میثاق کراچی کے 19 نکات

syed arif mustafa

یاد کیجیئے کچھ عرصہ قبل میں‌ نے کہا تھا کہ "اب مزید کسی کھیل تماشے کی قطعی گنجائش نہیں، بالکل نہیں ، اب کراچی کے مسئلے پہ سنجیدگی سے سرجوڑ کے بیٹھنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیرون ملک بیٹھے جعلی معافیاں مانگتے سیاسی گرو اب کراچی پہ اپنے پرانے راج پاٹ کی بحالی کی طرف سے رفتہ رفتہ مایوس ہوچلے ہیں اور اپنے بیرونی آقاؤں کی مدد سے اب کسی بھی انتہاء تک جانے کے لیئے پر تول رہے ہیں اور الطاف حسین کی جانب سے خود کراچی آنے کا ایک جھوٹا بیان بھی صورتحال کو یکسر بدل کے رکھ دے گا ۔۔۔۔ اور اب
لندنی پیر کی زہریلی تقریریں یا آتشیں بکواس آج کل پھر یوٹیوب پہ زور و شور سے جاری ہے جس سے صاف پتا چل رہا ہے کہ اس کے آقا اب کچھ کر گزرنے کی جلدی میں ہیں اور اسی لیئے وہ آئے دن گلا پھاڑ پھاڑ کے پاکستان اور اسکے دفاعی اداروں کو کوسننے اور گالیاں دیئےچلے جا رہا ہے ، اور اس کی اس مسلسل بکواس کوکسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ سمجھا جانا چاہیئے۔۔۔ یوں جانیئے کہ ایک بڑا بھونچال رستے میں ہے اور اب جبکہ الیکشن دور نہیں معاملات اور واقعات کی رفتار بہت تیز ہوجائے گی اور یوں کراچی کے حالات بڑی کروٹ لینے کو تیار معلوم ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کراچی کے اسٹیک ہولڈروں میں زیادہ تر غافل ہیں -
اس صورتحال پہ میں نے اپنے دوستوں سے مشاورت کرکے تین ہفتے قبل شیخ طارق جمیل کے گھر پہ اپنی بزم فکر و عمل کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا تھا کہ جس میں کراچی کی مردم شماری کے نہایت مشکوک نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا اور پھر اسکے اہم نکات سے اپنے قارئین کو آگاہ کیا تھا- اس اجلاس کے بعد گزشتہ ہفتے مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر بھی بڑے طویل عرصے بعد خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور انہوں نے مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم دکھانے کے حوالے سے کراچی کی چند اسڑٹیک ہولڈر پارٹیوں کو ساتھ لے کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی تھی جو کسی حد تک خوش آئند بات ہے ، لیکن چونکہ اس میں آئندہ کا لائحہ عمل اور کسی واضح حکمت عملی کا کوئی واضح تذکرہ موجود نہیں تھا چنانچہ یہ پریس کانفرنس نشستند گفتند برخاستند سے زیادہ کچھ بھی ثابت ہوتی نہیں دکھائی دیتی-
لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اس اہم معاملے کو ان حضرات کا یرغمال بنا دیں اور مطمئن ہوکے بیٹھ جائیں کیونکہ یہ لوگ کچھ کرنے والے ہوتے تو اس عروس البلاد کا انتظامی مالی و بلدیاتی و تعلیمی لحاظ سے یہ حشر ہرگز نہ ہوتا - میں نے 4 ماہ پہلے اپنے ایک مضمون میں جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا تھا کہ اب وہ کراچی کے عوام سے متعلق اپنی کج ادائیاں ترک کرے اور اس حوالے سے کراچی کے عوام کو درپیش متعدد بڑے مسائل کی نشاندہی بھی کی تھی ،،، لیکن جماعت کے کانوں پہ مطلق جوں بھی نہ رینگی اور وہ اب بھی اہم مسائل کی طرف سے پیٹھ موڑے کھڑی ہے اور کم اہمیت والے مسائل کو اہم بناکے دکھانے اور حاضری لگانے میں مصروف ہے ،،، کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے پہلئے اور بڑے قدم کے طور پہ یہ اہم کام کرنا ہوگا کہ اب سب پرانے تعصبات بھلا کے یہ سوچ اپنانی ہوگی کہ کراچی سب کا ہے یعنی ہر قومیت کا وہ شخص جو اس شہر میں‌ رہتا ہے اور حق حلال کی روزی کماتا ہے اور اس شہر کو اپنا باور کرتا ہے وہ ہر اعتبار سے کراچی والا ہے اور خبردار ، اب یہاں سے کوئی کسی کو نکالنے کی بات کرنے کا تصور بھی نہ کرے کیونکہ اس گلستاں کو سبھی رنگوں کے پھولوں کی ضرورت ہے - ہم ان سبھی شہر والوں کی مدد سے اپنے شہر اور شہری سندھ کے لیئے حقوق کے حصول کی مشترکہ جدوجہد کریں گے -
میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اب چونکہ کراچی کی اہم سیاسی جماعتیں ایک بار پھر ٹھنڈی ہوئی بیٹھی نظر آتی ہیں لہٰذا اس افسوسناک صورتحال کے خاتمے کے لیئے میں نے پھر پیشرفت کرتے ہوئے اس شہر کے اہم مسائل کا تعین کرکے، ان کو میثاق کراچی کے عنوان سے 19 نکات کے اندر سمو دیا ہے جو حسب ذیل ہیں
تاکہ حکومت سے اس ضمن میں ٹھوس بنیادوں‌ پہ بات کی جاسکے- قارئین سے اس ' میثاق کراچی ' پہ اپنی رائے سے آگاہ کرنے لیئے بصد عاجزی ملتمس ہوں
۔میثاق کراچی کے 19 نکات

Image result for Karachi1- کوٹہ سسٹم کا فوری خاتمہ کیا جائے
2- 1973 سے ابتک سندھ کی شہری آبادی کو دی گئی ملازمتوں اسکے تناسب سے کم حصہ دیئے جانے کی شکایت کی جانچ اور اسکی فوری تلافی ضروری ہے
3- پورے صوبہ سندھ کے مردم شماری کے نتائج کی منسوخی اوراور سپریم کورٹ کے ججوں‌ پہ مشتمل خصوصی 'سینسس کمیشن' کے تحت دوبارہ مردم شماری ناگزیر ہے
4- مردم شماری میں کرچی کی دیہی آبادی کو لاہور کی طرز پہ شہری آبادی کے ساتھ شامل اور شمارکیا جائے
5- کراچی میں دوسرے صوبوں‌ سے آکے بسنے والوں‌ کا یہیں اندراج ہو اورآئندہ انکے لیئے مختص وسائل کا دو تہائی حصہ شہر کی بلدیہ اورایک تہائی سندھ کی صوبائی حکومت کودیا جائے
6- کراچی کی بلدیات کو روڈ ٹیکس اور موٹر وہیکل ٹیکس کی حوالگی کی جائے جیسا کہ ہر جمہوری ملک میں ہوتا ہے
7- آبادی کے پھیلاؤ کے مطابق یہاں‌نئے تعلیمی و فنی ادارے قائم کیئے جائیں اور تعلیم کو کاروباری مافیا کے چنگل سے چھڑاکے سستی اعلیٰ تعلیم تک ہر طالب علم کی رسائی کو یقینی بنایا جائے
8- واٹر بورڈ اور کے ڈی اے پہ سندھ حکومت کے ناجائز قبضے کا خاتمہ اور بلدیات کو واپسی
9- کراچی کو سمندر سے معاشی سرگرمیوں پہ رائلٹی کی ادائیگی شروع کی جائے
10- بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور ملک بھرکے نرخوں کے مساوی بلنگ کی شدت سے ضرورت ہے
11- شہری سندھ کے نوجوانوں‌کی ترجیحی بنیادوں پہ فوج اور وفاقی اداروں‌ میں بھرتی کی جائے
12- روزگار کی فراہمی کے لیئے نئی صنعتوں کا قیام اور گھریلو صنعتوں پہ ٹیکس کی خصوصی چھوٹ
13- صرف مقامی آبادی میں سے پولیس کا چناؤ یقینی بنیا جائے
14- ناجائز تعمیرات اور زمینوں پہ قبضے و چائنا کٹنگ کے معاملات کی بیخ کنی کی جائے
15- سرکلر ریلوے بحال کرنے کے علاوہ نہایت گنجان دفتری و کاروباری علاقوں میں گرین بیلٹ پہ معلق مونو ریل چلائی جائے اور پورے شہر میں ہرجگہ سستی اور باسہولت و منظم ٹرانسپورٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے
16- عوام کو بلحاظ آبادی، سستے اور عمدہ علاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی کی تمامتر ذمہ داری بلدیہ کو دی جائے اورمہنگے نجی کلینک و ہسپتال مافیا کی روک تھام کی جائے
17- کراچی میں مستقل اور فول پروف بنیادوں پہ کچرے کے اتلاف کے نظام کی اشد ضرورت ہے
18- شہر میں ہرجگہ ، پینے کے صاف پانی کی مکمل اور بلا تعطل سپلائی کا انتظآم کیا جائے
19- کراچی کے ہر ضلع کے اپنا مذبحہ خانہ ، بڑا ضلعی ہسپتال اور اسکی اپنی سبزی و غلہ منڈی کا قیام اور اورسبزیوں اور پھلوں کے اسٹاک کے بڑے بڑے ایئرکنڈیشنڈ گوداموں کا خاتمہ ناگزیر ہے
آخر میں‌عرض ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ یہ میثاق کراچی یقینناً علیحدگی پسند قوتوں‌ کے عزائم کو ناکارہ بنانے میں بہت مددگار ہوگا کیونکہ اب یقینی طور پہ اس شہر کو فوری طور پہ اسکے جائز حقوق دے کر شرپسندوں کو اہل شہر کی تائید و حمایت سے بخوبی محروم کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ لیکن اس مد میں زیادہ تاخیر سے صورتحال ناقابل اصلاح بھی ہوسکتی ہے-


arifm30 @gmail.com # 0313-8261098

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *