دس وائس چانسلرز کی تلاش

yasir pirzada

گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی اور پھر بی اے کرنے کے بعد جب میرے چار سال اس کالج میں پورے ہو گئے تو میں نے سوچا اگر ایم اے کے اگلے دو سال بھی یہیں گزار دیئے تو زندگی بھر قلق رہے گا کہ کبھی یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی۔ ویسے تو گورنمنٹ کالج میں پڑھنے والے پر واجب ہے کہ وہ جی سی کی شان میں ہمیشہ قصیدہ لکھے چاہے اس نے وہاں جھک ہی کیوں نہ ماری ہو تاہم میرا اس قسم کا قصیدہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں اور اِس گستاخی کے لئے میں اپنے راوین دوستوں سے پیشگی معذرت خواہ ہوں کیونکہ جہاں بھی لفظ راوین آتا ہے وہاں رقت آمیز لہجے میں گورنمنٹ کالج کی مدح سرائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ گورنمنٹ کالج، لاہور کے اکتا دینے والے چار برس کے دورِ طالب علمی کے بعد میں نے پنجاب یونیورسٹی کے ایم اے سیاسیات میں داخلہ لیا۔ اصولی طور پر اب مجھے یہ کہنا چاہئے کہ اِس فیصلے کے پیچھے بنیادی محرک شعبہ سیاسیات کی شاندار فیکلٹی اور اساتذہ کی ایک کہکشاں تھی جس کی وجہ سے میں پنجاب یونیورسٹی کھنچا چلا آیا مگر اللہ کو جان دینی ہے، داخلہ لینے کی اصل اور واحد وجہ یہ تھی کہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے بارے میں سُن رکھا تھا کہ یہاں لڑکیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ واجبی شکل و صورت کا لڑکا بھی سال میں دو تین افیئر چلا لیتا ہے۔ یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی۔
ہمارے دور کی پنجاب یونیورسٹی آج کی یونیورسٹی سے قدرے مختلف تھی، یقیناً اُس وقت بھی وہاں ایک قدامت پسند جماعت کا غلبہ تھا مگر پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ چونکہ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی، پروفیسر انور برکت مرحوم اور پروفیسر سجاد نصیر جیسے روشن اساتذہ کی نگرانی میں تھا اس لئے وہاں پہلے دن سے ہمیں ایک پروگریسو ماحول ملا، اِن پروفیسر حضرات کے کمرے ہمہ وقت کھلے رہتے، ہم کلاس کے بعد بھی گھنٹوں ان کے پاس بیٹھے رہتے، مختلف تھیوریوں پر بحث ہوتی، ایک کے بعد ایک سوال ہوتا، جتنے سوالات ہوتے اتنی ہی ہماری حوصلہ افزائی کی جاتی، فلسفے کے سوالات انور برکت مرحوم سے (کیا نفیس شخصیت کے مالک استاد تھے) ہوتے، تقابلی سیاست کی گتھیاںسجاد نصیر صاحب سلجھاتے اور بین الاقوامی سیاست کے جدید تصورات سمجھنے کے لئے ڈاکٹر حسن عسکری کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے۔ یہ سہرا ڈاکٹر حسن عسکری کے سر ہے جنہوں نے کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر بطور شعبہ سیاسیات کے سربراہ اِس آزاد ماحول کو یقینی بنایا جو ایک خودمختار یونیورسٹی میں ہونا چاہئے۔ یونیورسٹی میں آزاد ماحول اس لئے ضروری ہے تاکہ وہاں تنقیدی شعور پروان چڑھ سکے، نوجوان حقائق کو پرکھ سکیں، تحقیقی رجحان پنپ سکے اور سچ کی حوصلہ افزائی ہو۔ یہ تمام باتیں اسی صورت ممکن ہیں اگر جامعات میں سرکار کی مداخلت نہ ہو کیونکہ جہاں سرکار کی عملداری ہو گی وہیں اُس کا اختیار ہوگا اور جہا ں اختیار ہوتا ہے وہاں ’’سچ‘‘ بھی اسی کا تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جامعات کے معاملات میں حکومت کی دخل اندازی نہیں ہوتی اور انہیں مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل ہوتی ہے حتیٰ کہ وائس چانسلر کی اجازت کے بغیر پولیس بھی کیمپس میں داخل نہیں ہو سکتی۔ آج حال یہ ہے کہ ہماری جامعات سے فلسفی، لکھاری، شاعر، مصور، ریاضی دان، خلا باز اور ماہر سیاست تو نہ جانے پیدا ہو رہے ہیں یا نہیں، دہشت گرد البتہ ضرور برآمد ہو رہے ہیں۔ وہ پولیس جو وی سی کی اجازت کے بغیر جامعہ کی حدود میں داخل نہیں ہو سکتی تھی آج ہوسٹلوں کی نگرانی کرتی ہے۔ کیا ہماری جامعات یہ دہشت گرد تیار کر رہی ہیں یا پھر انہیں شدت پسند معاشرے سے ریڈی میڈ ملتے ہیں؟ یہ کلیدی سوال ہے۔
جب بھی کسی یونیورسٹی یا کالج میں تعلیم پانے والے پڑھے لکھے دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں تو ایک غلغلہ بلند ہوتا ہے، میڈیا میں شور مچ جاتا ہے اور ایک بحث شروع ہو جاتی ہے کہ کیا ہماری جامعات اب دہشت گرد پیدا کریں گی! حالانکہ ان پڑھ دہشت گرد کا پھوڑا ہوا بم بھی کسی ایم بی اے کے بم سے کم ہلاکت خیز نہیں ہوتا مگر نہ جانے کیوں ہم کسی پڑھے لکھے سے دہشت گردی کی توقع نہیں کرتے۔ یونیورسٹیوں سے پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد زیادہ نہیں، اگر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ دس برسوں میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں ملوث افراد میں سے بہت کم شرح ایسے لوگوں کی تھی جو یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل تھے۔ یہ بات بھی ثابت شدہ نہیں کہ جو دہشت گرد تعلیمی اداروں سے پکڑے جاتے ہیں وہ اُن تعلیمی اداروں کے کسی شدت پسند بیانئے کی وجہ سے دہشت گردی کی طرف مائل ہوئے یا پہلے سے ہی اُن میں شدت پسندی کے جراثیم تھے اور کیا انہوں نے دہشت گردی یونیورسٹی کے اندر سیکھی یا پھر پہلے سے ہی اُن کے شدت پسندوں کے ساتھ روابط تھے! گزشتہ دو تین دہائیوں میں معاشرے میں تنگ نظری پروان چڑھی ہے، یونیورسٹیاں بھی معاشرے کا حصہ ہیں سو وہ اس عمل سے کیسے محفوظ رہ سکتی تھیں، جو نوجوان یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں وہ اسی معاشرے سے آتے ہیں جہاں شدت پسندانہ بیانیہ ہاٹ کیک کی طرح بکتا رہا ہے۔ اب اگر ہماری جامعات سے دہشت گرد برآمد ہوئے ہیں تو اس میں اچنبھے کی کیا بات! جو بیج جہاں بویا گیا تھا اُسی قسم کا درخت اُگ آیا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ دنیا کے مغربی ممالک، جہاں شدت پسندی کا بیانیہ پروان نہیں چڑھایا گیا تھا، وہاں بھی یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے دہشت گرد بنے مگر اس کی بنیادی وجہ اُن کے تعلیمی ادارے نہیں تھے کیونکہ یونیورسٹی ہو یا مدرسہ، کہیں بھی دہشت گردی کی باقاعدہ تعلیم نہیں دی جاتی، بلکہ اِس کی بنیادی وجہ شدت پسندانہ صحبت ہے جو کہیں بھی میسر ہو سکتی ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہمارے ہاں تعلیمی ادارے اور جامعات میں سب اچھا ہے اور دہشت گرد محض معاشرے کی عمومی شدت پسندی کی پیداوار ہیں۔ ہمارے ہاں نصاب میں بتدریج ایسی تبدیلیاں کی گئیں جو نوجوانوں میں تنگ نظری کا باعث بنیں، ہم نے جامعات میں آزاد ماحول ختم کرکے یونیورسٹیوں کو محض پی ایچ ڈی پیدا کرنے کی ایک مشین بنا دیا، ہم نے تنقیدی شعور کو پروان چڑھانے کی بجائے سوچ پر پہرے بٹھا دیئے اور یونیورسٹی کی خود مختاری کا یہ حال کر دیا کہ اب کسی شعبے کے سربراہ کی تعیناتی کی سمری بھی صوبائی وزیر اعلیٰ کے پاس جاتی ہے۔
مسئلہ تو بیان کر دیا، اب مجھ پر واجب ہے کہ حل بھی بتاؤں۔ اصولاً تو مجھے کوئی ایسا حل بتانا چاہئے جسے سُن کر لوگ جھوم کر تالیاں پیٹنے لگیں، جیسے کہ حکومت کو چاہئے کہ ہر پیدا ہونے والے بچے کے دماغ میں ایک چِپ لگا دے تاکہ جب وہ بڑا ہو اور جونہی اُس کے دماغ میں مفسد خیالات جنم لینے لگیں تو فوراً حکومتی ادارے حرکت میں آجائیں اور اسے ایک انکیوبیشن سنٹر میں لے جا کر اس کے دماغ کی تطہیر کر دیں، اس سے کبھی بھی کوئی دہشت گرد وجود میں نہیں آ سکے گا۔ اسی طرح حکومت کو چاہئے کہ تمام یونیورسٹیوں کا موجودہ نصاب فوراً ختم کر دے اور ایک قومی کمیشن تشکیل دے کر اُس کے ذمہ لگائے کہ وہ ایک ماہ میں نیا نصاب تشکیل دے اور اِس کام کے لئے کمیشن کے ممبران کو ایک کمرے میں بند کر دے اور انہیں اُس وقت تک باہر نکلنے کی اجازت نہ ہو جب تک یہ نصاب تیار نہ ہو جائے، وغیرہ وغیرہ۔ مجھے یقین ہے کہ میری اِن تجاویز کو عوامی حلقوں میں بہت پسند کیا جائے گا۔ لیکن اگر کوئی سنجیدگی پر تُل گیا تو میرا مشورہ ہوگا کہ صدر پاکستان پورے ملک سے کوئی سی دس جامعات کے وی سی صاحبان کو بلا کر فقط اتنا پوچھ لیں کہ کیا انہوں نے اپنی یونیورسٹی میں نیشنل ایکشن پلان پر کوئی مباحثہ یا تحقیق کروائی ہے، اگر ہاں، تو اُس کی شائع شدہ کاپی ساتھ لیتے آئیں۔ اگر چُنے گئے دس وی سی صاحبان ایسے نکل آئے تو میں سمجھوں گا ہمارے ملک کا مستقبل محفوظ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *