انتخابی سیاست اور انقلابی سیاست

aizaz ahmed kiani

سیاست کے لغوی معنی تو اگرچہ سلطنت ، حکومت اور ملکی انتظام وغیرہ کے ہیں لیکن سیاست فی الاصل وسیع معنی کی حامل اصطلاح ہے اور اگر سیاست کو ایک جملے میں بیان کرنا چاہئیں تو سیاست کے معنی مجموعی طور پر ریاستی نظام کو چلانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے ہیں۔
سیاست کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد کسی جماعت کے پاس عملاًدو ہی راستے ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ عملی سیاست کی دو اقسام ہیں یعنی انتخابی سیاست اور انقلابی سیاست۔انتخابی سیاست اور انقلابی سیاست دونوں کی جدو جہد ملک و ریاست کے لیے ہوتی ہے لیکن دونوں اقسام میں واضح افراق پائے جاتے ہیں۔
انتخابی اور انقلابی سیاست میں واضح ترین فرق جو عموماًبیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ انتخابی سیاست میں دراصل کسی جماعت کو ملک کے مجموعی نظام کی بنیادوں پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا بلکہ وہ اس بنیاد اور نظام کی قائل ہوتی ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ساتھ یا نا اہل لوگوں کے اقتدار کی وجہ سے اس نظام میں کچھ خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں چنانچہ ایک سیاسی جماعت ان خرابیوں کی اصلاح کا منشور اور خود کو موجودہ قیادت کا متبادل بناکر انتخابی میدان میں اترتی ہے۔
اس کے بر عکس انقلابی سیاست میں کوئی جماعت رائج نظام یا نظریاتی اساس ہی کو باطل قرار دیتی ہے اور اس موجودہ نظام کے مقابل ایک نیا نظام متعارف کراتی ہے اور اسکا منشاء محض جزوی اصلاحات اور چہروں کے تبدیلی سے پورانہیں ہوتا بلکہ اسکی جدو جہد ایک نئے نظام کے قیام کے لیے ہوتی ہے۔
ایک سیاسی جماعت کو اپنے قیام کے لیے جہاں کچھ مادی ذرائع اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے ٹھیک وہیں پر ایک سیاسی جماعت کو اپنے قیام کے لیے کچھ نظری بنیادوں کی بھی ضرورت ہوتی۔ یہ نظری بنیاد جماعت کو منشور یا نظریے کی صورت میں میسر آتی ہے۔ منشور اور نظریہ میں بھی ان دونوں اقسام میں بنیادی فرق موجود ہے۔منشور کو عام فہم زبان میں ایک اصلاحی پروگرام کہا جا سکتا ہے جو کے ریاست کو درپیش مسائل کے حل کا ایک مجموعہ ہوتا ہے اور صاحب منشور اس بات کا دعوے دار ہوتا ہے کہ اگر ہمیں اقتدار نصیب ہوا تو ہم فلاں فلاں اصلاحات کریں گے اور امور ریاست یوں یوں انجام دیں گے،جبکہ نظریہ دراصل ایک نئی بنیاد ہوتا ہے جس پر کہ ریاست کا مجموعی نظام تشکیل پانا ہوتا ہے، نظریہ ایک جامع پروگرام ہوتا ہے جو ایک نیا نظام پیش کرتا اور قریب قریب تمام شعبہ ہائے ریاست کا احاطہ کرتا ہے۔
نظریاتی اساس کے بعد جماعت کے لیے سب سے اہم کام تنظیم سازی اور کارکنوں کی تربیت ہوتا ہے۔۔انقلابی جماعتوں کے کارکنوں کی تربیت کا انتخابی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی تربیت سے مختلف ہونا انقلابی سیاست کا فطری تقاضا ہے۔
انقلابی سیاست میں چونکہ موجودہ نظام کو چیلنچ کیا جاتا ہے لہذا لازمی ہے کہ جماعت کے کارکنوں کو ایک طرف موجودہ نظام کے باطل ہونے کا یقین ہو اور دوسری طرف انہیں اپنے مجوزہ نظام سے بھی پوری پوری آگاہی ہو اور اپنے نظریے کی صداقت پر کامل یقین ہو۔انقلابی سیاست چونکہ مروجہ سیاسی طریقے کو ترک کر کہ ایک نیا طریقہ اپناتی ہے لہذا اسے تمام دوسری جماعتوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
عوام کی اکثریت انتخابی سیاست سے ہی آشنا ہوتی ہے اور اکثریت کے لیے یہ طریقہ بالکل نیا طریقہ ہوتا ہے لہذاعوام کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے بھی انقلابی جماعت کے کارکنوں کو دوسری جماعتوں کے کارکنوں کے نسبت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
انتخابی سیاست کی نسبت انقلابی سیاست میں جماعت کے کارکنوں سے ایک بڑی قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور عوام اس بڑی قربانی کے لیے تب ہی تیار ہو سکتے ہوں جب انکی تربیت بھی اسی طرح کی کی گئی ہو۔
جماعت کا نظریاتی اساس پر قیام، قیام کے بعد کارکنوں کی تربیت،تربیت کے بعد کارکنوں کی قابل ذکر تعداد، کارکنوں کی قابل ذکر تعداد سے عوامی جدو جہد کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔اگرچہ کارکنوں کی تربیت بھی ایک طرح سے جدو جہد کا ہی ایک مرحلہ ہے لیکن ایک نئی جماعت کو شروع میں کچھ ایسے کارکن ضرور ضرور ضرورت ہوتے ہیں جو تربیت مکمل کر کیباقاعدہ جماعت کا حصہ بن چکے ہوں اور اب وہ جماعت کے پیغام کو ملک کے دوسرے علاقوں میں بسنے والے افراد تک پہنچائیں۔ جدو جہد سے یہ بھی مراد نہیں ہے کہ کارکنوں کی تربیت کا مرحلہ اس دوران رک جاتا ہے بلکہ اس عوامی جدو جہد کے ساتھ ساتھ کارکنوں کی تربیت کا مرحلہ پس منظر میں اسی شدت سے جاری رہتا ہے ۔
انتخابی اور انقلابی جماعتوں کی جدو جہد میں بھی فرق ہے۔ انتخابی سیاسی جماعت کی جدو جہد عوام کو اپنے منشور سے آگاہ کرنا، موجوہ حکومت کی کمزوریوں سے آگاہ کرنا اور عوام کو انتخابات میں ووٹ دینے کے لیے قائل کرنا ہوتی ہے۔ انقلابی سیاسی جماعتوں کی جدو جہد کا بنیادی مقصد شہر شہر، نگر نگر، گلی گلی، گھر گھر اور فرد فرد تک اپنا پیغام پہنچانا ہوتا اور عوام کو اپنی جماعت میں شامل کر کے ایک بڑے مقصد کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔انقلابی سیاسی جماعت کی جدو جہد دراصل وقت کی قید سے آزاد ایک تحریک ہوتی ہے۔
جدو جہد کے بعد ہر انتخابی سیاسی جماعت کے زندگی میں فیصلہ کن دن آتا ہے جب اس جماعت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے اور اگر باالفرض جماعت کامیاب نہیں ہوتی یا مروجہ نظام میں اکثریت نہیں حاصل کر پاتی تو اس سے جماعت کو اگرچہ نقصان تو ہوتا ہے لیکن بہرحال دائمی نقصان نہیں ہوتا،اس لیے کہ ایسی جماعت اگلے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہوجاتی ہے اور یہ موقع ایک انتخابی جماعت کو زندگی میں اتنی بار ملتا رہتا ہے جب تک وہ کامیاب نہ ہو جائے۔ انقلابی جماعت ایک طویل مدت تک یعنی دہائیوں تک تربیت اور جدو جہد کے مرحلے تک ہی محدود رہتی ہے اور پھر کہیں جا کر وہ اتنی طاقت حاصل کر پاتی ہے کہ وہ موجودہ نظام کی تبدیلی کے لیے میدان میں نکل آئے لیکن اگر باالفرض وہ اپنی اس کوشش میں نا کام ہو جاتی ہے تو جماعت کے پاس کسی جدو جہد کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا بلکہ جماعت ہی گویا فوت ہو جاتی اور پھر اسکی باقیات میں سے ایک نئی جماعت کا وجود پانا دہائیوں اور صدیوں پر مشتمل عمل ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے کونسا طرز سیاست مناسب ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ پاکستان میں رائج نظام کا تجزیہ کیا جائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر اورجمہوری جدو جہد کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان تجویز کیا گیا تھا۔ میرے نزدیک پاکستان میں ایک ایسی اصولی، انقلابی اور اصلاحی جماعت نا گزیر ہے جو اگرچہ جمہوری جماعت ہو لیکن خالص انقلابی طرز پر جدو جہد کرے،یعنی جس کا قیام ایک نظریے پر ہو، جو کارکنوں کی انقلابی خطوط پر تربیت کریں، کارکنوں کو مستقبل کی قیادت کے طور پر تیار کرے، جسکا تربیتی پرگرام اصلاح عام کی تحریک ہو ،جسکی قیادت بے لوث خدمتگار ہو، جسکی جدو جہد ذاتی مفادات اور عہدے اور اقتدار کی حرص سے پاک تحریکی شکل کی ہو اور جو اقتدار کے حصول کے بعد ریاست میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر نظام قائم کرے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *