حکومت نے عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی لگادی!

برقع

آسٹریا میں عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق سر کے سامنے کے بالوں کی لکیر سے لے کر ٹھوڑی تک چہرہ نظر آنا چاہیے اور یہ آسٹرین اقدار کو محفوظ رکھنے سے متعلق ہے۔

یہ اقدام آئندہ ماہ منعقد ہونے والے عام انتخابات سے قبل کیا گیا ہے جس میں دائیں بازو کی جماعت فریڈم پارٹی کو فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ مسلمان تنظیموں نے اس قانون کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آسٹریا میں بہت کم تعداد میں مسلمان پورے چہرے کا نقاب کرتے ہیں۔

اس قانون کے مطابق مسلمانوں کے پردے جیسا کہ برقع اور نقاب پر پابندی ہے لیکن یہ چہرے پر لگائے جانے والے میڈیکل ماسک اور کلاؤن میک اپ پر بھی پابندی عائد کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آسٹریا میں تقریباً 150 خواتین برقع استعمال کرتی ہیں لیکن سیاحتی حکام کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے خلیجی ممالک سے آنے والے سیاحوں میں کمی ہوسکتی ہے۔

فرانس اور بیلجیئم نے سنہ 2011 میں برقع پر پابندی متعارف کروائی تھی جبکہ ڈچ پارلیمان میں بھی اس قسم کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں پورے چہرے کے نقاب پر پابندی ہونی چاہیے 'جہاں کہیں بھی یہ قانونی طور پر ممکن ہے۔' برطانیہ میں نقاب یا برقعے پر پابندی نہیں ہے۔

نقاب چہرے کا ایک ایسا پردہ ہے جس میں چہرے پر صرف آنکھوں کے گرد حصہ نظر آتا ہے۔ یہ عموما سر کے سکارف کے ساتھ پہنا جاتا ہے۔ برقع عموما پورے جسم کا پردہ ہوتا ہے۔ یہ تمام چہرہ اور جسم ڈھانپتا ہے اور اسے پہننے والی صرف ایک جالی کے ٹکڑے سے دیکھ سکتی ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *