پرسنل لون کی وجہ سے طوائف بنی، ڈنمارک کی طوائف کا احوال

danish prostistute 2تھائی لینڈ روبرٹو ٹرومبیٹا/فلیکر
ڈنمارک کے جنگل کے  ایک  قحبہ خانے میں ایک تھائی عورت اکیلی بیتھی تھی۔ وہ گاہکوں کی منتطر تھی۔اس کے پاس کوئی قانونی کاغزات نہیں تھے۔ یہ تنہا کرنے والا مشکل کام ہے، لیکن وہ اچھا کما لیتی ہے۔ جب گاڑی بجری سے بنی پگڈنڈی سے گھر کے پیچھے سے آئی اس نے پھٹےپردے کے سوراخ سے بایر دیکھا۔ وہ پولیس کے لیے اپنی آنکھیں کھولے رکھتی ہے۔ اسے پکڑے جانے اور تھائی لینڈ سے نکالے جانے سے ڈر لگتا ہے۔

 ڈنمارک میں دوسال میں اس نے اپنی فیملی کو 20 سال پرانےقرضہ کے کیچڑ سے نکالا جو اس کے والد نے مکئی اگانے، ٹریکٹر خریدنے، نئی چھت بنانے اور جوئے کےقرضوں کے نتیجے میں لیا تھا۔

میں اس کی فیملی کو کچھ سال سے جانتی تھی اور عورتوں کی یورپ میں  بے قاعدہ منتقلی کے بارے میں پتہ لگانے کے لیے  اس کے بھائی اور ماں کے ساتھ شمال مشرقی تھائی لینڈ میں گھومی۔ تب مجھے پتہ چلا کہ کیسے وہ اپنی بیٹیوں کو ڈنمارک کے قحبہ خانے میں پیسے کمانے کی غرض سے بھیج کر اپنی فیملی کے اتنے پرانے قرض کے کیچڑ سے نکالتے ہیں۔قرض کے بعد بھی فلیٹ ٹی-وی سکرین اور بڑا صوفہ خریدنے کے پیسے بچ جاتے ہیں ۔

قرض ایک ویلن ہے نہ کہ سمگلنگ

ہاں یہ سچ ہے:انسانی سمگلنگ اور بیوپاری ظالمانہ ہو سکتی ہے۔ دونوں خطرناک اور جان لیوا ہو سکتے ہیں لیکن یورپی یونین مایگریشن  والوں کی بنائی مایگریشن پالیسی کے مطابق مارکیٹ میں یہ اچھا کاروبار ہے ۔ سمگلرز کی کمائی کا انحصار ان لوگوں پر ہے جو قرضے لوٹانے کےلیے  یورپ کا سفر کرتے ہیں اور سفر کےلیے مزید قرضے لیتے ہیں۔

اگرچہ، قرض مہاجروں کے لیے ایک مضبوط وجہ تحریک ہے لیکن اس منتقلی کی بحث میں اس کا بلکل کوئی تزکرہ نہیں۔ قرض کے مسئلے کو بوریت اور خشک موضوع سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ۔بحث سنسنی خیز معاملات جیسے سیکس سلیوز اور لرزہ خیز انسانی سمگلنگ کی کہانیوں سے ملحق رکھی جاتی ہے۔ ۔جب کہ نہ ختم ھونے والی سچائی یہ یے کہ مائیگریشن اورسیکس ورکر اس قرض کے لین دین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  یہاں ہم عالمی جنوب میں موجود  فیملیوں کی بات کر رہے ہیں جو اس قرض کی دلدل میں پھنس گئے ہیں نہ کہ ان لوگوں کی جو جنگ یا حدود کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ہمیں ایک ہی زندگی ملی ہے

    میں نے  15 سال سے ماہر بشریات اورمائیگریشن ریسرچر کے طور پریہ جانا ہے کہ ذاتی قرضے چاہے وہ ہجرت کے لیے ہوں یا کسی اور مقصد کےلیے ، عوام کے لیے سب سے بڑی مشکل کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

میں نے مغربی نائیجیریا جہاں  سے بہت سے لوگ سکس ورک کے لیے یورپ جاتے ہیں کے بینن شہر کی عورت سے پوچھا "تم قرض کیوں لیتے ہو"؟تو اس نے جواب دیا کہ:"ہمیں ایک ہی زندگی ملتی ہے جس میں ہم زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

جھنجھلاہٹ یہ ہے کی نائیجیریا کے صرف  پڑھے لیکھے ہی نہیں،  بے روزگار  مڈل کلاس لوگ اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی بینک سے قرض لے لیتے ہیں   ۔ میں نے تھائی لینڈ میں ایک بڑے لوکل بینک کے برانچ مینیجر سے انٹرویو کیااس نے کہا:"ہم ہجرت کے لیے قرض نہیں دیتے کیوں کہ اس میں رسک ہے۔ اور موسمی کاروباریوں، ایک دن کے مزدوروں اور بے روزگاروں  کو بھی نہیں کیوں کہ ان سب سے واپسی کی امید نہیں۔ "

لیکن عالمی جنوب کے  لاکھوں لوگ موسمی کاروباری،یومیہ مزدوری کرنے والے ، کسی کنٹریکٹ سے محروم اور بے روز گار ہیں۔ اس لیے جب جان لیوا بیماری ، نئی چھت، ضروری سواری، نیا کاروبار پیسے مانگے تو “no-questions-asked”  پالیسی جس میں 100٪ سود کے ظالمانہ شرائط لاگو ہوں، کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ تھائی لینڈ میں جب کوئی گمنام ہیلمٹ میں چھپے موٹر سوئیکلوں پر سوار لوگ آتے ہیں تو گاؤں کے لوگ سہم جاتے ہیں کیوں کہ یہ بائک پر سوار لوگ قابل ادائیگی قرض کی رقم وصول کرنے آتے ہیں۔

مائکروفائنینس بیرومیٹر  سے 2016 میں پتہ چلا کہ معمولی قرض دینے والی کمپنیوں،مقامی وڈیرے ،امیر  زمین دار، امیربیورکریٹس اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے قرض لینے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔  ورلڈ بینک بھی تشویش میں ہے۔ جیسا کہ2016 میں بینک نے  لکھا کہ 70 ٪ مائیکرو، فیملی کاروبار سے بڑے کاروبار تک کو مارکٹ سے   فارمل اور مناسب قرضہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی لیے یہ لوگ ذاتی اور پرایئویٹ کمپنیوں سے رجوع کرتے ہیں جو زیادہ سود کا مطالبہ کرتی ہیں۔  یہ مسئلہ افریقہ اور ایشیاء میں جہاں سے زیادہ تر لوگ یورپ  ہجرت کرتے ہیں وہاں سنجیدگی سے بڑھ رہا ہے۔

زمین بچانے کے لیے جسم فروشی

'میرا جسم میری فیملی کو اس قرض سے نکالے گا' یہ بات سپین سے جعلی کاغذات کی مدد سے ڈنمارک  آنے والی تھائی خاتون نے بتایا۔ اس کی فیملی قرض دار ہے  لیکن ان کے پاس  اب بھی چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا ہے۔ وہ اس زمیں کو بیچ کر قرض اتار سکتے ہیں لیکن زمین بچانا قرض کی ادائیگی سے بہتر ہے۔ میرا جسم زمین کے ٹکڑے جیسا ہے اور اسے میں اپنے ساتھ لے کر جا سکتی ہوں لیکن اس کی قیمت ہر لمحہ کم ہو رہی ہے۔ لیکن تھائی لینڈ کی زمین کی قیمت نہیں گھٹ رہی۔"

اگر ہم ہجرت کا مطلب سمجھیں،  اور ان جگہوں میں شاید  صحیح پالیسیاں چلائیں تو اس کے لیے ہمیں اس طرح کی معقول اور تفصیلی جانکاری رکھنا ہو گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ اس سب کے پیچھے کیا اصلیت ہے ۔ بظاہر یہ مایوس کن فیصلہ لگتا ہے خاص طور پر جب پیسے میں کمی آ جائے  اور انٹرسٹ ریٹ بھی زیادہ ہو۔

مہاجر اپنی اور اپنی فیملی کو قرض کی جکڑ سے بچانے کے لیے  زیادہ بڑاا رسک لیتے ہیں ۔ عورتیں اس میں اور ذیادہ پھنستی جاتی ہیں جیسا کے اکیلے قحبہ خانے میں رہنا تاکہ سارے گاہک اس کے ہی ہوں اور وہ زیادہ کما سکے۔ یورپ کے لال بتی علاقے میں کام کرنے کا مطلب ہے پولیس کو نظر انداز کرنا اور ریڈار سے بچنا۔اس سے پہلے کہ کچھ غلط ہو  مقروض ہونے اور علاقے سے نکال دیے  جانے کا خوف آپ کو زیادہ سےزیادہ اور جلد سے جلد کمانے پر مجبور کرتا ہے۔  چاہے اس کے  لیے آپ کو اکیلے جنگل کے قحبہ خانے یا سمندرپار کرتے ہوئے خراب  کشتی میں رہنا پڑے۔

قرض کی پالیسی ہی ہجرت کی پالیسی ہے۔

 دوسرے لوگوں کے مقروض ہونے کا ہم سے کیا تعلق؟ ہم خود اتنا قرض لے لیتے ہیں،اور وہ خود اپنی مرضی سے ایسا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، عالمی جنوب میں بڑھتے ہوئے قرض کا  یورپی یونین، امریکہ، اور دوسرے ہجرت کرنے والوں کو خوش آمدید کرنے والے ممالک سے گہرا تعلق ہے۔ قرض اور ہجرت کا آپس میں گہرا تعلق ہے،جو اس صورت میں صاف واضح نظر آتا ہے جب لوگ اس کی وجہ سے ملک سے دور جسم فروشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں بینک اور قرض کی پالیسیاں ہجرت کی پالیسیاں ہیں۔ سارا کچھ جانے بنا کچھ بدلا نہیں جا سکتا انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف کیمپین صرف علامات  کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ہجرت کر کے سیکس بیچنے والوں کی اس غیر قانونی حرکت پر بھی نظر اندازی کے اثرات ہیں۔ کیوں؟ ان ابتدائی اقدامات کوان بنیادی بے روزگاری اور قرض لینے کی وجوہات کی روک تھام کے لیے  استعمال ہی نہیں کیا گیا۔

تھائی لینڈ میں قرض کی روک تھام کےلیے کچھ پراگرام متعارف کروائے گئے ہیں۔  اس قرض کی  دلدل سے بچنے کے لیے غریب لوگوں کے لیے گورنمنٹ نے بغیر انٹرسٹ کے قرض دینے کا انتظام کیا ہے تاکہ زراعت کی مشینیں اور بونے کے لیے بیج خرید سکیں۔لیکن یہ بہت چھوٹے پیمانے پر ہے اور اس کو اثرات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا،لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کی مقامی کمپنیاں یہ جانتی ہیں کہ قرض لینا اکثر بندوق کی گولی بن جاتا ہے۔

قرضہ کے نتیجہ میں ہجرت کے معاملے کو دیکھا جائے تو بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔ کیا کوئی ایسا طریقہ دریافت کیا جا سکتا ہے جس سے ان قرضوں کے مسائل پر قابو پایا جائے اور عوام کو ہجرت پر مجبور نہ ہونا پڑے؟ کیا ریاستیں کوئی بہتر ہجرت پالیسی پیش کر سکتی ہیں اور ہجرت زدہ علاقے کے لوگون کو قرضے فراہم کر کے ان کے مسائل کا مداوا کر سکتی ہیں؟

  کیا یورپی یونین لان شارکس کے مقابلے میں اتنی طاقت دکھا سکتا ہے جتنی اس نے انسانی سمگلروں کے خلاف 2012 میں دکھائی تھی؟ سمگلروں پر نقل و حرکت کےلیے خرچ کی جانے والی رقم غیر قانونی منی لینڈنگ ، گواہوں کی حفاظت اوردباو کا شکار خاندانوں کی مدد کےلیے خرچ کی جا سکتی ہے۔ ہر ملک کی حکومت کو مہاجرین کے حوالے سے ایک جامع پالیسی بنانا ہو گی۔ خاص طور پر اس پالیسی میں قرض خواہوں کی پریشانی کو مد نظر رکھنا ہو گا تا کہ ہجرت اور مہاجرین کے مسائل پر قابو پا کر دہشت گردی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *