جناح نے لنکنزاِن میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟

jinnah 2ترجمہ : جہاں آراء سید
قسط نمبر 8:
اس کی وجہ یقیناََیہی رہی ہوگی کہ لندن میں رہتے ہوئے والد کو اپنا موقف سمجھانا اور انہیں قائل کرنا آسا ن نہیں تھا۔ پھر وہ والدین کی توقعات کو ٹھیس پہنچانا بھی نہیں چاہتے تھے ۔ لنکز اِ ن میں داخلے کا امتحان پاس کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ لہٰذا انہیں یہ ڈر بھی ہوگا کہ آیا وہ یہ ٹیسٹ پاس کر پائیں گے یا نہیں ۔صرف تحریری امتحان تین پیپرز ، انگلش لینگویج ، انگلش ہسٹری اور لاطینی پر مشتمل تھا ۔ اس کے بعد Innکے بورڈآف ماسٹرز کے سامنے پیش ہونا پڑتا تھا ۔ ایک ایسے طالبعلم کیلئے جو کراچی میں ہائی اسکول کو چھوڑ چکا ہو اور پڑھائی کا زیادہ شوقین نہ رہا ہو ، یہ کام آسا ن نہیں تھا لیکن جناحؒ کا اعتماد بے مثال تھا ۔ انہوں نے تین ماہ سے بھی کم مدت میں امتحان کی تیاری کی ۔ انہیں امید تھی کہ وہ محنت سے کام لیتے ہوئے امتحان پاس کر لیں گے ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پہلے ہی لندن کی چاروں یونیورسٹیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کردی تھیں ۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ تین پیپرز میں ایک Latinیا لاطینی ان کیلئے ایک ایسی زبان تھی جو انہوں نے کبھی نہیں پڑھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ گھبرائے نہیں اور کوشش جاری رکھی ۔ اس بارے میں محترمہ فاطمہ جناحؒ لکھتی ہیں کہ وہ اپنی کتابوں سے گویا چپک کر رہ گئے تھے ۔
یہ قائد اعظم ؒ کا اپنے آپ پر اعتماد ہی تھا کہ جس نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ تحریری امتحان پاس کرنے کے بعد جب وہ لنکنز ان کی سلیکشن کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو وہ اس نوجوان کے غیر معمولی اعتماد سے بہت متاثر ہوئے ۔ بعد میں انہوں اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناحؒ کو بتایا کہ داخلے کا امتحان پاس کرنے سے قبل وہ لندن کی کئی یونیورسٹیز میں گئے اور وہاں طلبہ سے ملے تاکہ یہ فیصلہ کرسکیں کہ امتحان پاس کرنے کی صورت میں وہ کس درسگاہ میں داخلہ لیں گے ۔ اس کے بعد انہوں نے لنکنز ان کی بجائے کسی اور یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیاتھا لیکن جیسا کہ انہوں نے فاطمہ جناحؒ کو بتا یا کہ جب انہوں نے لنکنز اِن کے داخلی گیٹ پر دنیا کے بہترین قانون دانوں میں نبی کریم حضرت محمد صلی 54db4105b63f5اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا دیکھا تو یہیں داخلہ لینے کا فیصلہ کرلیا ۔

لنکنز اِن میں داخلے کی فیس کی طور پر انہیں 138پاؤنڈز اور 14شلنگ کی رقم جمع کرانی پڑی ۔ تب تک وہ والد کو اپنے اس فیصلے کے بارے میں مطلع کر چکے تھے ۔ فیس ادا کرنے کیلئے انہوں نے والد کے بھیجے ہوئے 200پاؤنڈز نکلوالئے تھے ۔ جناح بھائی بیٹے کو روک تو نہیں سکتے تھے لیکن وہ ان سے خفا ہوگئے تھے ۔ اب جناحؒ ، والد سے اپنے اخراجات کیلئے مزید رقم بھیجنے کیلئے بھی کہہ نہیں سکتے تھے ۔ جناح بھائی بیٹے سے خفا تو ضرور تھے تاہم ان کیلئے فکر مند تھے اور بقو ل فاطمہ جناحؒ ان کے بہتر مستقبل کیلئے دُعاگو تھے ۔ ان کی پریشانی ایک اور وجہ بھی تھی کہ بیٹے کے روانہ ہونے کے اند ر اند ر جناح بھائی پونجا کمپنی دیوالیہ ہوگئی تھی اور اس کے ساتھ ان کے دوسرے کاروبار بھی ماند پڑ گئے تھے ۔لہٰذا اب اگر چاہتے بھی تو بیٹے کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے رقم نہیں بھیج سکتے تھے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *