اس سندھی عورت کی کہانی جس نے تنہا دو سو غنڈوں کا مقابلہ کیا

انیلا صفدر

کچھ دن قبل پاکستانی نژاد برطانوی ڈائریکٹر مسعود نے پاکستان کے شہر کراچی میں جائیداد کے مسائل پر ایک فلم بنائی جس کا نام تھا: دی پیور لینڈ ۔ اس فلم میں پاکستان کی ایک بہادر خاتون نازو دھریجو کی کہانی بیان کی ہے جس نے اپنی ماں اور بہن کی مدد سے 100 غنڈوں سے نمٹتے ہوئے اپنی جائیداد کو قبضہ مافیا سے بچایا۔ستمبر 2017 میں برطانیہ کی طرف سے اس فلم کو آسکر ایوارڈ کی ریس میں شامل کر لیا گیا۔ فیمنزم کو پروان چڑھانے والی اس فلم کے بارے میں الجزیرہ نے ڈائریکٹر مسعود سے انٹرویو لیا جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
الجزیرہ: فلم کے پہلے پانچ منٹ میں ہی حاجی خدا بخش اپنی دو بیٹیوں کو نصیحت کرتا ہے کہ یہ زمین ان کی عزت ہے اس لیے انہیں ہر حال میں اس کی حفاظت کرنا ہو گی۔ چاہے اس کےلیے ان کی جان ہی چلی جائے۔ اسی طرح اس کی ماں بھی اسی طرح کے الفاظ استعمال کرتی ہے۔ بہت سے لوگ پاکستان کواپنی عزت خیال کرتے ہیں اور پاکستان اور عزت دونوں الفاظ ایک ہی جملہ میں بولتے ہیں۔ اور پھر عزت کے نام پر قتل کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ کیا آپ کا مقصد غیر ت کے نام پر قتل کے معاملہ کو بھی اجاگر کرنا ہے؟

مسعود: نہیں ایسا نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے اس جملے کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔ اب عزت کا لفظ اس قدر عزت والا نہیں رہ گیا۔ غیرت کے نام پر قتل کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب لوگ اس فلم کو دیکھیں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ ہمیں زمین کے معاملہ میں فخر نہیں بلکہ عاجزی برتنی چاہیے کیونکہ ہم اسی زمین پر پیدا ہوتے ہیں اور اسی میں دفن ہوتے ہیں۔ ہم پاکستان کے بارے میں فلم پاکستان میں فلمانا چاہتے تھے۔ اس لیے پاکستان کے شہر اور کلچر کو ہی مد نظر رکھا گیا۔
الجزیرہ : آپ کو نازو کی کہانی کے بارے میں کیسے معلوم پڑا؟
مسعود: میں کاپ لینڈ کی ری میک کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ تب مجھے ریسرچ کے دوران ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے ذریعے نازو کے بارے میں معلوم پڑا۔ آرٹیکل کا عنوان تھا: سندھ کی بہادر ترین خاتون نازو دھریجو سے ملیے۔ اس طرح میں نے پہلے اس صحافی سے رابطہ کیا اور پھر نازو سے بھی ملا۔ میں نے تبھی فیصلہ کر لیا کہ اس موضوع پر فلم بنانی چاہیے۔
الجزیرہ: فلم کی آسکر ایوارڈ کے لیے نامزدگی کے بارے میں آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
مسعود: بہت اچھا لگ رہا ہے۔ جب میں اس سب کے بارے میں سوچتا ہوں کہ کیسے ہم نے پاکستان کے اندر مارچ اور اپریل کے گرم موسم میں پوری تگ و دو کے ساتھ فلم پر کام جاری رکھا ، فلم کے لیے بہت محنت سے فنڈز اکٹھے کیے، اور فلم کےلیے گانے فلمائے ، یہ سب چیزیں ایک اچھا احساس دیتی ہیں خاص طور پر جب یہ کاوش کامیاب ہو اور فلم کو آسکر کےلیے نامزدگی کا اعزا ز مل جائے۔ میں پورے پاکستان اور برطانیہ کا سر فخر سے بلند کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ یہاں کا ہر شہر میری اس فلم کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔
الجزیرہ: کچھ ناقدین آپ کی فلم کو مغربی فیمنزم کا شاہکار قرار دیتے ہیں۔ آپ اپنی فلم کو کیسے بیان کریں گے؟

مسعود: یہ مشکل کام ہے۔ اگر آپ فلم کے بارے میں واضح طور پر بتا دیں تو عوام کی دلچسپی ختم ہو جائے گی۔ اس فلم میں فیمنزم کا بھی تاثر ضرور ہے لیکن اس کا اصل مقصد اس سے بالاتر ہے۔ یہ فلم والد اور بیٹی کے پیار کی کہانی پر مشتمل ہے۔ ایک مردانہ معاشرے کے باوجود ایک خاتون کو اس کردار میں دیکھنا ایک اچھی چیز ہے۔ نازو دھریجو نے معاشرتی قدغنوں کو نکال باہر پھینکا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ مغربی طرز کی فلم بھی ہے۔
الجزیرہ: کیا آپ کو لگتا ہے کہ جب آپ نے تین خواتین کو بنیادی کردار دے کر انہیں گن مین شپ میں مہارت رکھنے والے کرداروں کے طور پر پیش کیا تو ا س سے فیمنزم کا اثر جاتا رہا؟
مسعود: مجھے ایسا نہیں لگتا۔ میرے لیے یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ ہم اس بات پر بحث کریں کہ پاکستان میں یا اسلام میں فیمنزم پائی جاتی ہے یا نہیں۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ 1400 سال قبل ہمارے پیغمبر کی بیوی خدیجہ ایک بزنس وومن رہ چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی شادی کی پیشکش بھی خود بھجوائی تھی۔
الجزیرہ: آپ کا پاکستان کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ کیا چیز آپ کو پاکستان کھینچ لاتی ہے؟
مسعود: میرے دونوں والدین پاکستان سے ہیں۔ میں اکثر اپنے والدین کے ساتھ پاکستان جاتا رہا ہوں۔ بچپن سے لے کر آج تک میں کئی بار پاکستان گیا ہوں اور مجھے اس ملک سے بہت پیار ہے۔ میں اپنی جوانی کے دور میں وہاں ایک بھدی سی فلم بھی بنا چکا ہوں جس میں پاکستان کے خوبصورت مناظر پیش کیے تھے۔ پاکستان میری رگ رگ میں بستا ہے۔
الجزیرہ: کیا امیگرینٹ کے بچے ہونے کی وجہ سے آپ اپنے والدین کے وطن کو رومانٹسائز کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
مسعود: نہیں ، ایسا نہیں ہے۔ جب میں بچہ تھا تو پاکستان جاتے وقت میرے والد مجھے کہتے تھے کہ کسی پر اعتبار نہ کرنا اور کسی اجنبی سے بات نہ کرنا۔ میں اپنے والدین سے پوچھتا کہ وہ پاکستان سے کیوں محبت کرتے ہیں؟ وہاں کی سیاست اور کرپشن کے باجود آپ کیسے اس ملک سے جڑے ہیں؟ میں کرکٹ فین بھی ہوں لیکن پاکستان کی کرکٹ بھی زوال کا شکار رہتی ہے۔ میرے والد مجھے بتاتے کہ انہیں پاکستان کی ہوا، خوشبو اور پرندوں سے پیار ہے۔ پاکستان سے دوری ان کے پیار کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

Suhaee Abro plays Nazo Dhajero, who defended her family home from 200 armed men [Courtesy: Sarmad Masud]الجزیرہ: فلم کی شوٹنگ سندھ میں ہوئی لیکن کردار سندھی زبان کی بجائے اردو بولتے ہیں۔ کیا آپ نے جان بوجھ کر اردو کا انتخاب کیا ہے؟
مسعود: مجھے لگتا تھا کہ اردو میں فلم بنانا اس کی کامیابی کےلیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ فلم کسی صوبہ نہیں بلکہ ایک ملک کی محبت کے بارے میں ہے۔ ا سلیے یہ اہم نہین تھا کہ ہم پاکستان کے کس صوبے یا شہر میں ہیں۔ زمین کے تنازعات پاکستان بھر میں پائے جاتے ہیں۔
الجزیرہ: پاکستان کے نام کا مطلب ہے پاک زمین۔ آپ نے بھی فلم کا ایسا ہی نام رکھا ہے۔کیا آپ نے کوئی مختلف نام رکھنے کے بارے میں سوچا تھا؟
مسعود : جی ہاں۔ میرے ذہن میں دو مختلف نام تھے ۔ سندھ کی سب سے مضبوط خاتون ' اور 'once upon a time in Pakistan'
الجزیرہ: پاکستان میں فلم کی شوٹنگ کے دوران آپ کو کس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا؟
مسعود: بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ سب سے بنیادی چیز وہان کے موسم سے مطابقت ہے۔ میں ، میری بیوی اور کیمرہ مین برطانیہ سے تھے جب کہ باقی سارا عملہ پاکستانی تھا۔ ہمارا جو فکسر تھا اسے اپنے کام کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں تھی۔ میں اور میری بیوی ایک دفعہ ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ ہم پر غنڈوں نے فائرنگ بھی کی۔
مجھے لگتا ہے وہاں کے لوگ تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ پاکستانی سینما ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ وہاں کےلوگوں کو تفریحی مواقع کی اشد ضرورت ہے۔
الجزیرہ: آپ کی اگلی فلم کیا ہو گی؟
مسعود: میں ابھی تو اچھے وقت سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ اس کے بعد میں ایک اچھی سپورٹس فلم بنانے کاا رادہ رکھتا ہوں۔
الجزیرہ: آپ کے وقت کا شکریہ


Courtesy:http://www.aljazeera.com/news/2017/09/sarmad-masud-feminism-pure-land-pakistan-170926125300261.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *