ادارے سے دردمندانہ اپیل

tariq ahmed
اب یہ کہہ کر جان نہیں چھڑوائی جا سکتی۔ کہ ادارے کا موجودہ سیاسی ابتری، عدم استحکام، کنفیوژن اور ہیجان سے کوئی تعلق نہیں ۔ یا تو آپ تسلیم کریں یہ سب کچھ آپ کی مرضی اور ایما سے ہورہا ہے یا پھر آپ کا اپنا ادارہ آپ کے کنٹرول میں نہیں ۔ اور اس کی صفائی ضروری ہو چکی ھے۔ ہر دو صورتوں میں ادارے کی عزت اور احترام خطرے میں ھے۔ زبانیں گز گز بھر لمبی ہو رہی ہیں۔ کس کس کو روکیں گے؟بھوسے کے ڈھیر خشک تر ھوتے جا رھے ھیں۔ ہلکی سی آنچ شعلے بھڑکا سکتی ھے۔ کس کس کو بجھائیں گے؟ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ھے۔ حوالدار میڈیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا"کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ۔ مشرق سے ابھرتے سورج کو ذرا دیکھ "یہ شخصی آزادی اور جمہوری آزادی کا دور ھے۔ عوام کو بہت دیر تک بیوقوف بنا کر رکھا نہیں جا سکتا۔ عوام کو بہت دیر تک خوفزدہ کرکے نہیں رکھا جا سکتا۔ اور عوام سے بہت دیر تک محبت اور حب الوطنی کے نام پر تعاون اور قربانیاں نہیں مانگی جا سکتیں ۔ یہاں ہزاروں ایٹم بموں کے باوجود روس کے ٹکڑے ھو گئے، اس کی فوج اور کے جی بی کا روح فرسا خوف اور پابندیاں اسے متحد نہیں رکھ سکیں۔ یہاں تیان من اسکوائر میں کھڑے ایک نہتے چینی نے ٹینکوں کے رخ بدل دیے۔ اور چینی قیادت کو آہنی پردہ ھٹا کر شخصی اور ریاستی آزادیاں دینے پر مجبور کر دیا۔ یہاں لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے برلن وال گرا کر عوام کی طاقت کو ثابت کر دیا۔ یہاں نہتے ترکی بھائیوں نے ٹینکوں پر قبضہ کر لیا۔ اور سازشی افسروں کو گھروں سے پکڑ کر لے آئے ۔ اور یہاں پاکستان بنانے والے بنگالیوں نے اپنا الگ ملک بنا لیا۔ یہ بیانیہ اب ناکام ہوتا جا رہا ھے۔ کہ سیاستدان کرپٹ، نااہل اور سیکیورٹی رسک ھیں۔ اس بنیاد پر ستر سال اقتدار و اختیار کا مزہ لے لیا۔ چار فوجی آمر پینتیس سال حکومت کر گئے۔ ان طویل محب وطن ادوار حکومت میں ان آمروں سے اتنا نہ ھو سکا کہ اس ملک کو امن سلامتی اور معاشی ترقی کی راہ پر ڈال جائیں۔ ملک سے کرپشن ختم کر دیں ۔ اور نااہل سیاستدانوں کی جگہ اہل سیاستدان دے جائیں ۔ بلکہ ہوا اس کے الٹ ۔ جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ ملک توڑ کر گئے ۔ جنرل ضیاء ملک کو انتہا پسندی ، مذہبی منافرت ، رشوت، پلاٹ، پرمٹ اور پلازے کی غیر جماعتی سیاست دے کر گئے۔ سیاچن دے کر گئے۔ جنرل مشرف خودکش دھماکوں کا تحفہ دے گئے۔ چاروں جرنیل امریکہ کی لڑائی لڑتے رہے۔ اب کہیں جا کر ملک میں سیاسی استحکام آیا تھا۔ معاشی ترقی جڑ پکڑ رہی تھی۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم ھو رھی تھی۔ سی پیک منصوبے بن رھے تھے۔ دینا بھر کے معاشی اشارعیے ھمارے حق میں تھے۔ سٹاک ایکسچینج ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ چکا تھا۔ زر مبادلہ نئے ریکارڈ قائم کر رھا تھا۔ روس چین اور وسط ایشیا کے ساتھ تجارتی و صنعتی معاہدے طے پا رھے تھے۔ پاکستان آئی ایم ایف کی غلامی سے نکل چکا تھا۔ نئی موٹر ویز، ایئرپورٹس، بندرگاہیں بن رھی تھیں۔ سرمائے کی آمد آمد تھی۔ اور پھر یہ پانامہ ۔۔۔"بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا۔۔۔ جو چیرا تو اک قطرہ خون تک نہ نکلا۔"۔۔۔ اگر پانامے پر مقدمہ بنایا تھا۔ تو پھر پانامے پر سزا دی ہوتی۔ ایک اقامہ جس کا پورے فسانے میں ذکر تک نہ تھا۔ اس ایک ٹیکنیکل ایرر پر نااہلی چہ معنی دارد ۔ نہ کرپشن نہ چوری نہ ڈاکہ۔
جناب والا چار سال کا بیانیہ فیل ھو چکا۔ عوام کا ایک کثیر حصہ اس ساری بنائی گئی سٹوری کو تسلیم نہیں کرتا۔ نواز شریف کے جو سیاسی مخالف ھیں۔ ان کی بات نہ کریں ۔ ان کی اپنی سیاست ھے۔ یہ ادارے اس سیاست میں کیوں کود پڑے ہیں ۔ نواز شریف کو برطرف کروا کر اداروں نے نیک نامی نہیں کمائی ۔ اسے جیل میں ڈال کر مزید بد نامی کمائیں گے۔ سیاسی مخالفین تو خوش ھوں گے۔ اداروں کے ہاتھ کچھ نہیں آے گا۔ ہم تو عمر کے ھو گئے۔ لکھ کر غصہ نکال لیتے ہیں ۔ لیکن عوام کا ایک کثیر حصہ اس صورت حال پر بلکل خوش نہیں ۔ سخت غصے میں ھے۔ اوپر سے اداروں کی ہر موو ایکسپوز ھو رھی ھے۔ اسی لیے شروع میں کہا۔ آپ مان لیں ۔ یہ آپ کی مرضی سے ہو رھا ھے۔ یا آپ کا ادارہ آپ کے کنٹرول میں نہیں اور اس کی صفائی کی ضرورت ھے۔ ہر دو صورتوں میں ادارے کی ساکھ اور عزت داؤ پر ھے۔ ہم اپنے ادارے سے محبت کرتے ھیں ۔ اس لیے دردمندی سے اپیل کرتے ھیں۔ سیاسی مقدمات سے نکل جائیں ۔ وہ لوگ آپ کے اصل دشمن ھیں۔ جو اپنے سیاسی مخالفین کا انتخابی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے اور آپ کی مدد سے انہیں ختم کرنا چاہتے ھیں ۔ اور اگر یہ سیاسی بساط اس لیے بچھائی گئی ھے کہ  خود کی حکومت لانے کا مقصد ھے۔ تو جناب والا ایسی حکومت اب چلنے والی نہیں ۔ کہے دیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *