گونگی چیخیں

imad zafar

 جدید تہذیب پر مبنی اکیسویں صدی ہے. انسانی شعور آگہی کی بلندیوں کو چھوتا ہوا ادراک کی منازل بتدریج طے کرتا چلا جا رہا ہے. ٹیکنالوجی سائنس اور دیگر علوم نے علم و عرفان کے خزانے کے تالے کو کھول دیا ہے. اب چاند پر پریوں جیسی کہانیاں دم توڑ چکیں،  اب بچے مریخ پر انسانوں کے بسنے کی کہانیاں سنتے ہیں.بہت سے فرسودہ خیالات نظریات اور روایات دم توڑ چکے اور جو ابھی باقی ہیں چند ہی دہائیوں  میں وہ بھی دم توڑ جایں گے. انسان اب ایک ایسی دنیا میں بستا ہے جہاں سب کچھ ٹیکنالوجی اور سائنس کے مرہون منت ہے.  اب کسی کے ہاں سوگ  ہو یا خوشی گھر بیٹھے بیٹھے انٹرنیٹ پر فیس بک یا ٹویٹر سے خوشی یا غم کا پیغام شیئر کیجیے اور دامن جھاڑ لیجئے . کسی بھی سوال یا مسئلے کا حل جاننا ہے تو گوگل حاضر ہے. دل کی پیوند کاری سے جگر کی ہیوند کاری تک سب کچھ سائنسکے دم پر ممکن ہے. ہم غالبا" وہ آخری جنریشن (نسل)ہیں جس نے ٹیکنالوجی کا ارتقا اور ایک پرانی تہزیب کو دفن ہوتے ایک ساتھ دیکھا. ہم لوگوں نے جذبات کو مشینی سانچوں میں ڈھل کر برف ہوتے دیکھا .احساس کو ٹییکنالوجی کی ہایپر ٹیکسٹ لیگنوئج کی گہرائی میں ڈوبتے دیکھا . خیالات اور افکار  کی وسعتوں  کو کارپوریٹ کلچر کے "منافع"  میں دفن ہوتے دیکھا اور امن و محبت کو بارود کے ڈھیر تلے دفن ہوتے تک دیکھا.  یہ دنیا کی ریت بھی ہے اور قانون فطرت بھی ہے کہ ہر تہذیب چند صدیوں بعد دفن ہو جاتی ہے اور دنیا ایک نئے رنگ اور ڈھنگ سے  پھر سے رواں دواں ہو جاتی ہے.  اب یوں ہے کہ ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اس دور میں خود انسانوں کا زندگی گزارنا مشکل سے مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے. سروایول آف دی فٹسٹ کے اس دور میں انسان کو مشینوں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور اس مقابلے میں پتہ ہی نہیں چلتا کب انسان احساسات جذبات کو چھوڑ کر صرف ایک مشین بن جاتا ہے.ایک ایسی مشین جسے مارکیٹنگ کے پراپیگینڈے کے تابع کر کے یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اس کے اوڑھنے بچھوڑنے سے لیکر اس کا لباس کھانا پینا کیا ہو گا - انسان اس پراپیگینڈے کے زیر اثر آرزؤوں اور نا ختم ہونے والی خواہشات کے سراب کے تعاقب میں بھاگے ہی چلا جاتا ہے اور اپنے جیسے نہ جانے کتنے ہی انسانوں کو روند کر ایک "سٹیٹس" حاصل کرنا چاہتا ہے.

Related image

اس نئی تہذیب نے انسان کو منافع اور سٹیٹس کے پیچھے بھاگتا ہوا ایک مشینی روبوٹ بنا دیا ہے جو آزادی اور شخصی انفرادیت کی گردان الاپے دراصل ان گنت ان دیکھی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے.  اور اس بات پر خوش ہے کہ مرنے والوں میں ہم نہیں یا گڑھے میں گرنے والے ہم نہیں.  اس جدید دنیا اور نئی تہذیب نے ٹیکنالوجی اور سائنس کا لبادہ تو اوڑھ لیا لیکن صدیوں پرانی انسانی سرشت کو تبدیل نہ کرپائی. انسان آج بھی ایک دوسرے کے خون کا اسی طرح پیاسا ہے جیسا کے صدیوں پہلے تھا .اور انسانوں کے رویوں اور مزاج کو ترتیب دیتے مخصوص گروہ آج بھی دنیا پر ایسے ہی قابض ہیں جیسے کے صدیوں پہلے تھے. انسان کے رویوں اور مزاج کو ساینٹیفیکلی اب جس طرح کنٹرول کیا جاتا ہے پہلے کبھی نہیں کیا جاتا تھا. پوری دنیا سے ریسرچ اور ڈیٹا  اکٹھا کر کے  انسانی لاشعور کو باآسانی تابع بناتے ہوئے اسے غلام رکھا جاتا ہے. ایسے میں  انفرادیت یا شخصی آزادی ایک پرکشش یونیک سیلینگ پوائنٹ تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت نہیں. ہمارے مجموعی رویے انسانی شعور کی ترقی اور نالج ریوولیشن کے بعد بہتر پونے چائیے تھے لیکن اس کے برعکس ہمارے رویے سردمہری کا شکار ہوتے چلے گئے.  انٹرنیٹ نے جہاں معلومات تک رسائی دی وہیں اس نے ایک "پیرالیل یونیورس " بھی بنا ڈالی. اس وقت ورچویل ریئلٹی حقیقی دنیا سے زیادہ آباد ہے.  اس ورچویل ریلیٹی نے کمپیوٹر  اور موبائل سکرینوں  کے اندر جھانکتی ایک گردن جھکائی ہوئی نسل تیار کر دی ہے جسے "نیک ڈاؤن جنریشن" بھی کہا جاتا ہے. یہ نسل موبائل سکرینوں اور لیپ ٹاپ میں گردن جھکائے اردگرد کی حقیقتوں کو فراموش کیئے انٹرنیٹ کی دنیا یعنی ورچویل ورلڈ میں بستی ہے. اس ورچویل ورلڈ کو کنٹرول کرنا  بے حد آسان ہے. کابل کی ایک جلتی ہوئی بستی سے لے کرعراق و لیبیا کی گلیاں یا  نیو یارک ٹائم سکوائر ہو تقریبا ہر دوسرا آدمی ہاتھوں میں موبائل یا لیپ ٹاپ تھامے گردن جھکائے اپنی اپنی فیس بک یا ٹویٹر کی ٹائم لائن پر اپنے احساسات ٹائپ کرتا نظر آتا ہے.

Image result for neck down generation

یہاں کے ہر باشندے کو گمان ہے کہ وہ ورچویل ورلڈ میں آ کر آزاد ہے. حالانکہ اس ورچول ورلڈ کو جس قدر کنٹرول کیا جاتا ہے عام دنیا کو اس قدر کنٹرول کرنا ناممکن ہے. دوسری جانب اس جدید تہذیب کا المیہ یہ ہے کہ انسان اب اپنی محسوس کرنے کی حس کھوتا چلا جا رہا پے. اب قتل عام برما میں ہو یا فلسطین میں یا پھر نیو یارک یا شکاگو میں چند تصاویر اپ لوڈ کر کے اور انٹرنیٹ پر چند سٹیٹس اپ لوڈ کر کے اگلی لاشوں کا انتظار کیا جاتا ہے تا کہ  بحث اور بات کرنے کا ایک اور موقع ہاتھ آ سکے. جنگوں کے میدان سے اٹھتا ہوا دھواں اور تباہی و بربادی کے ہولناک مناظر کا اس ورچول ورلڈ میں سب سے زیادہ دیکھا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں  اب قتل و خون کو ایک  خاموش قبولیت کی سند ملتی جا رہی ہے. اسی طرح رشتوں ناطوں کی اہمیت بھی خاموشی سے ختم ہوتی جا رہی ہے. اب جدید تہذیب "ایموشنز" یعنی جذبات کو ایک بوجھ اور فرسودہ چیز سمجھتے ہوئے بے حسی کو اعزاز سمجھتے ہوئے اسے "پریکٹیکل" لائف کا نام دیتی ہے. اس تہذیب میں رشتہ ایک ہی بچا ہے جو کہ خریدار اور بیچنے والے کا ہے. بیچنے کیلئے برینڈڈ اشیا سے لیکر تعلیم، جنس سے لیکر سیکس ٹوائیز ،جنگوں سے لیکر اسلحہ اور خوابوں سے لیکر خواہشات سب کچھ ہے بس گاہک بولی لگائے.  گاہک بنا سوچے سمجھے جدید تہذیب کی اس منڈی میں بیوپاریوں سے اشیا خریدتا ہی جاتا ہے اور پھر ایک دن خود کسی اعداد و شمار کا حصہ بن جاتا ہے. کمپیوٹر اور موبائل کی سکرینوں میں گردن جھکائے "نیک ڈاؤن" جنریشن اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں کے درد سے نا آشنا پراپیگنڈا کی طاقت سے نابلد گردن جھکائے اور کانوں پر ہیڈفون لگائے انسانی جذبات اور احساس کی دم توڑتی چیخوں سے ناآشنا اس نئی تہذیب کے برزخ کے وارثوں کے ہاتھوں یرغمال بنتی ہی چلی جا رہی  ہے. یہ اربوں انسان شاید خود بھی چیختے ہیں لیکن ٹیکنالوجی اور سائنس پر مبنی یہ جدید تہذیب ان چیخوں کو کسی بھی  مصنوعی ورچویل سمبل کے بٹن تلے ہی دفن کر دیتی ہے. یوں یہ گونگی چیخیں ان سنی رہ جاتی ہیں.

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *