کوئل کی کوک آج بھی کانوں میں رس گھولتی ھے۔ بوڑھے برگد کی چھاوں میں چوپال کی محفلیں واپس بلاتی ھیں۔ اور چھم چھم گرتی بارش میں نہاتے اور دور بھاگتے چلے جانا آج بھی دل کو لبھاتا ھے۔ اور یخ بستہ راتوں میں کسی کسان کی دور سے آتی ہیر اور ماہیے کی لوچ بھری صدا آج بھی دل کو گرماتی ھے۔ لیکن کیا کیجیے کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں غم محبت کے سوا۔ راحتیں اور بھی ھیں وصل کی راحت کے سوا۔ میرے گاؤں کا چوہدری اپنی چوہدراہٹ چھوڑنے کو تیار نہیں ۔ صدیاں بیت گئیں ۔ زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ لیکن ھمارا گاؤں آج بھی گئے وقتوں کی آسیب زدہ بند گلیوں میں جکڑا پڑا سسک رھا ھے۔ ان گلیوں میں چوہدری کے پالتو کتے آج بھی بھونکتے ھیں ۔ چوہدری کی پروردہ پنچایت آج بھی مرضی کے فیصلے کرتی ھے۔ تاکہ چوہدری کا اقتدار و اختیار قائم رھے۔ لیکن کب تک ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *