دیوسائی ایک اطالوی اور فرانسیسی کی نظر میں

deosai 1ایک فرانسیسی ماہرِ ماحولیات اور اطالوی تحفط پسند عورت نے کبھی یہ نا سوچا ہو گا کہ پاکستان بھی ان کی کسی حسین یاد کا حصّہ بن سکتا ہے۔
13,000 فٹ ی بلندی پر دیوسائی کے میدان میں پہنچتے ہی فرانسیسی خاتون چلائی کہ’’واہ زبردست! ہم تو جنت پہنچ گئے ہیں‘‘۔
ابھی جیپ پوری طرح رکی بھی نہیں تھی کہ اُس خاتون نے اپنے ساتھ بیٹھی اطالوی خاتون کا ہاتھ تھاما اور جیپ سے اُتر کر وہاں موجود کیاریوں کے بیچ بھاگنا شروع کردیا۔
ہمارے ساتھ موجود 24پاکستانیوں میں سے ایک عورت بولی کہ شائد یہاں آکسیجن کا پریشر کم ہے اس لئے ان عورتوں کہ دماغ پر اثر ہو گیا ہے۔
ہمارے تجربہ کار گائیڈ محمد حامدنے بھی چلا کر کہا کہ رُک جائیں ورنہ آپ کو چوٹ بھی لگ سکتی ہے۔‘‘
ڈرائیور احمد علی نے بھی اپنی خراماں خراماں چلتی جیپ کو پوری طرح بریک لگا کر روکا۔
لیکن اُن دو خواتین نے دوڑنا بند نا کیا۔ شائد اس کھلے مقام پر اُن کو آزادی کا احساس ہو رہا تھا۔ بلکہ وہ تو اپنے دونوں ہاتھ کھول کر ایسے بھاگ دوڑ رہی تھیں deosai 3جیسے جہاز آسمان میں اُڑتا ہے۔
میں نے حامد سے کہا کہ پریشان مت ہو اگر یہ خواتین اُڑ رہی ہیں تو اس کی وجہ یہ حسین جگہ ہے ۔ اس جگہ آ کر سب کا اُڑنے کا دل کرتا ہے۔
کوئی پندرہ منٹ کے بعد صوفیہ اور سارہ گروپ کے پاس واپس آگئیں لیکن اُن کے چہرے پر کھلی لالی دیکھ کر پتہ لگ رہا تھا کہ اس جگہ کا حسن اُن کی یادوں میں نقش ہو کر رہ گیا ہے۔سارہ کا کہنا تھا کہ ہم نے دیوسائی کی خوبصورتی کا سنا تو تھا لیکن یہ جگہ تو اُمید سے بڑھ کر حسین ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دیوسائی شاندار اور جادوئی ہے۔دیو سائی دو لفظوں ’’دیو‘‘ اور ’’ سائی مطلب سایہ ‘‘ کا مجموعہ ہے۔ وہاں کہ رہنے والوں کے مطابق اس کا مطلب ہے ’’ دیو کی زمین‘‘۔ جبکہ ایک داستان یہ بھی ہے کہ یہ زمین کسی دیو کی ملکیت تھی جس نے اس پر کھیتی باڑی کر کے اس کو ترقیدینے کی کوشش کی۔
بالتی لوگ اس دیو سائی کو Ghbiarsa یا گرمیوں کی جگہ بھی کہتے ہیں، کیونکہ دیوسائی صرف گرمیوں میں ہی جایا جا سکتا ہے۔ یہاں پر ہونیوالی شدید برف باری اور یخ ٹھنڈ کی وجہ سے سردیوں میں بہت کم لوگ یہاں تک پہنچ پاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق یہاں کا درجہِ حرارت-50ڈگری سیلسیئس تک پہنچ جاتا ہے۔
دیوسائی کے نزدیک شمال میں سکردو، جنوب مشرق میں ضلع Galtari Kharmang اور مغرب میں ضلع استور واقع ہے، جبکہ سکردو ائیر پورٹ سے دیوسائی تقریباََ ایک گھنٹے کا راستہ ہے جو لگ بھگ45کلومیٹر بنتا ہے۔یہاں آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاح اکثر ہوائی راستے کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔پی آئی اے نے کچھ عرصہ پہلے ہی اسلام آباد سے سکردو کی پرواز شروع کی ہے۔سکردو ہوائی اڈہ چھوٹا مگر گرم اور آرام دہ ہے۔آگے پورے دن کے لئے یا شیوسر جھیل جانے کے لئے آپ کو جیپ ہوائی اڈے سے ہی مل جائے گی جو پورے دن کے تقریباََ دس ہزار لیتی ہے لیکن یہ ریٹ کم زیادہ بھی ہو deosai 4سکتے ہیں۔
زیادہ تر غیر ملکی دیوسائی جانے کے لئے سکردو دیوسائی سڑک کا ہی انتخاب کرتے ہیں لیکن اس کا ایک راستہ استور میں چھلام کے زریعہ بھی ہے۔پچھلی گرمیوں میں کافی لوگوں نے استور کے راستے سے دیوسائی کا رخ کیا ور بڑا پانی نامی جگہ پر کیمپ بھی لگائے۔لیکن اس راستے کے لئے آپ کو مین قراقرم ہائی وے سے ہی استور کی طرف مڑنا پڑتا ہے۔ایک اور راستہ تسوق کچورا وادی سے بھی ہے جس کانام برگی لا ہے لیکن سیاح اس راستے سے آنا پسند نہیں کرنا۔
ہم سے پہلے آنیوالے اکثر لوگوں کی طرح ہم نے بھی بڑا پانی پر ہی کیمپ لگایا۔ یہ جگہ ایک پُر فضا پکنک پوائنٹ ہے بس یہاں آپ کو مچھروں سے بچنا پڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جگہ اب خطرے سے دوچار بھورے ریچھ اور لومڑیوں کو دیکھنے کے لئے بھی کافی مشور ہے۔ہمارے ایک دن کے کیمپ میں تو ہمیں کوئی ریچھ نظر نہیں آئے لیکن اگلے دن صبح میں ہمیں اپنے کیمپ سے دور دو ریچھ کے بچے ضرور نظرآئے۔
یہاں پر جا بجا قدرتی جھیلیں موجود ہیں لیکن شیوسر جھیل کو تو یہاں کے مقامی قدرت کا عجوبہ کہتے ہیں۔شیوسر جھیل استور سے دیوسائی جانے والی سڑک کے کنارے پر واقع ہے اور اس کو ’’ اندھی جھیل ‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے کوئی اور جھیل نہیں نکلتی۔مقامی شینا زبان میں شیو کا مطلب ہے ’’ deosai 2اندھی‘‘ اور سر کا مطلب ہے ’’ جھیل‘‘۔
یہ جھیل بہت ہی وسیع ہے اور اس کی ساکن سطح اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔اس جھیل کی لمبائی 1.8کلومیٹر ہے اور اس کے سب سے وسیع حصّے کی لمبائی2.3کلومیٹر ہے جبکہ اسکی گہرائی کہیں کم اور کہیں زیادہ ہے۔پوری جھیل کی مجموعی گہرائی تقریباََ 40میٹر ہے۔
جیسے جیسے ہم دیوسائی کے میدان سے گزرتے رہے ویسے ویسے سارہ اور صوفیہ کی عکس انداز خاموشی بھی بڑھتی رہی۔اگر دنیا کے عجوبوں کی بات کی جائے تو یہ جگہ جتنی قدرتی ہو سکتی تھی اتنی قدرتی ہے۔یہاں نا کوئی انسانی تعمیرات ہیں نا انسانی مداخلت اور یہی دیوسائی کی خاصیت ہے۔کوئی یہاں کے حسن کو تصویر میں قید نہیں کر سکتا کیونکہ یہ جگہ خود مکمل حسن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *