این اے120اور دائیں بازو کا ووٹ بینک: ایک تجزیہ

این اے120کے حلقے میں کرائے جانےnadeem 2 والے الیکشن کے نتائج نے میڈیا میں ایک نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔اس حلقہ کی سیٹ اُس وقت خالی ہوئی تھی جب سپریم کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔اُنہوں نے 2013کے الیکشن میں اس حلقے سے91,666 ووٹ لے کر جیت حاصل کی تھی ۔ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین اُن کی قریب ترین حریف تھیں جنہوں نے 52,321ووٹ حاصل کیے تھے۔
ان ضمنی انتخاب کے نتائج کے اعلان کے بعد سے ہی سب سے زیادہ زیرِ بحث آئے پی ایم ایل (ن) کے کم ہونیوالے10فیصدووٹ یا پھروہ 3.47فیصدووٹ جو پی ٹی آئی نے زیادہ حاصل کیے۔اس دفعہ پی ایم ایل (ن) کی اُمیدوار کلثوم نواز نے یاسمین راشد کو 14,646 ووٹوں سے ہرایاجبکہ اس الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ رہا40فیصد جو2013کے الیکشن میں 50فیصدسے بھی زیادہ تھا۔
اس مباحثے کا دائرہ کار اور وسیع ہو گیا جب میڈیا نے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی کہ آخر ن لیگ کے10فیصدووٹ کہاں غائب ہو گئے ہیں؟اب جب پی ٹی آئی خالی3.47فیصدووٹ ہی زیادہ حاصل کر پائی اور پی پی پی کے حصّے تو صرف0.58فیصدووٹ ہی آئے، جبکہ اس سال الیکشن میں حصّہ لینے والی دو مذہبی پارٹیوں، ملی مسلم لیگ جس کا تعلق ممنوعہ جماعت الدعوۃ سے ہے اور دوسری بریلوی مذہبی جماعت لبیّک ، کے اُمیدوار11فیصدووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ڈان کی 19ستمبر کی ایک رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے10فیصدووٹ تحریک لبیّک یا رسول اللہ کے اُمیدوار نے حاصل کر لئے جو ان انتخابات میں 7,130 ووٹ لے کر تیسری پوزیشن پر تھا۔رپورٹ کے مطابق یہ اس حلقے کہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف دورِ حکومت میں ممتاز قادری،جوایک بنیاد پرست قاتل تھا جس نے پی پی پی کے سلمان تاثیر، جو سابق گورنر پنجاب تھے، پر توہین ِ رسالت کا الزام لگا کر اُن کو قتل کر دیا تھا ،کو پھانسی دینے کے فیصلے کی وجہ سے ن لیگ سے ناراض ہو گئے تھے۔
جو جارحانہ پالیسی پی ٹی آئی نے ن لیگ کے خلاف اپنائی ہوئی تھی اس کے بعد پی ٹی آئی کو اُمید تھی کہ اس حلقے میں اُس کو نمایاں کامیابی حاصل ہو گی۔ اسی بارے میں ایک ٹاک شو میں بات کرتے ہوے پی ٹی آئی کے نمائندے کا کہنا تھا کہ جوپانچ سے چھ فیصد ووٹ پی ٹی آئی کو ملنا تھا وہ ایم ایم ایل اور لبیّک کے اُمیدواروں میں بٹ گیا اور پی ٹی آئی کے حصّے تین فیصد ووٹ ہی آئے۔
مذہبی جماعتوں کو11فیصد ووٹ ملنا اس لئے بھی ایک گرما گرم موضوع بن گیا کیونکہ ان تنظیموں کے ظہور نے سیاست کے مرکزی دھارے میں ایک بجلی سی دوڑا دی۔ریوٹرز کی15ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ایم ایم ایل جیسی پارٹیاں اصل میں پاکستانی حکومت کی خود ساختہ کوشش تھی تاکہ لڑاکا مذہبی جماعتوں کو مرکزی دھارے میں لاتے ہوے بے تاثیر کیا جا سکے۔کچھ لوگوں نے اس کو شش کا خیر مقدم کیا جبکہ کچھ کو لگا کہ یہ اسمبلیوں میں بنیاد پرست عناصر کو جگہ دینے جیسا ہے۔
این اے120کے نتائج آنے کے بعد ڈان کے سابق ایڈیٹرعباس ناصر کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کو11فیصد ووٹ ملنا کو ئی بڑی بات نہیں کیونکہ اکثر انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو کم و بیش اتنے ہی ووٹ ملتے ہیں۔اگر ہم اس پر مزید تحقیقات کریں تو بڑے دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔
مثال کے طور پر1970میں ہونیواے پہلے عام انتخابات ہی لے لیں جس میں مذہبی جماعتیں18فیصد وو ٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جس میں مشرقی پاکستان کے ووٹ بھی شامل تھے۔1971کے الیکشن کے بعد بائیں بازو کی جماعتیں یعنی پی پی پی اور اب کالعدم ہو جانے والی نیشنل عومی پارٹی کے ارکان سے بھری پڑی تھی جبکہ تاریخ کے پروفیسر علی عثمان قاسمی نے اپنی کتاب The Ahmadis and Politics of Religious Exclusion in Pakistanمیں لکھا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے15ارکان بھی پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔
پاکستان کے غیر جمہوری دور میں مذہبی جماعتوں کو حاصل ہونیوالے18فیصد ووٹ سال1988میں دائیں ہاتھ کی آمریت کے جانے اور جمہوریت کی واپسی کے ساتھ ہی اور کم ہو گئے۔یہ آمریت مذہبی جماعتوں کے لئے تو کافی سود مند ثابت ہوئی جس کا فائدہ اُٹھا کر آئین میں کئی جھگڑالو عبارات بھی شامل کرائی nadeem 1گئیں۔
تبھی1988کے الیکشن میں مذہبی جماعتوں کے حصّے چار سے پانچ فیصد ووٹ آئے، وہ بھی خالی اُن مذہبی پارٹیوں کو ووٹ ملے جن کا تعلق اسلامی جمہوری اتحاد سے تھا۔آئی جے آئی کے حصّے میں آنیوالے ووٹوں میں سے 30.2فیصد ووٹ بھی اس کے غیر مذہبی جزو پی ایم ایل کو چلے گئے۔سال 1993میں ہونیوالے انتخابات میں تمام مذہبی جماعتوں کو کُل ملا کر6.7فیصد ووٹ ملے جو سال1999میں کم ہو کر 2.3فیصد ہی رہ گئے۔
سال2002میں ہونیوالے انتخابات کیونکہ اعتدال پسند آمریت کے ماتحت ہوے تھے، اس لئے مذہبی جماعتوں نے اپنے زوال کو عروج دینے کی کوشش کی اور تمام مذہبی جماعتوں نے مل کر ایک ساتھ یہ انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اب یہ ایک بڑا عجیب اتحاد تھا جس میں مختلف فرقوں اور مسلکوں کے لوگ ایک ساتھ اکٹھے ہو گئے تھے۔لیکن سب مل کر بھی مجموعی طور پر11.3فیصد وو ٹ حاصل کر پائے۔سال2008میں ہونیوالی الیکشن میں یہ اتحاد بھی ختم ہو گیا جبکہ مذہبی جماعتوں کے حصّے صرف2.21فیصد ووٹ آئے۔ہاں سال2013کے الیکشن میں یہ کچھ اضافے کے ساتھ7فیصد تک پہنچ گئے۔
بات یہ ہے کہ این اے120کے انتخاب میں مذہبی جماعتوں کا 11فیصد ووٹ لے جانا ایک بڑی بات ہے مگر ابھی ہم ایک حلقے کی بات کر رہے ہیں اور ایسے342حلقے ہیں۔غیر مذہبی جماعتیں جنرل الیکشن میں زیادہ تیز اور مضبوط ہیں جبکہ مذہبی جماعتیں یہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
ہاں مگر9/11کے بعد سے بنیاد پرست تنظیموں نے ہمارے ملک میں سیاسی قیادت کی ممانعت کے باوجود قدم جمائے ہوے ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ مذہبی جماعتیں کوئی سیاسی فائدہ بھی حاصل کر لیں۔بدلتے حالات کی وجہ سے پی ایم ایل(ن) بھی اب زیادہ مرکز کی طرف جا رہی ہے۔یہ پی ایم ایل( ن )کے قدامت پسند ووٹر کو شائد اچھا نا لگے لیکن ابھی بھی پی ایم ایل (ن) پی پی پی کا وہ ووٹر، جو2013کے بعد پی ٹی آئی سے جا ملا تھا ، واپس اپنی طرف لانے میں کامیاب رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *