چین میں 12 ہزار ٹن سے زائد سونے کے ذخائر دریافت!

اس وقت چین میں ہر سال اوسطاً 450 ٹن سونا نکالا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

بیجنگ -چین سونے کے ذخائر رکھنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین میں سونے کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن میں خالص سونے کی مقدار کا اندازہ 12 ہزار ٹن سے بھی زیادہ لگایا گیا ہے۔ اس طرح چین دنیا کا وہ دوسرا بڑا ملک  بن گیا ہے جس کے پاس اتنی بڑی مقدار میں سونے کے قدرتی ذخائر موجود ہیں۔ واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں سونے کے سب سے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔

چین میں سونے کے نئے اور وسیع ذخائر کا انکشاف چائنیز گولڈ ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین ژینگ یونگتاؤ نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2016 کے اختتام پر چین میں سونے کے ذخائر 12100 ٹن تک پہنچ چکے تھے۔ گزشتہ سال مارکیٹوں اور بینکوں کے مابین سونے کے تبادلے اور سونے سے متعلق کاروبار کا حجم تقریباً 70 ہزار ٹن رہا تھا جب کہ 2020 تک حجم بڑھ کر ایک لاکھ ٹن پر پہنچنے کی توقع ہے۔

چین گزشتہ 10 سال میں سونے کی پیدوار کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا ہے اور پچھلے 4 سال سے سونا استعمال کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ اس وقت چین میں ہر سال اوسطاً 450 ٹن سونا نکالا جارہا ہے جبکہ چین کا منصوبہ اس پیداوار کو 2020 تک 500 ٹن سالانہ پر پہنچانے کا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *