گھر کی صفائی 

asghar

خواجہ آصف چار سال تک سابق وزیر اعظم میاں نو از شریف کے ساتھ وفاقی کا بینہ میں پانی وبجلی کے وزیر تھے۔احسن اقبال بھی وفاقی کا بینہ میں ترقی و منصوبہ بند ی کے کر تا دھرتا تھے۔میاں نواز شریف کے جانے کے بعد دونوں نے بہکی بہکی با تیں شروع کر دی ہے۔خواجہ آصف کو جب شاہد خاقان عباسی کی کا بینہ میں پانی و بجلی سے نکال کر ان کو خارجہ امور کے حوالے کیا گیا تو انھوں نے ایک نیا نظریہ پیش کر دیا کہ گھر کی صفائی ضروری ہے ورنہ دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔احسن اقبال نے بھی ان کی تا ئید کی ہے اس لئے کہ ان کو بھی تر قی و منصوبہ بندی سے عارضی طور پر بے دخل کر دیا گیا تھا۔اب ان کے حوالے وہ وزارت کر دی گئی تھی کہ جس کی ذمہ داری گھر کی صفائی ہی ہے۔مگر افسوس کہ احسن اقبال کی خواجہ آصف کے ساتھ یہ دوستی بھی صرف بیان کی حد تک رہی اس لئے کہ بعد میں ان کو دوبارہ ملک کی تر قی اور منصوبہ بندی پر لگا دیا گیا ہے،اس لئے اب تر قی اور منصوبہ بندی کے لئے گھر کی صفائی کی کو ئی ضرورت نہیں رہی۔بجا فرما یا ہے دونوں وفاقی وزراء نے کہ گھر کی صفائی کی ضرورت ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ گھر کی صفائی کہاں سے شروع کی جائے؟ہم خواجہ آصف اور احسن اقبال کے اس مشکل کو آسان کر تے ہیں۔لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟لیکن اس کا جواب مو جود ہے یہ گھنٹی یہی دونوں ملک و قوم کے غم خوار ہی باندھیں گے،اس لئے کہ صفائی کا مطا لبہ ان دونوں کا ہی ہے۔لہذا ہم ان کو صرف یہ بتا تے ہیں کہ صفائی کی ضرورت کہاں ہیں۔ باقی عمل درآمد ان کی قومی ذمہ داری ہے۔تو آئیے گھر کی صفائی کا آغاز کر تے ہیں۔ہر اس شخص کو کوئی بھی حکومتی عہدہ نہیں دیں گے جس کے بیٹے کسی اور ملک کی شہریت رکھتے ہوںیاکسی اور ملک میں کاروبار کر تے ہوں۔جب خود بیمار ہو جائے تو علاج کے لئے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں،جب ان کی بیوی بیمار ہو جاتی ہے تو ان کو بھی علاج کے لئے ملک سے باہر لے جاتے ہیں۔ان کے اپنے بچے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھتے ،جب کہ اپنے نواسوں اور نواسیوں کو بھی کسی اور ملک میں پڑھانے پر فخر محسوس کر تے ہیں۔ہاں جو کسی کے بچے کو گھر داماد بنا کر ان کو تنخوا دے کر اپنے محلات میں قید کر تا ہے اس کوبھی حکومتی ایوانوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ہر اس شخصیت کا اعلی حکومتی عہدے پر پابندی ہو گی جس نے فوجی آمر کا ساتھ دیا ہو یا کسی فوجی آمر نے ان کو اپنی زندگی بھی دینے کی دعائیں دی ہو۔ اس شخص کا بھی ساتھ نہیں دیا جائے گاجس کے بچوں کے نام پر دیار غیر میں آف شور کمپنیاں ہوں۔جو خود عربوں کا غلام ہو۔اقا مہ رکھتاہوں اس لئے کہ غلامی کے اس معاہدے کو ہر دوسال بعد تجدید کی ضرورت ہوتی ہے لہذا ایک صفائی پسند یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے غلام کی غلامی کریں۔جس پر ملک کی عدالتوں میں کر پشن کے الزامات ہو۔جس پر ملک کے بینکوں سے قرضے لینے اور ان کو معاف کرنے کے مقدمات ہوں ایسے لوگوں سے اپنے گھر کو صاف کر یں گے۔ہاں اس شخص کا بھی ساتھ نہیں دیا جائے گاجو قومی خزانے کو لٹانے کے لئے سکیمیں شروع کر کے چند مہینے بعد اس کو بند کرنے کا شوقین ہو۔جس نے قرض اتارنے کے نام پر قوم سے پیشہ اکٹھا کیا ہو لیکن ملک کو قرضوں سے نجات دلا نے کی بجائے ملک اور قوم دنوں کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبا یا ہو۔گھر سے اس شخص کی صفائی بھی ضروری ہے کہ جو خود پارٹی کا مرکزی صدر ہو۔اس کا چھوٹا بھائی بڑے صوبے کا ذمہ دار ہو۔ خود تا حیات وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار ہو۔اس کا چھوٹا بھائی تا حیات ملک کے بڑے صوبے کا وزیر اعلی ہو۔جب خود نااہل ہو جائے تو پھر اپنے ہی خالی کردہ سیٹ کو اپنی بیمار اہلیہ کے حوالے کریں۔جو پارٹی کی صدارت کے حصول کے لئے دستور کا حلیہ بگاڑنے والے ہو ں ان سے بھی گھر صاف کریں گے۔جو ضمنی انتخابات میں پارٹی کارکنوں ،بھائی اور بھیتجے پر اعتماد کی بجائے بیٹی کو ترجیح دیتا ہواس کو بھی گھر سے بے دخل کر نا ہو گا۔صفائی کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کے صدر پر واضح کیا جائے کہ کوئی بھی تا حیات صدر نہیں ہوگا۔ کوئی بھی تا حیات وزیر اعظم نہیں ہو گا، زیادہ سے زیادہ دومرتبہ اس منصب کا حق دار ہو گا ۔ اس کے بعد پارٹی مشاورت سے کسی اور کو یہ منصب دیا جائے گا ۔ہاں اسے یہ بھی بتا نا ہو گا کہ وزیر اعظم ان کے ساتھ ان کے ذاتی گھر یا بیرونی ملک ملا قات کر نے کا پابند نہیں ہو گا۔صفائی ہو تو پوری ہو نی چا ہئے اس لئے کہ گھر سب کا ہو تا ہے ۔ہر کسی کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ اپنے گھر میں عزت اور احترام کے ساتھ رہیں ،لہذا بتا نا پڑے گا کہ کوئی بھی کارکن یا وفاقی وزیر کسی سابق وزیر اعظم کی بیٹی کی پاؤں میں نہیں بیٹھے گا۔ ہاں اس شخص سے بھی ناں کہنا ہو گا کہ جو خود وزیر اعلیٰ تو ہی ہے لیکن اس کا بیٹا ان سے بڑا وزیراعلیٰ ہو یعنی وزیر اعلی کے اوپر وزیر اعلی مطلب سپر وزیر اعلیٰ سے گھر کی صفائی کر نا ہو گی۔ہاں ان کو یہ بھی بتا نا پڑے گا کہ دومرتبہ صوبے کی حکمرانی تمھارا حق ہے اس کے بعد پارٹی مشاورت سے کسی اور کو یہ منصب دیا جائے گا۔ہاں گھر کے افراد کو بتانا پڑے گا کہ کسی بھی خون ریز حادثے کا تحقیقاتی رپورٹ الماریوں میں چھپانا نہیں ہو گا۔عدالتی احکامات سے پہلے اس کو عام کر نا ہوگا۔لیکن اگر یہ غلطی ہو بھی جائے تو پھر عدالت کا حکم آنے پر اس کو فوری طور نہ صرف عام کیا جائے گا بلکہ اس کی نقل متعلقہ فریق کو فراہم کیا جائے گا۔اگر کوئی عدالتی حکم نامے کو نہیں مانے گا تو پھر وہ گھر سے بے دخل کیا جائے گا۔ہو سکتا ہے کہ گھر کی اتنی بڑی صفائی خواجہ آصف اور احسن اقبال نہ کر سکے اس لئے دونوں اپنی وزارتوں سے گھر صفائی مہم کا آغاز کرلیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لو دھی نے اقوام عالم کو مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی جارحیت اور وہاں انسانوں پر ہونے والے مظالم دکھانے کے لئے جو تصویر لہرا لہرا عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کر انے کی کوشش کی تھی ان کے نازک ہاتھوں میں جھولنے والی وہ تصویر جعلی تھی وہ خاتون مقبوضہ وادی کی نہیں بلکہ وہ تصویر فلسطین کی ظلم کی داستان تھی۔اب اس طرح کے نا اہل لوگوں سے گھر کی صفائی ضروری ہے کہ نہیںیہ خواجہ صاحب کا امتحان ہے اس صفائی مہم میں کا میابی کے لئے۔اسی طر ح اسلام آباد میں دن دیہاڑے کیمروں کے نیچے کالعدم تنظیم کے جھنڈے گا ڑے گئے ۔اب احسن اقبال کی ذمہ داری ہے کہ اس صفائی مہم میں اپنا حصہ ڈال لیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ کل گھر کے مکین ان کو کچرا سمجھ کر باہر پھینک نہ دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *